01:24 pm
میشاشفیع جب سٹوڈیوپہنچی توانہوں نے علی ظفرکوگلے سے لگایااوراسی  دوران ویڈیوبھی بنتی رہی

میشاشفیع جب سٹوڈیوپہنچی توانہوں نے علی ظفرکوگلے سے لگایااوراسی دوران ویڈیوبھی بنتی رہی

01:24 pm

لاہور(ویب ڈیسک )لاہور کی سیشن عدالت میں جج کی تبدیلی کے بعد گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر ہونے والی پہلی سماعت کے دوران گواہ کنزہ منیر نے بیان قلمبند کروادیا۔اس سے قبل سیشن کورٹ کے ایڈیشنل جج شکیل احمد گزشتہ 6 ماہ سے علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع خلاف دائر کردہ 100 کروڑ ہرجانے کے دعوے کے کیس کی سماعت کر رہے تھے۔تاہم میشا شفیع کی جانب سے ہتک عزت کی درخواست پر سماعت کرنے والے جج پر جانبداری کا الزام لگایا گیا تھا جس کے بعد ان کی درخواست پر جج کو تبدیل کردیا گیا تھا
۔سماعت میں جب جج نے گواہان کی موجودگی کے بارے میں پوچھا تو میشا شفیع کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گواہان کے بیانات قلمبند کروانے کے حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے سپریم کورٹ کے حکم کا انتظار کیا جائے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں سپریم کورٹ کے حکم تک مہلت فراہم کی جائے۔دوسری جانب علی ظفر کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہم دو گواہان عدالت میں لیکر آئے ہیں، عدالت ان کی شہادت قلمبند کرے۔علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ سیشن جج لاہور نے بھی آج گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کا حکم دیا تھا جس پر عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی استدعا کو مسترد کردیا۔علی ظفر کی جانب سے پیش ہونے والی گواہ ماڈل کنزہ منیر نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ اسی نجی اسٹوڈیو میں موجود تھی جہاں علی ظفر پر میشا شفیع نے ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی اورا س وقت 10 سے 11 لوگ ریہرسل میں موجود تھے جو تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔کنزہ منیر کا کہنا تھا کہ میشا شفیع جب اسٹوڈیو پہنچی تو انہوں نے علی ظفر کو گلے سے لگا کر سلام کیا تھا اور ریہرسل کا عمل مکمل ہونے کے بعد میشا شفیع نے علی ظفر کو بائے بائے بھی اس طرح کہا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریہرسل کے درمیان ویڈیو بھی بن رہی تھی اور دونوں گلوکار گانے کے دوران 4 سے 5 فٹ دور کھڑے تھے۔کنزہ منیر کا اپنے بیان میں یہ بھی کہنا تھا کہ میشا شفیع کے الزامات کا اچھی طرح علم ہے وہ جھوٹ ہیں۔بعد ازاں عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کی درخواست پر سماعت 18 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مزید گواہان کو شہادت کے لیے طلب کرلیا۔دونوں کے درمیان تنازع اپریل 2018 میں اس وقت سامنے آیا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ایک ٹوئٹ میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں ایسے وقت میں جنسی طور پر ہراساں کیا جب وہ 2 بچوں کی ماں اور معروف گلوکار بھی بن چکی تھیں۔تاہم علی ظفر نے ان کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف سازش قرار دیا تھا۔بعد ازاں میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف جنسی ہراساں کرنے کی محتسب اعلیٰ میں درخواست بھی دائر کی تھی اور اس کے جواب میں علی ظفر نے بھی گلوکارہ کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔اور دونوں کا یہی کیس لاہور کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کو تین ماہ کے اندر گواہوں پر جرح کے بعد فیصلہ سنانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔چند دن قبل سماعت میں پیش ہونے کے بعد علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ میشا شفیع نے انہیں منظم منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ کیا۔علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر منظم منصوبہ بندی کے الزامات لگائے جانے کے بعد گلوکارہ نے علی ظفر کو 200 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تھا اور ان سے 15 دن کے اندر معافی مانگنےکا مطالبہ کیا تھا۔علاوہ ازیں میشا شفیع نے گواہوں سے جرح کے معاملے پر سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت عظمیٰ نے 9 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کے بیان ریکارڈ اور جرح ایک ساتھ کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی ۔

تازہ ترین خبریں