خون کے کینسر میں مبتلا 4 مریضوں کی کامیاب کیمو تھراپی
  13  فروری‬‮  2018     |     سائنس/صحت

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)فرانسیسی ماہرین نے ایسی جین تیار کر لی جسے ٹیکے یا دوا کی شکل میں دنیا بھر میں جلد فروخت کیے جانے کے امکان ہے۔ملک کے معروف ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نےاٹلی میں خون کے امراض پر منعقد بین الاقوامی

کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاج بون میرو ٹرانسپلانٹ کے مقابلے میں نہ صرف سستا ہوگا بلکہ اس کی کامیابی کا تناسب بھی زیادہ ہے اور مریض کو تکلیف بھی کم ہوگی ۔کانفرنس میں امریکہ ، برطانیہ ، کینیڈا ، فرانس ، اٹلی ، بھارت اور مصر کے 12معروف ماہرین امراض خون نے شرکت کی اور اپنے ممالک میں کی گئی تحقیق شیئر کی ۔فرانسیسی ماہرین نے اپنی تحقیق کے ضمن میں بتایا کہ انہوں نے امراض خون میں مبتلا 6 مریضوں کی جین تھراپی کی جس میں سے 4 کے مثبت نتائج آئے جبکہ 2کے خاطر خواہ نتائج نہیں آئے جسے بہت حوصلہ افزا قرار دیا گیا ۔۔ ان کا کہنا تھا کہ خون کے کینسر میں مبتلا وہ افراد جن کی عمر 25سال سے کم ہے ان کے اپنے ٹی سیل (سفید خون کے خلیوں) کو نکال کر ایک خاص دوا کے ساتھ ملایا جائے گاجس کے تحت مریض کے اپنے خلیے بہت زیادہ طاقتور ہو جائیں گے پھر ان سفید خون کے خلیوں کو دوبارہ جسم میں داخل کیا جائے گااور ان کے اپنےخلیے ہی جنیاتی طور کینسر کے ذرات وجراثیم کو ختم کر دیں گے اور مریض صحت مند ہو جائے گا۔اس طریقہ علاج سے انسان کے مدافعتی نظام کو دواؤں کے ذریعے اور دیگر طریقے اختیار کرکے طاقتور بنایا جاتا ہے جبکہ اس میں استعمال ہونے والی خاص دوا کو لیونگ ڈرگ کا نام دیا گیا ہے جو کینسر کے ذرات پر حملہ آور ہو کر انہیں ختم کرتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس دوا کے استعمال سے پہلے تک اس طرح کے 80فیصد مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے لیکن اس دوا کے ساتھ جین تھراپی سے یہ مریض زندہ رہ سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کینسر کے علاج میں یہ بہت بڑی کامیابی ہے پاکستان میں ہم 20 سال سے بون میرو ٹرانسپلانٹ کر رہے ہیں لیکن اس کامیاب علاج کے بعد امید ہے کہ پاکستان میں بھی جلد اسے متعارف کرایا جائے گا اور مریض صحت مند زندگی گزار سکیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved