تازہ ترین  
جمعرات‬‮   15   ‬‮نومبر‬‮   2018

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کا دنیا بدل دینے والا ’منصوبہ‘


بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس دنیا میں ٹوائلٹس کی کمی کو بہت بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں اور اب انہوں نے اس کا حل بھی پیش کردیا ہے۔ چین میں ٹوائلٹ ایکسپو کے دوران انہوں نے ایک نیا ٹوائلٹ سسٹم متعارف کرایا جس کے لیے پانی یا نکاسی آب کے نظام کی ضرورت نہیں ، بلکہ ایسے کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں جو کہ انسانی فضلے کو کھاد میں تبدیل کردیتے ہیں۔منگل کو بیجنگ میں ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا ‘ہم یہاں سب ایک ہی وجہ سے موجود ہیں، کیونکہ دنیا کی آدھی سے زیادہ

آبادی محفوظ نکاسی آب کی سہولت سے محروم ہے جو کہ صحت مند اور اچھی زندگی کے لیے ضروری ہے’۔ بل گیٹس کی نظر میں 2017 میں کیا اچھا رہا؟ پیر کو بل گیٹس نے ایک ویڈیو ٹوئیٹ کی جس میں انہوں نے اپنا اور اپنی فاؤنڈیشن کا دنیا بھر میں نکاسی آب کی صورتحال بہتر بنانے کے مشن کی وضاحت کی۔ محفوظ نکاسی آب کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے بل گیٹس گزشتہ روز ایکسپو کے دوران ایک جار لے کر آئے جس میں انسانی فضلہ بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا ‘آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس جار میں کیا ہے اور آپ ٹھیک سوچ رہے ہیں یہ انسانی فضلہ ہے، فضلے کی اتنی معمولی مقدار میں 200 ٹریلین روٹا وائرس، 20 ارب شیگیلا بیکٹریا اور ایک لاکھ پیراسیٹک وارم انڈے ہیں’۔ بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نکاسی آب کے ناقص نظام کے نتیجے میں ہر سال دنیا بھر میں 5 سال سے کم عمر لگ بھگ 5 لاکھ بچے ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ طبی اور دیگر اخراجات کی مد میں 223 ارب ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔ انسانی فضلے کی نکاسی نہ ہونے کے نتیجے میں ارگرد کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بل گیٹس کی سب سے بڑی خواہش بل گیٹس نے چین میں اپنے خطاب کے دوران کہا ‘انسانی فضلے کی نکاسی نہ ہو تو وہ زیرزمین پینے کے پانی کو آلودہ کردیتا ہے، ہم نے اس مقصد کے حصول سے بہت دور ہیں جو کہ دنیا نے 2015 میں طے کیا تھا کہ ہر ایک کو محفوظ ٹوائلٹ کی سہولت دستیاب ہوگی’۔ بل گیٹس کا کہنا تھا کہ اس ایکسپو کا مقصد ایسا تخلیقی نکاسی آب کے حل سامنے لانا ہے جس سے دنیا بھر کے کروڑوں افراد فائدہ اٹھاسکیں۔ ایسے متعدد ‘نئے ٹوائلٹس’کو اس وقت جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔ اپنی ویڈیو میں بل گیٹس نے بتایا کہ ایک روایتی ٹوائلٹ کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اب جن نئے ٹوائلٹس کو آزما رہے ہیں، ان کے لیے پانی کی ضرورت ہی نہیں، اور انہیں نکاسی آب کے نظام سے منسلک کرنا بھی ضروری نہیں’۔ اب اس منصوبے کے اگلے قدم کے طور پر ان کا کانسیپٹ مختلف کمپنیوں کو فراہم کیا جائے گا اور بل گیٹس کا تخمینہ ہے کہ 2030 تک ایسے ٹوائلٹس کے مارکیٹ کی مالیت 6 ارب ڈالرز سے زائد ہوگی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved