تازہ ترین  
بدھ‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2018

شین وارن کینگروزکی تربیت کرنے کو بےتاب


اسلام آباد(نیو زڈیسک)سابق آسٹریلوی لیگ اسپنر شین وارن نے کہا ہے کہ وہ آسٹریلوی ٹیم کے کھلاڑیوں کی مدد کرنے کو با لکلتیار ہیں۔آسٹریلوی اخبار میں کالم لکھتے ہوئے کینگروز کی کارکردگی سے مایوس شین وارن نے سوال کیا کہ آسٹریلیا کے سابق کھلاڑیوں کو آخر موجودہ کھلاڑیوں کی تربیت کرنے کے لئے کیوں مقرر نہیں کیا جاتا؟کرکٹ آسڑیلیا کے ہائی پرفارمنس منیجر پیٹ ہوورڈ کے عہدے سے استعفیٰ کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ ٹیم سے ریٹائرمنٹ لینے والے تجربہ کار کھلاڑیوں کو ٹیم کی نئی کھیپ کی تربیت کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کئی بار پیٹ ہوورڈ کے سامنے خود کو کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے پیش کیا اور کہا کہ انہیں جب بھی میری ضرورت ہو گی مین حاضر ہوں گا۔مجھے خوشی ہوگی کہ میں ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکوں۔ امید ہے کہ تمام سینئر اور سابق کھلاڑی بھی ایسا ہیانہوں نے مزید کہا کہ میں نے کئی اسپنرز کی اپنے طور پر تربیت کی ہےتاہم اگر باقاعدہطور پر مجھے اس کے لئے مامورکیا جائے تو مجھے خوشی ہو گی۔ میک گرا سے کیوں نہین پوچھا جاتا ، فاسٹ باؤلرز کی مددکے لئے ان سے کیوں نہ معاہدہ سائن کر والیا جائے۔شین وارن نے لکھا کہ ٹیم کے لئے ہمیں اچھے کھلاڑی پیدا کرنے ہیں مگر یہ جب ہی ممکن ہے کہ جب اچھے لوگ صحیح جگہ پر مقرر کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مایوس کن کارکردگی پر ہر کوئی کھلاڑیوں پر تنقید کر رہا ہے مگر ہمیں کوئی مثبت قدم اٹھانا ہو گا، کھلاڑی برے نہیں ، ان کی تربیت اگر درست طریقے سے کی جائے گی تو یہی کھلاڑی بہترین کھیل کر دکھائیں گے۔یہ پہلی بار نہیں کہ شین وارن کینگروز کی پرفارمنس پر اتنے پریشان ہوں اس سے قبل بھی وہ کئی بار ٹیم کی پرفارمنس پر اظہار خیال کر چکے ہیں۔واضح رہے شین وارن کینگروز کی بیٹنگ کو بدترین قرار دے چکے ہیں، اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کی اتنی کمزور بیٹنگ لائن اپ کبھی نہیں دیکھی اور میرے خیال میں پاکستان کے خلاف دبئی ٹیسٹ میں یہ آسٹریلیا کی بدترین بیٹنگ ہے۔انہوں نے کہاتھا کہ اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور بین کرافٹ کی ٹیم کو ضرورت ہے، امید ہے کہ معطلی ختم ہوتے ہی تینوں کرکٹرز ٹیم کا حصہ ہوں گے




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved