08:55 am
پاکستان کی قدیم ترین جمخانہ کرکٹ گراؤنڈ

پاکستان کی قدیم ترین جمخانہ کرکٹ گراؤنڈ

08:55 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) لاہور کے باغ جناح میں واقع جمخانہ کرکٹ گراؤنڈ پاکستان کی سب سے پرانی اور برصغیر کی دوسری سب سے پرانی گراؤنڈ مانی جاتی ہے۔اس کا قیام 1880ء میں عمل میں لایا گیا۔ برصغیر کی سب سے پہلی کرکٹ گراؤنڈ کلکتہ کی ایڈن گارڈن تھی جو کہ1864 میں بنائی گئی تھی۔1882ء میں پچ کیلئے ورسٹر شائر سے خاص مٹی منگوائی گئی۔ 1955ء میں پاک بھارت ٹیسٹ میچ یہیں کھیلا گیا۔ پاکستانی قومی کھلاڑیوں کے علاوہ سر گیری سوبرز، آئن بوتھم، سچن ٹنڈولکر، جیک کیلس اور کیون پیٹرسن بھی یہاں کھیل چکے ہیں۔دائرہ نما کرکٹ گراؤنڈ کے اردگرد لوہے کا جنگلا لگا ہوا ہے
جبکہ ایک طرف پویلین ہے جس میں شاہ بلوط کی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔ پویلین کی تعمیر میں برطانوی راج کے مشہور آرکیٹکٹ جی سٹون اور بھائی رام سنگھ کا اہم کردار ہے۔ شروع شروع میں گورنر ہاؤس کا عملہ یہاں پر میچز کھیلا کرتا تھا۔ تاہم 1911ء میں برٹش آرمی اور ورلڈ الیون کے درمیان پہلا آفیشل میچ کھیلا گیا۔برٹش آرمی کی ٹیم میں پنجابی، سکھ اور کنگ ریجمنٹ کے جوان شامل تھے جبکہ ورلڈ الیون کی جانب سے گلوسسٹر شائر اور لنکا شائر کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ 1923ء میں پہلا فرسٹ کلاس میچ کھیلا گیا جبکہ پہلا انٹرنیشنل میچ 1926 میں ایم سی سی اور برٹش آرمی کے درمیان ہوا۔ 1934ء میں برٹش آرمی اور نارتھ انڈین کی ٹیموں کے درمیان رانجھی ٹرافی کا میچ کھیلا گیا۔1936ء کا سال اس گراؤنڈ کیلئے اس لئے بھی یادگار ہے کہ اس سال انڈیا کی کرکٹ ٹیم نے سید وزیر علی کی قیادت میں آسٹریلیا کیخلاف پہلا ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔قیام پاکستان کے بعد بھی اس گراؤنڈ کی اہمیت کم نہیں ہوئی اور یہاں پر 1947ء کو مہاجرین کی بحالی کیلئے قائم قائد اعظم ریلیف فنڈ کے حوالے سے سندھ اور پنجاب کی ٹیموں کے درمیان ایک چیریٹی میچ کھیلا گیا۔ اس گراؤنڈ کو پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کا پہلا مرکزی دفتر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں میں یہاں پر پاکستان نے ویسٹ انڈیز، سری لنکا، ایم سی سی اور کامن ویلتھ الیون کی ٹیموں کے خلاف چار غیر سرکاری ٹیسٹ میچز بھی کھیلے۔اس گراؤنڈ کو باقاعدہ ٹیسٹ سنٹر کا اعزاز اس وقت حاصل ہوا جب 1955ء میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم نے یہاں نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے خلاف بھی میچز کھیلے۔1959ء میں جب لاہور میں ایک نیا سٹیڈیم (جس کا نام بعد میں قذافی سٹیڈیم رکھا گیا) بنایا گیا تو فرسٹ کلاس اور انٹرنیشنل میچز جمخانہ کرکٹ گراؤنڈ سے اس نئے سٹیڈیم میں منتقل ہو گئے۔اس کے ساتھ ہی کرکٹ بورڈ کا دفتر بھی اس نئے سٹیڈیم میں منتقل کر دیا گیا۔ جمخانہ گراؤنڈ کیلئے ساٹھ اور اسی کی دہائی اچھی ثابت نہیں رہی۔ ان سالوں میں اس کی گراؤنڈ اور پویلین کو کافی نقصان پہنچا۔ان دو عشروں کے دوران جب اس تاریخی گراؤنڈ کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس حوالے سے نجم لطیف نے اس کی تاریخی تصاویر اور پرانے نوادرات کو ایک میوزیم کی شکل میں محفوظ کر لیا ہے۔ جس کا افتتاح نواز شریف نے کیا تھا۔ یہاں پر پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی غیر ملکی ٹیمیں پریکٹس میچز بھی کھیلتی رہی ہیں۔2005ء میں پاکستان کا دورہ کرنے والی انگلینڈ کی ٹیم نے یہاں پریکٹس میچ بھی کھیلا تھا۔ یہ اوول کے ہیرو فضل محمود اور گگلی باؤلر عبدالقادر کی پسندیدہ کرکٹ گراؤنڈ بھی ہے۔اس گراؤنڈ پر آخری ٹیسٹ میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان 1959ء میں کھیلا گیا تھا۔ اس گراؤنڈ سے انٹرنیشنل کرکٹ کو رخصت ہوئے 60 سال بیت چکے ہیں۔ اس کے میوزیم میں نایاب تصاویر کے علاوہ کھلاڑیوں کا سامان بھی رکھا گیا ہے۔ایک یادگار تصویر اوپننگ بلے باز نذر محمد کی قائداعظمؒ کے ساتھ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ واحد تصویر ہے جو قائداعظمؒ کی کسی بھی کرکٹر کے ساتھ کھینچی گئی۔یہاں اس میچ کا سکور کارڈ بھی ہے جو کہ مہاجرین کی بحالی کیلئے کھیلا گیا تھا اور جس میں فضل محمود نے بھی حصہ لیا تھا۔ کھلاڑیوں کی کیپس، نکٹائیاں، کوٹ، ٹراؤزرز اور یادگار گیند بھی اس میوزیم کا حصہ ہیں۔ حکومت اور پی سی بی اس تاریخی گراؤنڈ کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

تازہ ترین خبریں