جسے پی کر انسان ہمیشہ زندہ رہے وہ آب حیات اصل میں کہاں ہے؟ اسے پینے والے حضرت خضرؑ اب کہاں ہیں؟ایمان افروز تحریر
  7  دسمبر‬‮  2017     |     اوصاف سپیشل

جسے پی کر انسان ہمیشہ زندہ رہے وہ آب حیات اصل میں کہاں ہے؟ اسے پینے والے حضرت خضرؑ اب کہاں ہیں؟ایمان افروز تحریر (ویب ڈیسک )حضرت خضرؑ کی کنیت ابو العباس اور نام ’’بلیا‘‘ اور ان کے والد کا نام ’’ملکان‘‘ ہے. ’’بلیا‘‘ سریانی زبان کا لفظ ہے عربی زبان میں اس کا ترجمہ ’’احمد‘‘ ہے۔ خضران کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔ خَضِر، خَضْر، خِضْر۔ ’’خضر‘‘ کے معنی سبز چیز کے ہیں، یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو ’’خضر‘‘ کہنے لگے۔ ابوالعباس بلیا بن ملکان یہ حضرت خضرؑ حضرت ذوالقرنین کے خالہ زاد بھائی بھی تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے( خبر جا ری ہے) میں علمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت ذوالقرنین حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کرکے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ (صاوی،ج۴،ص۴۱۲۱،پ۶۱، الکہف:۳۸) تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضرؑ کا دور حضرت ابراہیمؑ کے دور کے فوری بعد کا ہی ہے۔ کیا حضرت خضرؑ زندہ ہیں؟ اس میں کچھ علماء نے اختلاف کیا ہے لیکن علماء کی کثیر تعداد کی یہ ہی رائے ہے کہ وہ زندہ ہیں بلکہ ان کی ملاقات حضرت موسیؑ سے بھی ثابت ہے حالانکہ آپ کا دور حضرت موسیؑ سے کئی سو برس پہلے حضرت ابراہیمؑ کے دور کے فوری بعد کا ہے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضرت یوسفؑ جو کہ حضرت ابراہیمؑ کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور حضر ت موسیؑ کے درمیان 400 سال کا فرق ہے تو اس لحاظ سے حضرت موسیؑ حضرت خضرؑ سے تقریبا 600 سال بعد پیدا ہوئے ہیں۔ امام بدر الدین عینی صاحب شرح بخاری نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ جمہور کا مذ ہب یہ ہے اور صحیح بھی یہ ہے کہ وہ نبی تھے اور زندہ ہیں۔(عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری مصنف بدرالدین العینی،کتاب العلم، باب ما ذکرفی ذہاب موسی، ج۲،ص۴۸،۵۸) خدمت بحر (یعنی سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرنا) اِنہیں سے متعلق (یعنی انہیں کے سپرد) ہے اور اِلیاسؑ ’’بَرّ ‘‘خشکی میں ہیں۔ (الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ، حرف الخائالمعجمۃ، باب ماوردفی تعمیرہ، ج۲، ص۲۵۲) اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضرؑ زندہ ہیں۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانہ حج میں ملتے ہیں۔ یہ بھی اسی میں منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمہ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔ اسی طرح تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت خضرؑ حضور خاتم النبیینؐ کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں، (صاوی، ج۴،ص۸۰۲۱،پ ۵۱، الکہف:۵۶) اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ سے بھی ان کی ملاقات ثابت ہے اورحضرت خضرؑ نے ان کو نصیحت بھی فرمائی تھی کہ اے عمرؓ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اور باطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتا ہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے۔ یہ سن کر عمر بن عبدالعزیزؓ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص39) اور بھی بزرگان دین نے ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔آب حیات کے متعلق بہت اختلاف ہے، بعض لوگ اس کو ایک افسانے کے علاوہ کچھ نہیں کہتے کیونکہ آب حیات کا تذکرہ نہ قرآن میں ہے نہ ہی کسی صیحح حدیث میں۔ہاں کچھ علماء کرام نے اس کا تذکرہ اپنی تفسیر میں حضرت ذوالقرنین کے پہلے سفر کے زمرے میں کیا ہے، جیسے کہ تفسیر خزائن العرفان پ۶۱، الکہف: ۶۸تا ۸۹ میں نقل ہے۔ حضرت ذوالقرنین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے ایک شخص چشمہ حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہیں آئے گی۔ اس لیے حضرت ذوالقرنین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضرؑ بھی تھے وہ تو آبِ حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا مگر حضرت ذوالقرنین کے مقدر میں نہیں تھا، وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہےوہ سب منزلیں طے کرکے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ انہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے، وہاں ان کو ایک ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھی، اس کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا، یہ قوم ’’ناسک‘‘ کہلاتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے دیکھا کہ ان کے لشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقت ور اورجنگجو ہیں تو حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کر دیا چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہو گئے کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے، اسی طرح تفسیر خازن اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیاس جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں اور ہر سال زمانہ حج میں ملتے ہیں اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمہ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا۔حضرت خضرؑ کی کنیت ابو العباس اور نام ’’بلیا‘‘ اور ان کے والد کا نام ’’ملکان‘‘ ہے. ’’بلیا‘‘ سریانی زبان کا لفظ ہے عربی زبان میں اس کا ترجمہ ’’احمد‘‘ ہے۔ خضران کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔ خَضِر، خَضْر، خِضْر۔ ’’خضر‘‘ کے معنی سبز چیز کے ہیں، یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو ’’خضر‘‘ کہنے لگے۔ ابوالعباس بلیا بن ملکان یہ حضرت خضرؑ حضرت ذوالقرنین کے خالہ زاد بھائی بھی تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے وزیراور جنگلوں میں علمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت ذوالقرنین حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کرکے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ (صاوی،ج۴،ص۴۱۲۱،پ۶۱، الکہف:۳۸) تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضرؑ کا دور حضرت ابراہیمؑ کے دور کے فوری بعد کا ہی ہے۔ کیا حضرت خضرؑ زندہ ہیں؟ اس میں کچھ علماء نے اختلاف کیا ہے لیکن علماء کی کثیر تعداد کی یہ ہی رائے ہے کہ وہ زندہ ہیں بلکہ ان کی ملاقات حضرت موسیؑ سے بھی ثابت ہے حالانکہ آپ کا دور حضرت موسیؑ سے کئی سو برس پہلے حضرت ابراہیمؑ کے دور کے فوری بعد کا ہے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضرت یوسفؑ جو کہ حضرت ابراہیمؑ کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور حضر ت موسیؑ کے درمیان 400 سال کا فرق ہے تو اس لحاظ سے حضرت موسیؑ حضرت خضرؑ سے تقریبا 600 سال بعد پیدا ہوئے ہیں۔ امام بدر الدین عینی صاحب شرح بخاری نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ جمہور کا مذ ہب یہ ہے اور صحیح بھی یہ ہے کہ وہ نبی تھے اور زندہ ہیں۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری مصنف بدرالدین العینی،کتاب العلم، باب ما ذکرفی ذہاب موسی، ج۲،ص۴۸،۵۸) خدمت بحر (یعنی سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرنا) اِنہیں سے متعلق (یعنی انہیں کے سپرد) ہے اور اِلیاسؑ ’’بَرّ ‘‘خشکی میں ہیں۔ (الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ، حرف الخائالمعجمۃ، باب ماوردفی تعمیرہ، ج۲، ص۲۵۲) اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضرؑ زندہ ہیں۔شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانہ حج میں ملتے ہیں۔ یہ بھی اسی میں منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمہ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔ اسی طرح تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت خضرؑ حضور خاتم النبیینؐ کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں، (صاوی، ج۴،ص۸۰۲۱،پ ۵۱، الکہف:۵۶) اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ سے بھی ان کی ملاقات ثابت ہے اورحضرت خضرؑ نے ان کو نصیحت بھی فرمائی تھی کہ اے عمرؓ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اور باطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتا ہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے۔ یہ سن کر عمر بن عبدالعزیزؓ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مساواتہم السر والعلانیۃ، ص39) اور بھی بزرگان دین نے ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔آب حیات کے متعلق بہت اختلاف ہے، بعض لوگ اس کو ایک افسانے کے علاوہ کچھ نہیں کہتے

کیونکہ آب حیات کا تذکرہ نہ قرآن میں ہے نہ ہی کسی صیحح حدیث میں۔ہاں کچھ علماء کرام نے اس کا تذکرہ اپنی تفسیر میں حضرت ذوالقرنین کے پہلے سفر کے زمرے میں کیا ہے، جیسے کہ تفسیر خزائن العرفان پ۶۱، الکہف: ۶۸تا ۸۹ میں نقل ہے۔ حضرت ذوالقرنین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے ایک شخص چشمہ حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہیں آئے گی۔ اس لیے حضرت ذوالقرنین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضرؑ بھی تھے وہ تو آبِ حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا مگر حضرت ذوالقرنین کے مقدر میں نہیں تھا، وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہےوہ سب منزلیں طے کرکے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ انہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے، وہاں ان کو ایک ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھی، اس کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا، یہ قوم ’’ناسک‘‘ کہلاتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے دیکھا کہ ان کے لشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقت ور اورجنگجو ہیں تو حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کر دیا چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہو گئے کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے، اسی طرح تفسیر خازن اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیاس جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں اور ہر سال زمانہ حج میں ملتے ہیں اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمہ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا (س س س)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
72%
ٹھیک ہے
6%
کوئی رائے نہیں
15%
پسند ںہیں آئی
6%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سپورٹس

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved