مردوں میں بریسٹ کینسر میں اضافہ کیوں
  10  اکتوبر‬‮  2017     |     سائنس/صحت

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ’بریسٹ کینسر‘ خواتین کو لاحق ہونے والا مرض ہے، تاہم حقیقت اس کے بر عکس ہے۔یہ سچ ہے کہ بریسٹ کینسر کا شکار سب سے ذیادہ خواتین ہی ہوتی ہیں، اور متعدد رپورٹس کے مطابق

دنیا کی ہر آٹھویں عورت کسی نہ کسی طرح کے بریسٹ کینسر میں مبتلا ہے۔خواتین میں بریسٹ کینسر کی عمر کی کوئی قید نہیں، اس میں 10 برس کی بچی سمیت 70 سالہ عمر رسیدہ خواتین بھی مبتلا ہوسکتی ہیں، اور مردوں میں بھی اس کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔امریکن کینسر سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 کے آخر تک 2 لاکھ 31 ہزار 840 خواتین میں بریسٹ کینسر پایا گیا، تاہم اسی دورانیے میں 2 ہزار 350 مردوں میں بھی یہ مرض پایا گیا۔رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران کم سے کم 440 مرد بریسٹ کینسر کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔یاہو نیوز نے یو ایس اے ٹوڈے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خواتین کے مقابلے مردوں میں بریسٹ کینسر کی شرح انتہائی کم ہے، لیکن یہ ماضی کے مقابلے ذیادہ ہے۔امریکی ریاست کینٹکی کے شہر لوئی ویل کے نارٹن کینسر انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر جینل سیگر کے مطابق اگرچہ خواتین کے مقابلے مرد حضرات کے بریسٹ میں ٹشوز کی مقدار کم اور چھوٹی ہوتی ہے، جس وجہ سے کینسر کی تشخیص کرنا آسان ہوتا ہے، تاہم ٹشوز کی کمی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایسے افراد کو جلد کینسر لاحق ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اندازاً ایک ہزار مردوں میں سے ایک مرد بریسٹ کینسر کا شکار ہوتا ہے، تاہم خطرناک بات یہ ہے کہ ذیادہ تر مردوں میں کینسر کی تشخیص آخری اسٹیج پر ہوتی ہے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved