07:53 am
سندھ ہائیکورٹ کا فلم ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ کو بدنام کرنے سے روکنے کا حکم جاری

سندھ ہائیکورٹ کا فلم ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ کو بدنام کرنے سے روکنے کا حکم جاری

07:53 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) عدالت نے فلم ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ اور اس کے پروڈیوسرز کو بدنام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔پاکستانی سپراسٹار فواد خان اورماہرہ خان کی فلم ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ اپنے اعلان کے بعد سے ہی مسلسل تنازعات کا شکار ہے۔ فلم کے پروڈیوسرز بلال لاشاری اور عمارہ حکمت فلم کے آغاز سے ہی 1979 میں ریلیز ہوئی ’مولاجٹ‘ کے پروڈیوسرز کی جانب سے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے الزامات کا شکارہیں۔فلم ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ رواں سال عید الفطر کے موقع پر ریلیز کی جانی تھی لیکن مختلف تنازعات کے باعث فلم کے پروڈیوسرز نے ریلیز کی تاریخ آگے بڑھادی ہے۔
اوریجنل فلم ’مولاجٹ‘ کے پروڈیوسرز سرور بھٹی اور ’دی لیجنڈآف مولاجٹ‘ کے پروڈیوسرز بلال لاشاری اور عمارہ حکمت کے درمیان جنگ عدالت تک پہنچ چکی ہے۔ کچھ عرصہ قبل لاہور ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم کے خلاف کوئی حکم امتناہی جاری نہیں ہوا ہے۔دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘کی پروڈیوسرعمارہ حکمت کے ٹوئٹ کے مطابق اب سندھ ہائی کورٹ نے اوریجنل ’مولاجٹ‘ کے پروڈیوسرز یعنی مسٹر بھٹی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ اور اس کے فلم سازوں کو بدنام کرنے سے باز رہیں۔واضح رہے کہ 1979 میں فلم ’مولا جٹ‘ ریلیز ہوئی تھی جس نے نہ صرف کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے بلکہ فلم کو آج تک پاکستان فلم انڈسٹری کی کامیاب ترین فلم قرار دیا جاتا ہے، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے نامور ہدایت کار بلال لاشاری نے فلم کا سیکوئل ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ بنانے کا فیصلہ کیا جس میں اداکارہ ماہرہ خان، فواد خان اور حمزہ علی عباسی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، تاہم کاپی رائٹ قانون کی خلاف ورزی پر فلم کی نمائش کو چیلنج کیا گیا ہے

تازہ ترین خبریں