04:43 pm
کھانے کاذائقہ طیارے میں کیوں بدل جاتاہے

کھانے کاذائقہ طیارے میں کیوں بدل جاتاہے

04:43 pm

انسان کی ذائقے کی حِس بہت سے عوامل کے سبب متاثر ہوتی ہے۔ بالخصوص ہوائی سفر کے دوران اور اکثر لوگوں کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ متعدد تحقیقی مطالعوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہوائی سفر کے دوران طیارے کی ٹھنڈی اور خشک ہوا اور ہزاروں فٹ کی بلندی پر دباؤ کی کم سطح کے نتیجے میں زبان میں ذائقے کے مسامات اسی طرح سُن ہو جاتے ہیں جس طرح نزلے میں مبتلا شخص کے ہوتے ہیں۔انگریزی اخبار Traveler کی رپورٹ کے مطابق انتہائی بلندی پر پہنچ کر ہماری میٹھے اور نمکین میں امتیاز کرنے کی صلاحیت 30 فی صد کم ہو جاتی ہے۔ نمی میں کمی کے باعث ناک خشک ہو جاتی ہے جس سے ذائقے کی حِس کمزور ہو جاتی ہے۔جرمنی کی ڈریسڈن یونیورسٹی کے زیر انتظام ہسپتال کے محقق تھامس ہومل کے مطابق جب ہم میکرونی یا رتاتوئلے (ایک فرانسیسی ڈِش) کھاتے ہیں تو ذائقہ حاصل کرنے کا 80 فی صد عمل سونگھنے کی حِس سے پورا کرتے ہیں۔اس حوالے سے دیگر عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں کیوں کہ کھانے
کو ذخیرہ کرنے اور طیارے میں پیش کرنے کے دوران طویل وقفہ ہوتا ہے ، اس دوران کئی گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ذخیرہ کرنے کا عمل پکانے والوں کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ کھانے میں مسالوں اور نمک کی مقدار کو بڑھا دیں جو صحت کے لیے مضر ہو سکتا ہے۔ تاہم"LSG Sky Chefs" کمپنی کے ایک شیف نے دوسرا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ اس نے اس مسئلے کے حل کے لیے Umami فوڈ کو پھیلانے پر زور دیا۔ اومامی فوڈ درحقیقت ایک پانچواں ذائقہ ہوتا ہے جو نمکین، میٹھا، کھٹا اور تُرش نہیں ہوتا. اومامی جاپانی زبان کا لفظ ہے جس کا ترجمہ "دھیما اور تُند کھانا" ہے۔فضائی کمپنیاں کھانے کی ترکیبوں میں تبدیلی کرنے اور اس میں ادرک، لہسن، سُرخ مرچ اور دار چینی وغیرہ کا اضافہ کر دیتی ہیں تا کہ کھانے کا ذائقہ برقرار رہ سکے۔

تازہ ترین خبریں