09:09 am
پی سی بی کی غیر فعال کرکٹ کمیٹی ہوا میں تحلیل ہونے لگی

پی سی بی کی غیر فعال کرکٹ کمیٹی ہوا میں تحلیل ہونے لگی

09:09 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)پی سی بی کی غیرفعال کرکٹ کمیٹی ہوا میں تحلیل ہونے لگی جب کہ چار ماہ سے کوئی اجلاس نہیں ہوا۔پی سی بی نے گذشتہ برس اکتوبر میں سابق ٹیسٹ اوپنر محسن خان کی زیرسربراہی کرکٹ کمیٹی قائم کی تھی، اس کے ارکان وسیم اکرم، مصباح الحق اور عروج ممتاز تھے، کمیٹی کی ذمہ داریوں میں ڈومیسٹک کرکٹ کی پچز اور گیندوں کا جائزہ لے کر سفارشات دینا، گریڈ لیول و ویمنز کرکٹ کے معاملات دیکھنا اور قومی سلیکٹرز و کوچز کی پرفارمنس کا جائزہ لینا شامل تھا، یہ کمیٹی ابتدا میں ہی تنازع کا شکار ہو گئی۔محسن خان ہمیشہ وسیم اکرم کو داغدار ماضی کا حامل قرار دیتے رہے مگر ان کے ساتھ کام کرنا پڑا،
جس پر ان کا موقف تھا کہ چیئرمین بورڈ احسان مانی نے ’’تحفظات‘‘ دور کر دیے ہیں، محسن خان کی جانب سے کوچ مکی آرتھر کو ’’گدھا‘‘ کہنے اور سرفراز احمد کی کپتانی پر تبصرے کی ویڈیوز سامنے آنے پر پی سی بی کو سبکی اٹھانا پڑی، بعد میں چیئرمین کو اندازہ ہو گیا کہ وہ غلط شاٹ کھیل گئے ہیں مگر اتنی جلدی فیصلے کو تبدیل کرنے سے گریز کیا گیا، اس کمیٹی کا آخری اجلاس دسمبر میں ہوا تھا۔گذشتہ ماہ جب بورڈ نے عروج ممتاز کو ویمنز سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بنایا تب ہی یہ واضح ہوگیاکہ کرکٹ کمیٹی عملاً تحلیل ہو چکی مگر رسمی اعلان نہیں کیا جائے گا، اب ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں کراچی میں ایم ڈی وسیم خان کی محسن خان سے ملاقات ہوئی جس میں انھیں مستقبل میں کوئی اور ذمہ داری سونپنے کا یقین دلایا گیا ہے۔سابق اوپنر ماضی میں چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کے طور پر کام کر چکے ہیں، انھیں اب ورلڈکپ کے بعد ہی کوئی نئی اسائنمنٹ دی جائے گی، تب تک بورڈ بھی کرکٹ کمیٹی کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کرے گا۔چار ماہ سے کوئی میٹنگ نہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ کمیٹی اب ختم ہو چکی، عروج کو نئی ذمہ داری سونپنے سے قبل بھی دیگر ارکان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی، ڈومیسٹک کرکٹ میں مجوزہ تبدیلیوں اور ورلڈکپ اسکواڈ سمیت کسی معاملے میں اس کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔اس حوالے سے پی سی بی ذرائع نے تصدیق کی کہ وسیم خان اور محسن خان کی ملاقات ہوئی تھی،البتہ فی الحال کمیٹی کو ختم نہیں کیا، مستقبل میں کیا ہو گا یہ ابھی نہیں بتایا جا سکتا، ان کے مطابق وسیم خان کی اسلام آباد میں راشد لطیف سے بھی ملاقات ہوئی تھی اور وہ مختلف سابق کرکٹرز سے مشاورت کر رہے ہیں۔