بناسپتی کی پیداوار اور فروخت پر پابندی لگانے کا فیصلہ
  13  اکتوبر‬‮  2017     |     سائنس/صحت

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بناسپتی گھی کی تیاری اور فروخت پر جولائی 2020ء سے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتھارٹی نے سائنٹیفک پینل کی سفارشات اور لیبارٹری کے نتائج کے بعد اتھارٹی کی جانب سے پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی

اور پاکستان بناسپتی ایسوسی ایشن کے متعدد اجلاس ہوئے جس کے بعد بناسپتی کی فروخت پر پابندی لگانے کا فیصلہ ہوا۔ بناسپتی گھی میں موجود ٹرانس فیٹی ایسڈ، پالمیٹک ایسڈ اور نکل جن کو بناسپتی گھی کی تیاری میں کیٹالسٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو موٹاپا، ذیابیطس، ذہنی بیماریوں، دل اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔علاوہ ازیں جولائی 2020ء سے لاگو ہونے والی پابندی سے قبل بناسپتی گھی بنانے والی کمپنیوں کو ٹرانس فیٹی ایسڈ کی مقدار کو 0.5 فیصد تک "کوڈیکس الیمینٹیریس کمیشن" کے مطابق لانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں اور تین سالوں کے عرصہ میں بناسپتی گھی کی مینوفیکچرنگ اور فروخت پر پابندی اور متبادل کے طور پر کوکنگ آئل کی تیاری کو بڑھائے جانے کی سفارشات بھی جاری کی گئی ہیں۔ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے کہا ہے کہ بناسپتی گھی میں استعمال ہونے والے اجزا سرطان اور دیگر سنگین بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں جس کے لئے سائنٹیفک پینل کی جانب سے قانون بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل اور گھی کا فی کس استعمال 18 کلو گرام سالانہ ہے جبکہ یورپ میں اس کا استعمال صرف 3 کلو فی کس سالانہ ہے۔ ان حقائق کو دیکھتے ہوئے عوام کو بناسپتی گھی کے بجائے زیتون کا تیل، سویا بین تیل، سورج مکھی کا تیل اور دیگر سبزیوں کا تیل استعمال کرنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا اولین مقصد پنجاب میں عوام کو خوراک کی فراہمی یقینی بنا کر عوام کی صحت بنانا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے سخت فیصلے لینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved