نئی دہلی میں اسموگ سے شہری پریشان، اسپتال بھر گئے
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     سائنس/صحت

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارتی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں چھائے دھند اور دھوئیں کے بادلوں کی وجہ سے سانس کے مسائل کے شکار افراد کی تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور اس سے انسانی زندگی پر انتہائی مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رواں ہفتے نئی دہلی میں شدید دھوئیں اور دھند کے بعد اسپتالوں میں تنفس کے مسائل سے جڑے مریض اپنے علاج کے لیے انتظار گاہوں میں بیٹھے کھانستے نظر آ رہے

ہیں۔نئی دہلی کے سرکاری اسپتال ولبھ بھائی پٹیل انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹروں کے مطابق فضائی آلودگی کی سطح میں رواں ہفتے ڈرامائی اضافے کے بعد یہاں آنے والے مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔حکام کے مطابق موسمی حالات اور فصلوں کی کٹائی کے بعد کھیتوں میں بھوسے کو آگ لگا کر جلا دینے کے سیزن کی وجہ سے قریبی علاقوں میں نظام تنفس کی بیماریوں میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ہسپتال میں زیر علاج ایک دکان دار منوج کھاتی نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں اپنی کھانسی کو عمومی سمجھا مگر وہ رفتہ رفتہ بگڑتی گئی۔ اب ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سانس کی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔46 سالہ کھاتی نے بتایا، ’’تین دن تک میری کھانسی بالکل نہ رکی۔ مجھے لگا جیسے میں مر ہی جاؤں گا۔‘‘ نئی دہلی کی فضا کو آلودہ کرنے والے مضرصحت ذرات PM2.5 سانس کی نالی کی بندش کا سبب، امراض قلب اور پھیپھڑوں کے سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔نئی دہلی میں رواں ہفتے ان ذرات کی شرح 500 کی حد عبور کرتی رہی ہے اور رواں ہفتے ایک موقع پر تو یہ شرح 1000 سے بھی اوپر چلی گئی تھی۔ یہ بات اہم ہے کہ ان ذرات کی سطح 300 سے لے کر 500 تک ہو تو اسے ’مضر‘ سمجھا جاتا ہے، جب کہ 500سے اوپر اسے باقاعدہ طور پر ایک ’خطرہ‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق PM2.5 کی زیادہ سے زیادہ سطح 25 تک قابل برداشت ہے اور اگر کوئی بھی شخص اس سے زائد سطح میں 24 گھنٹوں سے زائد رہے، تو اس کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved