مسلمان بچی کی حمایت کرناکرینہ کپورکومہنگاپڑ گیا
  16  اپریل‬‮  2018     |      شوبز

ممبئی (ویب ڈیسک)پہلے ثانیہ مرزا اور اب کرینہ کپور خان، لگتا ہے کہ ٹوئٹر پاک۔ بھارت نفرت نکالنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔حال ہی میں کرینہ کپور کی ایک تصویر سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ اٹھا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 8 سالہ بچی سے اظہار یکجہتی کیا تھا۔اس تصویر کے بعد ٹوئٹر پر کچھ افراد نے کرینہ کپور خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اداکارہ نے ایک مسلمان سے شادی کی جبکہ اپنے بیٹے کا نام بھی ایک بادشاہ تیمور کے نام پر رکھا۔ہرش وردھن نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ' کرینہ کو اس حقیقت پر شرمندہ ہونا چاہئے کہ ہندو ہونے کے باوجود انہوں نے ایک مسلم سے شادی کی، دونوں کا ایک بچہ بھی ہے جس کا نام تیمور ایک ظالم مسلم بادشاہ پر رکھا گیا۔مگر کرینہ، جو سوشل میڈیا پر موجود نہیں، کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں (بلکہ انہیں تو پروا بھی نہیں ہوگی) کیونکہ ویرے دی ویڈنگ میں ان کی ساتھی اداکارہ سوارا بھاسکر نے اس نفرت انگیز الفاظ پر منہ توڑ جواب دیا ہے۔انہوں نے کھا ' آپ کو اپنی موجودگی پر شرمندہ ہونا چاہئے،

خدا نے آپ کو دماغ دیا جس میں آپ نے نفرت بھرنے کا انتخاب کیا، اور منہ دیا جو غلاظت سے بھریا۔ آپ بھارت اور ہندوؤں کے لیے باعث شرم ہیں'۔اس سے پہلے ثانیہ مرزا نے بھی اس بچی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تو انہیں پاکستانی ہونے کا طعنہ دیا گیا۔آٹھ سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی اور قتل کا یہ واقعہ رواں برس جنوری میں پیش آیا تھا، تاہم گزشتہ روز اسی واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے حق میں ہندو سیاستدانوں کی سربراہی میں نکلنے والے مظاہروں کے بعد اس معاملے پر بھارت اور کشمیر میں ہندو اور مسلمان ظاہری طور پر تقسیم دکھائی دیے۔'ریپ' اور قتل کا نشانہ بننے والی بچی مسلمان تھی اور اس کے حق میں مسلمان مظاہرے کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جب کہ انہیں نشانہ بنانے والے ملزمان ہندو تھے، جن کے حق میں ہندو مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

شوبز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved