تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

کروڑوں دلوں کی دھڑکن پاکستان کے پہلے مرد میزبان طارق عزیزنے وطن سے محبت کی نئی تاریخ رقم کر دی ۔۔ پاکستان کیلئے ایسا اعلان کر دیا کہ جان کر آپ بھی آبدیدہ ہو جائیں گے


سلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کروڑوں دلوں کی دھڑکن پاکستان کے پہلے مرد میزبان طارق عزیزنے وطن سے محبت کی نئی تاریخ رقم کر دی ۔۔ پاکستان کیلئے ایسا اعلان کر دیا کہ جان کر آپ بھی آبدیدہ ہو جائیں گے ۔۔ معروف میزبان طارق عزیزنے اپنے اثاثے پاکستان کے نام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں مرنے کے بعد اپنی ساری جائیداد دولت پاکستان کے نام کرتا ہوں۔تفصیلات

کے مطابق طارق عزیز کو پاکستان ٹیلی ویژن انڈسٹری کا بڑا ستارہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ریڈیو پاکستان سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے طارق عزیز کو پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے مرد اناونسر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔26 نومبر 1964 میں پاکستان ٹیلی ویژن سکرین پر نظر آنے والا سب سے پہلا چہرہ انہی کا تھا۔1975 میں شروع کیے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شوکا نام دے دیا گیا۔ یہ پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کا پہلا نیلام گھر تھا جس نے پاکستانی عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ دیکھتی آنکھوں ، سنتے کانوں سے پروگرام کا آغاز کرنے والے طارق عزیز اس پروگرام کی ہیں۔ طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967 ) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔طارق عزیز اس وقت اپنی زندگی کی 82 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے اپنے سارے اثاثے پاکستان کے نام کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس بات کا اعلان انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر کیا۔ اللہ پاک نے مجھے اولاد نہیں دی یہ خدا کی قدرت ہے جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے اور جسے چاہے دے کہ واپس لے لے۔۔۔۔۔۔ میں مرنے کے بعد اپنی ساری جائیداد دولت پاکستان کے نام کرتا ہوں ..انکا کہنا تھا کہ وہ بے اولاد ہونے کے باعث اپنے تمام تر سرمایے اور املاک کو پاکستان کے نام کرتے ہیں اور یہ املاک ان کی وفات کے بعد پاکستان کے نا م ہو جائیں گی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved