وسیم اکرم کی کامیابیوں کے پیچھے ان کی اہلیہ ہما اکرم کا کتنا ہاتھ تھا؟ یہ واقعہ پڑھ کر آپ بخوبی جان جائیں گے
  16  اپریل‬‮  2018     |      سپورٹس

لاہور (ویب ڈیسک) وسیم اکرم کے خدشات کے عین مطابق پوری ٹیم محتاط تھی کہ وسیم اکرم کے ساتھ اس کا معاندانہ رویہ کوئی گل نہ کھلا دے۔لہٰذا ہر کھلاڑی وسیم اکرم سے فاصلہ قائم کیے ہوئے تھا۔ادھر وسیم اکرم کھیل کے میدان کے بعد ہما کے پاس آجاتا اور دونوں نیوزی لینڈ کے شاپنگ سنٹروں اور تفریحی مقامات کی سیر کرتے رہتے۔گویا ہما کی سنگت میں یہ دور ہنی مون کے مترادف تھا۔ یہ سیریز ان کی زندگی کی یادگر بن گئی۔اس سیریز میں وسیم اکرم ایک بارپھر فارم میں آگیاتھا۔ اس نے 3ٹیسٹ میچوں میں 25وکٹیں حاصل کیں اور دو مرتبہ مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا۔تمام میچوں کے دوران یہ بات کھل کر سامنے آگئی تھی کہ وسیم اکرم پوری ٹیم سے کھنچا ہوا ہے۔چونکہ اس بار اس کی باؤلنگ اور بٹنگ اپنی معراج پر تھی اور وہ کسی قسم کی خوشی کا اظہار نہیں کررہا تھا۔وہ کسی کھلاڑی کو آؤٹ کرتا تواپنے ساتھیوں کے ساتھ خوشی نہمناتا بلکہ گیند پکڑ کر سیدھا باؤلنگ کے نشان پر چلا جاتا اور اگلی گیند کرانے کی تیاری میں لگ جاتا۔وسیم کی اس سرد مہری پر کمنٹری باکس میں بڑے واضح تبصرے ہوتے تھے مگروسیم اکرم نے کسی قسم کی پروانہ کی۔حالانکہ ماہرین نے اس موقع پر یہ کہہ دیا تھا کہ وسیم اکرم پوری ٹیم میں اکیلا ہو کررہ گیا لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے لیے اب وہ اکیلا ہی کافی ہے۔وسیم اکرم نے وقاریونس کے ساتھ مکمل طور پر بول چال بند کر دی تھی۔ ایک بار ٹیم منیجر نے ڈنرکے موقع پر وسیم اکرم کی بیگم ہما سے یہ کہا کہ وسیم اکرم کو چاہئے کہ وہ اپنے رویے میں لچک پیدا کریں۔مگر ہما نے

یہ کہہ کر انہیں خاموش کر دیا۔’آپ کیا چاہتے ہیں کہ وسیم اکرم چونکہ اکیلا رہ گیا ہے لہٰذا اسے ا پنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے سب کے پیچھے پھرنا چاہئے‘‘۔میرا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے‘‘۔ٹیم منیجر نے کہا۔’’میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ یہ سینئر ممبر ہیں لہٰذا انہیں ٹیم کا مورال قائم رکھنے کے لیے سب کے ساتھ نرم برتاؤ کرنا چاہئے۔خاص طور پر کھیل کے دوران انہیں اس بات کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔‘‘’میرا خیال ہے کہ وسیم اکرم کا رویہ بالکل ٹھیک ہے۔کیا آپ نہیں جانتے ان کے ساتھ کیا ہوا ہے‘‘۔ہما بات بڑھانا اور منیجر کو بدمزہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔لہٰذا اس نے کہا۔’’وسیم یہ ٹیسٹ کھیلنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے ،مگر میں نے انہیں یہ باور کرایا ہے کہ آپ کی ضرورت کھلاڑیوں کو نہیں بلکہ ملک کو اور قومی ٹیم کو ہے۔کپتانی کو مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔میں اس بات پر خوش ہوں کہ وسیم اکرم نے میری بات مان لی ہے اور یہاں چلے آئے۔اب آپ یہ توقعات رکھیں کہ وہ اپنے زخم بھول کر مصنوعی خوشیاں منائیں تو یہ نا ممکن بات ہو گی‘‘۔’بہرحال آپ کوشش ضرور کیجئے۔میں نے باقی ممبران سے بھی بات کی ہے اور سب کا خیال ہے کہ آپ اس سلسلے میں بہت کچھ کر سکتی ہیں‘‘منیجر نے کہا۔ہما نے بھی اس بات کو محسوس کیا کہ وسیم اکرم کو کھیل کے دوران قدرے مل جل کر رہنا چاہئے۔ لہٰذا ہما نے وسیم اکرم کو یہ بتائے بغیر کہ اس کے ٹیم منیجر نے کیا باتیں کی ہیں،اس نے وسیم اکرم کو قائل کرنے کی کوشش کی مگر وسیم اکرم نے اپنی چہیتی اور نئی نویلی دلہن کو یہ کہہ کر خاموش کر ادیا۔’میں ذہنی طور پر بالکل نارمل ہوں لہٰذا اب تم اس معاملے میں بالکل نہیں بولو گی۔جو بات میرے بس میں نہیں تھی۔ اب میرے قابو میں ہے۔میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی میرے نزدیک کیا حیثیت ہے ۔میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ نیوزی لینڈ کا یہ دورہ ہمارا ہنی مون بھی ہو گا۔اس لیے تم اور فکر یں چھوڑ کرصرف یہ سوچا کرو کہ آج ہمیں کہا جانا ہے‘‘۔اس دورے کے دوران وسیم کے رویہ نے اس کے مخالفوں کو زچ کر کے رکھ دیا، بہت سوں کا خیال تھا کہ ٹینشن کی بدولت اس کا کھیل برباد ہو جائے گا مگر انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے اندر غم و غصہ کا جوالا مکھی جب باہر نکلا تو ہر سواس کی دہشت چھا جائے گی۔تین ٹیسٹ میچوں کے دوران25وکٹیں حاصل کرنا کوئی عام بات نہیں تھی۔ اس کی کارکردگی کی بدولت ہی پاکستان نے یہ سیریز جیت لی تھی۔دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
33%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
33%
پسند ںہیں آئی
33%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

سپورٹس

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved