06:38 am
برصغیر میں منڈوا سے ڈیجیٹل سینما تک کا سفر

برصغیر میں منڈوا سے ڈیجیٹل سینما تک کا سفر

06:38 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) پاکستان میں جدید تقاضوں کے مطابق سینما کی بحالی کا عمل جاری ہے، تاہم ترقی کا یہ سفر فی الحال چند بڑے شہروں سے آگے نہیں جا سکا ہے۔برصغیر پاک وہند میں فلمی تاریخ میں جھانک کر دیکھا جائے تو سینما کو ابتدا میں منڈوا کے نام سے پکارا گیا۔ منڈوا کا نام تقسیم کے بعد تقریباً 70 کی دہائی تک زندہ رہا۔برصغیر میں جب تھیٹر معرض وجود میں آیا تو اسے نوٹنکی کا نام دیا گیا۔ نوٹنکی دو طبقوں میں تقسیم تھا۔ ایک اشرافیہ، نوابین اور مہاراجوں کے لئے جس کے علیحدہ مقامات مخصوص تھے اور دوسرا نوٹنکی بائیں بازوں کے لوگوں کے لئے مختص تھا جو عام مقامات پر کھیلا جاتا تھا۔اشرافیہ کے لئے نوٹنکی سنسکرت اور عام لوگوں کے لئے پالی یا پراکت زبان میں کھیلا جاتا تھا۔ ”منڈوا“ راجستھان کے ضلع جھنجنوں میں واقعہ ایک قصبہ ہے جو قلعہ کی وجہ سے بھی اپنی ایک خاص پہچان رکھتاہے۔منڈوا میں نوٹنکی تسلسل کے ساتھ پیش کیا جاتا جس کی بنا پر نوٹنکی کو منڈوا کہا جانے لگا۔ جب نوٹنکی کو سلو لائیڈ پر منتقل کیا گیا تو
اسی مناسبت سے فلم کو بھی منڈوا کہا جانے لگا۔پاکستان میں اسے بائی سکوپ بھی کہا جاتا تھا۔ برصغیر میں فلم کا وجود 1912ء میں رونما ہوا جس کے خالق دھن دھیراج گونید پھالکے (دادا صاحب پھالکے) ہیں۔انہوں نے پہلی خاموش فلم ”راجا ہریش چندر“ بنا کر فنون لطیفہ میں تغیر پیدا کیا۔ انہیں ” فادر آف انڈین سینما بھی“ کہا جاتا ہے۔ یہ فلم 3 مئی 1913ء کو ممبئی کے کورنیشن تھیٹر میں نمائش کے لئے پیش کی گئی۔اس زمانے میں دادا صاحب پھالکے کو فلم کی تکمیل کے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑا۔ یہاں تک کہ نوٹنکی میں کام کرنے والی کوئی بھی اداکارہ سلور سکرین کی زینت بننے پرآمادہ نہ ہوئی اور انہیں لڑکے سے ہیروئن کا کردار کروانا پڑا۔برصغیر میں سینما کے موجد معروف تقسیم کار، فلمساز اور ہدایتکار ارد شیر ایرانی ہیں جنہوں نے 1914ء میں سینما کی بنیاد رکھی۔ ارد شیر ایرانی نے عبدالعلی کی شراکت سے میجسٹک سینما ممبئی میں قائم کیا۔اس سے قبل فلموں کی نمائش تھیٹروں، کلبوں اور خیموں میں کی جاتی تھی۔ ارد شیر ایرنی کا ایک اور بڑا کارنامہ متکلم فلم کی تخلیق ہے۔ پہلی بار جب متکلم فلم نمائش پذیر ہوئی تو جدید سینما نے جنم لیا۔سکرین پر بولتے فنکاروں کو دیکھ کر فلم بینوں کو خوشگوار حیرت ہوئی اور فلم بینی کے کلچرکو فروغ ملا۔ ارد شیر ایرانی نے پہلی گویا فلم ”عالم آراء“ 14 مارچ 1931ء کو میجسٹک سینما ممبئی میں ریلیزکی۔فلم میں زبیدہ، پرتھوی راجکپور اور ماسٹر ویتھال سمیت مختلف فنکاروں نے کردار نگاری کی۔ بولتی فلموں میں تسلسل آنے کے بعد برصغیر پاک وہند میں نئے سینما گھروں کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے میں کل 18 سینما گھر آئے۔ ان میں 12 سینما لاہور میں موجود تھے۔ پہلی پاکستانی فلم ”تیری یاد “ 7 اگست 1948ء کو صنوبر سینما میں نمائش کےلئے پیش کی جس کا نام بعد ازاں ایمپائر سینما رکھا گیا۔پاکستان میں سینما کی ترویج کے لیے شدید محنت کی گئی۔ لاہور کا سب سے قدیم سینما پاکستان ٹاکیز آج بھی استادہ کھڑا ہے تاہم گزشتہ ڈیڑھ برس سے وہاں کسی بھی فلم کی نمائش نہیں ہوئی۔پاکستان ٹاکیز کا قیام 1908ء میں عزیز تھیٹر کے نام سے عمل میں آیا اور ابتدا میں وہاں دیگر ڈراموں کے علاوہ مشہور پارسی تھیٹر کی پرفارمنسز بھی پیش گئیں۔پھر خاموش فلموں کا زمانہ آیا تو اسے سینما کا درجہ دے دیا گیا۔ بولتی فلموں کے آغاز پر عزیز تھیٹر کا نام تبدیل کر کے رائل تھیٹر رکھ دیا گیا اور پہلی گویا فلم ”عالم آراء“ کی نمائش وہاں بھی ہوئی۔تقسیم کے بعد اسے پاکستان ٹاکیز کے نام سے پکارا جانے لگا۔ پاکستانی فلمی صنعت نے 1950ء کی دہائی میں ارتقاء کی سیڑھی پر قدم رکھا اور ملک بھر میں نئے سینما گھروں کی تعمیر شروع ہو گئی۔ 1960ء کی دہائی میں فلمی گلشن میں بہار آ گئی اور سینما گھروں کی تعمیر وترقی کا عمل تیز ہو گیا۔سینماؤں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کا معیار بھی بہتر ہونے لگا اور لاہور میں پہلا ائیرکنڈیشنڈ ہال ناز سینما کے نام سے قائم ہوا جس کا افتتاح 5 جنوری 1962ء کو فلم ”شہید “ کی نمائش سے ہوا۔اس کے بعد دھیرے دھیرے پاکستان کے تمام شہروں میں سینما ہالز ائیرکنڈیشنڈ ہو گئے۔ پاکستان کا سب سے خوبصورت سینما تفریح محل 1976ء میں بہاولنگر میں قائم ہوا۔ جسے فلم ”زیلدار“ کے پرڈیوسر چودھری محمد اکرم نے تعمیر کیا تھا۔ 1970ء کی دہائی میں ملک بھر میں سینما گھروں کی تعداد 650 تک پہنچ گئی تھی۔ان میں 68 سینما ہال لاہور میں قائم کیے گئے تھے۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی سینما انڈسٹری کا سنہری دور تھا۔ 1980ء کی نصف دہائی گزرنے کے بعد فلمی صنعت تنزلی کا شکار ہوئی اور 1990ء کی دہائی میں سینما گھر مسمار ہونا شروع ہو گئے۔سینما گھروں کی جگہ پٹرول پمپ اور پلازے تعمیر ہوئے اور نوبت یہاں تک آ گئی کہ لاہور میں 68 میں سے صرف سات سینما ایسے بچے جن میں فلموں کی نمائش ہوتی تھی۔ان میں پرنس، شبستان، میٹروپول، گلستان، کیپیٹل، اوڈین اور پلازہ سینما شامل ہیں۔ دس برس قبل سینما انڈسٹری کی بحالی کا نیا سفر شروع ہوا اور لاہور میں پاکستان کا سب سے پہلا ڈیجیٹل سینما سنے سٹار وجود میں آیا۔سنے سٹار کا آغاز 26 جون 2009ء کو بالی وڈ فلم ”نیویارک “ کی نمائش سے ہوا۔ اس سے قبل وہاں انمول سینما اپنا وجود رکھتا تھا۔ اس کی تزئین آرائش کی گئی اور اس کے رقبے کو وسعت دے کر اسے ڈیجیٹل سینما میں تبدیل کیا گیا۔پاکستان کا پہلا اور واحد آئی مکس سینما بھی سنے سٹار ہے جس کا آغاز 27 جون 2014ء کو ہوا۔ مذکورہ سینما کے کامیاب تجربے کو دیکھ کر سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مزید ڈیجیٹل سینما تعمیر ہونا شروع ہو گئے۔ بالی وڈ فلموں کو اجازت ملنے کی بدولت ان میں اضافہ ہوا۔201ء کے آغاز میں ہالی وڈ کی طرف سے پاکستانی سینما انڈسٹری کو تحریر طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا کہ 30 جون 2014ء کے بعد کسی بھی انگریزی فلم کا پرنٹ نہیں بھجوایا جائے گا بلکہ آئندہ تمام فلموں کے ڈیجیٹل سینما پرنٹ (ڈی سی پی) پاکستان آئیں گے جس کے بعد پاکستان کے چند اور بڑے شہروں میں پرانے سینما گھروں کو اپ گریڈ کیا گیا۔ابتدا میں لاہور اور کراچی میں نئے ڈیجیٹل سینما وجود میں آئے تاہم بعد ازاں دوسرے بڑے شہروں میں سینما کے رنگ بکھرنے لگے۔ لاہور اور کراچی کے شاپنگ مالز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں بھی جدید سینما گھر قائم ہو رہے ہیں۔جدید سینما گھروں میں ایک سے لیکر 9 تک سکرینیں بنائی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ سکرینیں امپوریم مال سینما میں ہیں۔ وہاں 9 سکرینیں لگائی گئی ہیں۔ڈیجیٹل سینما کی سکرینیں کم سے کم 75 اور زیادہ سے زیادہ چھ سو سیٹوں پر مشتمل ہیں۔ جدید سینما میں ایک نئی روایت نے بھی جنم لیا ہے۔ وہاں ایک سینما میں مختلف فلموں کے شوز دکھائے جاتے ہیں جبکہ ماضی میں ایک سینما میں صرف ایک ہی فلم کی نمائش کی جاتی تھی جو سلور جوبلی، گولڈن جوبلی اور پلاٹینم جوبلی مناتی تھیں۔اس وقت ملک بھر میں ڈیجیٹل اور نان ڈیجیٹل 68سینما گھروں کی 153 سکرینیں فلمی شائقین کو تفریح مہیا کر رہی ہیں۔ ان میں 39 سینما اور 94 سکرینیں لاہور جبکہ 20 سینما اور 39 سکرینیں کراچی میں ہیں۔یہاں صرف چار سینما میٹروپول، کیپیٹل، اوڈین اور ملک تھیٹر نان ڈیجیٹل ہیں اور پرنس سینما ای پرنٹ ہے۔ اس سے قبل اوڈین سینما کو بھی ای پرنٹ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا تھا تاہم کامیابی نہ ہو سکی۔ای پرنٹ سسٹم دراصل نیم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے جس میں ڈی سی پی فلموں کی نمائش کی جاتی ہے تاہم اس کی کو الٹی کا معیار بہتر نہیں ہوتا۔ کراچی میں بمبینو، کیپری اور زینت سینما نان ڈیجیٹل ہیں۔سینما کی بحالی کا عمل گزشتہ 10 برس سے جاری ہے تاہم فلموں کی نمائش کا سلسلہ ابھی لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور منڈی بہاء الدین تک محددو ہے۔

تازہ ترین خبریں