تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

جنسی زیادتی کالزا،عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو کا ڈی این اے ٹیسٹ تہلکہ مچادینے والی تفصیلات جاری ہو گئیں


پرتگال (آئی این پی )پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر 33 سالہ کرسٹیانو رونالڈو کا ایک دہائی قبل امریکی ماڈل کے کیے گئے ریپ کی تفتیش کے لیے فٹ با ئو لر کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔ تفصیلات کرسٹیانو رونالڈو پر اکتوبر 2018 میں سابق امریکی ماڈل کیتھرین مایورگا نے الزام عائد کیا تھا کہ فٹ بالر نے 2009 میں امریکی شہر لاس ویگاس میں ان کا ریپ کیا۔کیتھرین مایورگا نے اگرچہ اس واقعے کی رپورٹ 2010 میں ہی درج کروادی تھی، تاہم اس وقت انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر صرف جنسی استحصال کی رپورٹ درج کروائی تھی۔تاہم سابق ماڈل

نے ستمبر 2018 میں امریکی ریاست نیواڈا کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں 32 صفحے کی شکایت دج کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ رونالڈو نے 13 جون 2009 کو ان کا ریپ کیا تھا۔انہوں نے اس مقدمے میں الزام عائد کیا کہ فٹبالر نے اس مبینہ ریپ کو خفیہ رکھنے کے لیے ان پر دبا ڈالا تھا اور فٹ بالر نے وکلا کی مدد سے انہیں پونے 4 لاکھ ڈالر دے کر خاموش رہنے کا کہا۔عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ ریپ واقعے کے بعد ماڈل ذہنی طور پر پریشان رہیں، یہاں تک کہ انہوں نے متعدد بار خودکشی کرنے کا بھی سوچا۔ساتھ ہی ماڈل نے فٹ بالر کے خلاف 2 لاکھ امریکی ڈالر کے ہرجانے کا دعوی بھی دائر کیا تھا۔سابق ماڈل کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد کرسٹیانو رونالڈو نے فوری طور پر تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا، تاہم پرتگال کی ٹیم نے انہیں آرام دینے کی غرض سے فٹ بال کھیلنے سے باہر کردیا تھا۔علاوہ ازیں کرسٹیانو رونالڈو پر الزامات کے بعد اسپورٹس مصنوعات کی امریکی کمپنی نائیکی اور اسپورٹس ویڈیو گیمنگ کمپنی ای اے اسپورٹس نے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور عندیہ دیا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر ان کے ساتھ کیے گئے اربوں روپے کے معاہدے منسوخ کردیں گی۔تاہم اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ لاس ویگاس پولیس نے ریپ کیس کی تفتیش کرنے کے لیے ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے لیے اٹلی کے حکام کو باقائدہ درخواست دے دی۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ لاس ویگاس پولیس نے اس بات کی تصدیق کردی کہ انہوں نے کرسٹیانو رونالڈو کے ڈین این اے ٹیسٹ کے نمونے لینے کے لیے اٹلی کے حکام کو درخواست جمع کرادی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved