01:15 pm
سنہ دو ہزار سولہ کے اولمپکس مقابلوں کی میزبانی کے لیے برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

سنہ دو ہزار سولہ کے اولمپکس مقابلوں کی میزبانی کے لیے برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

01:15 pm

سنہ دو ہزار سولہ کے اولمپکس مقابلوں کے میزبان شہر کا فیصلہ جمعہ کی شام ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں کیا گیا ہے۔ آخری فیصلے سے قبل اولمپکس مقابلوں کی میزبانی کے لیے چار ممالک کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا جن میں امریکی شہر شکاگو، برزایلی شہر ریو ڈی جنیرو، ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ اور جاپانی دارالحکومت ٹوکیو شامل تھے۔ آخری انتخاب سے پہلے شکاگو اور ٹوکیو مقابلے سے باہر ہو گئے اور قمابلہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو اور میڈرڈ کے درمیان رہ گیا لیکن انتخاب کے آخری مرحلے میں ریو ڈی جنیرو نے سب سے زیادہ پچانوے ووٹ حاصل کر کے میڈرڈ کو مات دی۔

شروع میں شکاگو کو میزبانی کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا اور اس کا کے باہر ہو جانے پر خاصی حیرت کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

جمعہ کو کوپن ہیگن میں منعقدہ تقریب میں چاروں شہروں کی جانب سے وفود نے میزبانی کے لیے اپنا موقف پیش کیا اور میزبان شہر کا اعلان برطانوی وقت کے مطابق شام چھ بجے ہوا۔ اولمپکس میزبان کا چناؤ مرحلہ وار ووٹنگ کے ذریعے ہوا اور ہر مرحلے میں سب سے کم ووٹ حاصل کرنے والا شہر اس دوڑ سے خارج ہوتا گیا۔

شکاگو کے میزبانی کے لیے فیورٹ قرار دیے جانے کی ایک وجہ امریکی صدر براک اوباما کی ڈنمارک آمد کو بھی قرار دیا جا رہا تھا جو شکاگو کی حمایت کے لیے جمعے کی صبح ڈنمارک پہنچے تھے۔ ان کی اہلیہ بدھ سے ڈنمارک میں امریکی اولمپک وفد کے ہمراہ موجود تھیں۔ خیال رہے کہ براک اوباما امریکی ریاست الینوائے کے سابق سینیٹر رہ چکے ہیں اور خود ان کا تعلق بھی شکاگو سے ہے۔

میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ آپ شکاگو کا انتخاب کریں اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ دنیا شکاگو اور امریکہ پر فخر کرےگی۔
براک اوباما
میزبان کے چناؤ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے شکاگو کے رہائشی ہونے پر فخر ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی کے ارکان سے کہا کہ ’میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ آپ شکاگو کا انتخاب کریں۔ اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ دنیا شکاگو اور امریکہ پر فخر کرےگی‘۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ میزبانی کے لیے شکاگو کو دیگر شہروں پر کچھ فوقیت حاصل ہے لیکن حتمی طور پر فاتح کی پیشین گوئی کرنا ممکن نہیں ہے۔ سنہ دو ہزار بارہ کے لیے لندن اولمپکس کمیٹی کے سربراہ سبیسچئن کا کہنا تھا کہ ’ان میں سے کوئی بھی شہر بہترین اولمپکس منعقد کروا سکتا ہے‘۔

شکاگو کی اس مہم کا مقابلہ کرنے کے لیے سپین کے بادشاہ ژان کارلوس، برازیل کے صدر لوئیز لولا اور جاپان کے نومنتخب وزیراعظم یوکیو ہتویاما بھی ڈنمارک میں موجود تھے۔ ماضی میں بھی اہم سیاسی شخصیات نے اپنے ممالک کو اولمپکس کی میزبانی دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس سلسلے میں سنہ دو ہزار بارہ کے اولمپکس کے لیے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور سنہ دو ہزار چودہ کے سرمائی کھیلوں کے لیے روس کے سابق صدر ولادی میر پوتن کی کوششوں کی مثال دی جاتی ہے۔

 

تازہ ترین خبریں