01:46 pm
آپ فلموں میں فحاشی کیوں دکھاتی ہیں  فلم پروڈیوسرایکتاکپورنےشرمناک جواب دیدیا

آپ فلموں میں فحاشی کیوں دکھاتی ہیں فلم پروڈیوسرایکتاکپورنےشرمناک جواب دیدیا

01:46 pm

ممبئی (ویب ڈیسک )ایکتا کپور کے نام سے شاید ہی کوئی پاکستانی ڈرامہ و فلم ناظر ہو جو ناواقف ہو۔ ایکتا کپور ماضی کے معروف فلم اسٹار جیتندر کی بیٹی اور ماضی قریب کے فلاپ اداکار تشار کپور کی بہن ہیں۔ ایکتا کپور کا ادارہ ’بالاجی ٹیلی فلمز لمیٹڈ‘ بھارت کا سب سے نفع بخش ادارہ ہے جو سوپ، ڈرامہ سیریز اور فلمیں بناتا ہے۔ہندی ڈرامہ میں ساس بہو کی تکرار سے کروڑوں روپے کمانے والی ایکتا کپور نے دوسروں کی دیکھا دیکھی نیٹ فلیکس اور امیزون پرائم ویڈیو کی طرز پر 2015ء میں ALTBalaji کے نام سے آن لائن آن ڈیمانڈ ویڈیوز دکھانے والا ادارہ بنایا اور اس کے بینر تلے ویب سیریز اور مختصر فلمیں بنانا شروع کردیں۔ یہ ادارہ اب کم بجٹ کی فلمیں بھی بنارہا ہے۔ آپ اس پلیٹ فارم پر جائیں یا یوٹیوب پر اس کا چینل سبسکرائب کریں تو آپ دیکھیں گے
کہ 90 فیصد سے زیادہ مواد جو ALTBalaji بنارہا، وہ عریاں مناظر اور فحش مکالموں سے بھرپور ہے۔ایک پریس بریفنگ میں ان سے صحافی نے سوال کیا کہ وہ فحاشی سے بھرپور ویب سیریز کیوں بنارہی ہیں تو انہوں نے بنا شرمندہ ہوئے بھرپور اعتماد سے جواب دیا کہ انہیں سیکس دیکھنے میں خوشی ملتی ہے، کسی کو فحش مناظر دیکھنے سے اس لیے مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کے خیال میں سیکس از گریٹ۔ ایکتا کپور کا کہنا تھا کہ بنا مرضی کے سیکس کرنا یا دکھانا غلط ہے۔ باہمی رضامندی سے اگر بوس و کنار یا جسمانی اختلاط ہورہا ہے تو اس کی تمثیل ٹی وی پر دکھانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں منافقت نہیں کرنی چاہیے۔ ناظرین اگر فحش مناظر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے مناظر کو فلمانے سے نہیں گھبرانا چاہیے۔ایکتا کپور کی فحش مناظر اور گالیوں سے بھرپور سیریز XXX Uncensored ریلیز ہوئی تو اس نے چھپڑ پھاڑ نفع کما کر دیا۔ اس کے بعد اغوا برائے تاوان کے موضوع پر بنائے جانے والی سیریز ’اپہارن‘ میں بھی ایکتا کپور نے وہی فارمولہ دہرایا اور ماہی گل اور دیگر معاون اداکاراؤں کو بطور سیکس آبجیکٹ پیش کرکے ناظرین کو راغب کیا۔ایکتا کپور کی اسٹریٹجی، بھارت کے ہر ویب سیریز میکر کی اسٹریٹجی بن چکی ہے۔ نیٹ فلیکس، زی سیریز اور امیزون پرائم وغیرہ جیسے ادارے جنہیں مستند پروڈکشن ہاؤسز سے روزانہ نت نئے آئیڈیاز اور اسکرپٹ پیش کیے جاتے ہیں، ان کی ترجیح بھی فحش کلمات اور برہنہ مناظر سے لبریز کہانیوں کو عکس بند کرنا ہے کہ سب کی دوڑ زیادہ سے زیادہ ناظرین کو اپنی جانب مبذول کرنے کی ہے۔پرانا بھارتی ڈرامہ جس میں اداکاروں کے الٹے سیدھے لرزتے کلوز اپس لے کر پس پردہ عجیب سی آوازیں بجائی جاتی تھیں، ان ڈرامہ سیریز کے کردار کئی بار مرتے اور پھر زندہ ہوجاتے، 20، 20 اقساط پر محیط شادی کی تقریبات، ساس بہو کے جھگڑوں پر 200، 200 اقساط کے سوپ بنائے جاتے تھے، اب تیزی سے عنقا ہوتا جارہا ہے۔ اب تشدد، گالم گلوچ اور فحش مناظر ان کی جگہ لے رہے ہیں۔بھارت کا سنجیدہ نقاد اور ناظر بھی اب یہ کہتا ہے کہ ’پاکستانی ڈرامہ‘ اسکرپٹ اور اداکاری میں بھارتی ڈرامے سے کہیں بہتر ہے۔ بھارتی چینلز زندگی اور کلر وغیرہ پر پاکستانی ڈرامے شوق سے دیکھے جارہے ہیں۔ بھارتی ڈرامہ کتنی اقساط کے بعد ختم ہوگا، اس کے بارے میں خود ڈرامہ بنانے والے بھی نہیں جان رہے ہوتے کہ سب کچھ ٹی آر پیز اور بزنس سے مشروط ہے جبکہ پاکستانی ڈرامہ سیریل 26 اقساط سے آگے نہیں جاتا اسی لیے بھارتی ناظر اسے ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ڈرامہ سیریل کی اقساط طے ہیں اور ڈرامہ کا معیار طوالت کی وجہ سے خراب نہیں ہوپائے گا۔پاکستانی ڈراموں میں فحش کلمات اور مناظر ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتے کہ پیمرا نام کا لولا لنگڑا ادارہ تو ڈراموں کے متن اور عکس بندی پر نظر رکھنے سے قاصر ہے مگر پاکستانی ناظر کا بھرپور چیک اینڈ بیلنس ہمارے ڈراموں پر ہوتا ہے۔ کسی قسم کے مخرب الاخلاق مواد کے نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس کا شدید ردِعمل آتا ہے اور پیمرا پر وہ رپورٹ بھی ہوتا ہے۔بھارتی ڈرامہ یکسانیت کا شکار پہلے بھی تھا جب ہر کہانی چند اقساط کے بعد ساس بہو روزمرہ چپقلش کا روپ دھار لیتی تھی اور اب بھی ہے جب تنگ لباس، چست فحش فقروں اور برہنگی سے ہر کہانی کو چسکے دار رخ دیا جارہا ہے۔ پاکستانی ڈرامہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ یہاں ’اڈاری‘، ’آنگن‘، ’پیارے افضل‘، ’ہم سفر‘، ’زندگی گلزار ہے‘، ’خان‘، ’سنگِ مرمر‘، ’رنگریزہ‘ جیسا اسکرپٹ لکھا اور عکس بند کیا گیا اور اسے ناظرین نے خوب سے سراہا بھی۔

تازہ ترین خبریں