تازہ ترین  
منگل‬‮   13   ‬‮نومبر‬‮   2018

ماہرین نے نظام شمسی میں ایک اور سیارہ دریافت کر لیا


اسلام آباد(نیو زڈیسک)خلائی ماہرین نے نظام شمسی میں ایک چھوٹا سیارہ دردیافت کیا ہے جسے ٹی جی تھری ایٹ سیون کا نام دیا گیا ہے۔امریکا میں واقع کارنیگی انسٹی ٹیوٹ فار سائنس کے سکاٹ شیپرڈ، ناردرن ایریزونا یونیورسٹی کے شاڈ ٹروجیلو اور جامعہ ہوائی کے ڈیوڈ تھولن نے مشترکہ طور پر گوبلن کو دریافت کیا ہے۔ یہی ٹیم ایک عرصے سے سیارہ ایکس کی دریافت میں مصروف ہے۔ اس سیارے کو تکنیکی نام کے علاوہ ’دی گلوبِن‘ کا نام بھی دیا گیا ہے کیوں کہ اس سیارے کا قطر صرف 300 کلومیٹر ہے۔ بونا سیارے کی دریافت سے ایک مرتبہ پھر نظامِ شمسی میں ’سیارہ ایکس‘ کی بحث چھڑگئی ہے جس کی موجودگی کے بارے میں ماہرین کئی دہائیوں سے قیاس کرتے رہے ہیں۔ کچھ ماہرینِ فلکیات

نے پیش گوئی کی تھی کہ پلانیٹ ایکس نامی ایک سیارہ ہمارے نظامِ شمسی کے بعید ترین حصے میں موجود ہے۔زمین سے سورج کا اوسط فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے جسے ایک فلکیاتی اکائی (ایسٹرو نامیکل یونٹ) کہا جاتا ہے۔ پلوٹو کا زمین سے 39.5 ایسٹرو نامیکل یونٹ (اے یو) ہے لیکن یہ سیارہ ہم سے بہت دور ہے اور 80 اے یو پر موجود ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سورج یا اپنے اپنے ستارے کے گرد گھومنے والے سیارے بالکل گول دائرے کی بجائے انڈے کی طرح بیضوی انداز میں چکر کاٹتے ہیں۔اس طرح وہ کبھی اپنے سورج سے قریب اور کبھی دور ہوتے رہتے ہیں۔ اسی بنا پر گوبلن کا مدار بہت عجیب و غریب ہے۔ یہ گھومتے ہوئے کبھی سورج کے اتنے قریب ہوجاتا ہے کہ 65 اے یو تک پہنچ جاتا ہے لیکن جب پرے ہوتا ہے تو بہت بہت دور یعنی 2300 اے یو تک جاپہنچتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے کئی برس تک اس پر نظر رکھی ہے۔ ہماری زمین سورج کے گرد ایک سال میں چکر مکمل کرلیتی ہے لیکن گوبلن کو سورج کے گرد ایک چکر کاٹنے میں 40 ہزار سال لگتے ہیں۔ فلکیات دانوں کے مطابق گوبلن کی کمیت زمین سے دس گنا زائد ہے۔ پروفیسر شیپرڈ کے مطابق اس دریافت سے نظامِ شمسی میں ایکس سیارے کی تلاش میں مدد ملے گی۔ اس تحقیق پر تفصیلی ریسرچ پیپر لکھا گیا ہے جو بہت جلد شائع ہوجائے گا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved