08:19 am
وسیم اکرم نے پاکستانی کرکٹر کا نام بتا دیا، شا ئقین بھی داد دینے پر مجبور

وسیم اکرم نے پاکستانی کرکٹر کا نام بتا دیا، شا ئقین بھی داد دینے پر مجبور

08:19 am

لاہور(نیوز ڈیسک ) پاکستان کے سابق سوئنگ ماسٹر وسیم اکرم نے خبردار کیا ہے کہ فاسٹ باؤلر محمد عامر کو ورلڈ کپ سکواڈ سے باہر کرنے سے ٹیم کا باؤلنگ اٹیک متاثر ہو گا۔ 27 سالہ فاسٹ بولر محمد عامر کو ورلڈ کپ کے لئے پاکستان کے ابتدائی سکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے، تاہم اگر وہ انگلینڈ کے خلاف پانچ ایک روزہ میچز میں اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے تو میگا ایونٹ کے لئے حتمی 15 کھلاڑیوں میں جگہ بنا سکتے ہیں۔آئی سی سی نے تمام ٹیموں کو 23 مئی تک ورلڈ کپ سکواڈ میں تبدیلی کا اختیار دے رکھا ہے۔
واضح رہے کہ فاسٹ بولر محمد عامر سپاٹ فکسنگ کیس میں پانچ برس کی سزا کے باعث 2011ءاور 2015ءکے ورلڈ کپ نہیں کھیل سکے تھے، سزا مکمل کرنے کے بعد محمد عامر نے جون 2017ءمیں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں انڈیا کے خلاف ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم محمد عامر کی حالیہ کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ محمد عامر نے گذشتہ 14 ایک روزہ میچز میں صرف5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ایک انٹر ویو میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ محمد عامر ورلڈ کپ کےلئے اپنی جگہ بنا سکتے ہیں،وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ وہ محمد عامر کو ورلڈ کپ کےلئے اپنی پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں، وہ ردھم میں واپس آ گئے تو میگا ایونٹ میں عمدہ کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔سابق کپتان کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کےلئے پاکستانی سکواڈ زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، ٹیم میں 2015ءکا ورلڈ کپ کھیلنے والے سرفراز احمد اور حارث سہیل بھی موجود ہیں جبکہ 2007ءکا عالمی کپ کھیلنے والے شعیب ملک اور 2007ءاور 2011ءکے میگا ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد حفیظ بھی قومی سکواڈ کا حصہ ہیں۔1992 ءکے ورلڈ کپ فائنل کے ہیرو وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ بڑے ایونٹس ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ تجربہ کار کھلاڑیوں کو شامل کر کے جیتے جاتے ہیں۔ سابق کپتان کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے حق میں ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تجربے کا کوئی نعیم البدل نہیں۔وسیم اکرم رواں برس پاکستان سپر لیگ کے دوران فاسٹ باؤلر محمد عامر کی رہنمائی بھی کر چکے ہیں، وسیم اکرم کہتے ہیں کہ محمد عامر میں بہت جلدی سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے، انہیں امید ہے کہ وہ جلد فارم میں واپس آ جائیں گے کیونکہ ٹیم کو ان کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ ورلڈ کپ سے قبل پاکستان نے انگلینڈ کےخلاف 5 ایک روزہ اور ایک ٹی ٹونٹی کھیلنا ہے، میگا ایونٹ سے قبل قومی ٹیم افغانستان کےخلاف 24 مئی اور بنگلہ دیش کےخلاف 26 مئی کو پریکٹس میچزبھی کھیلے گی۔ شیڈول کے مطابق پاکستان نے تین کاؤنٹی ٹیموں کے خلاف بھی ایک روزہ میچز کھیلنا ہیں۔

تازہ ترین خبریں