10:17 am
ورلڈ کپ 1999 میں بنگلہ دیش سے شکست کا زخم مندمل نہ ہوسکا

ورلڈ کپ 1999 میں بنگلہ دیش سے شکست کا زخم مندمل نہ ہوسکا

10:17 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) ورلڈ کپ 1999میں بنگلہ دیش سے پاکستان کی غیرمتوقع شکست کا زخم اب تک مندمل نہیں ہو سکا۔پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے خالد محمود نے کہا کہ ورلڈکپ 1999 میں پاکستان ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف میچ سے قبل ناقابل شکست تھی، اس مقابلے میں ناکامی پر مجھے شدید دھچکا لگا،اتنے سال گذرنے کے بعد میں ابھی تک حیران ہوں کہ گرین شرٹس اتنی کمزور ٹیم سے کس طرح مات کھا گئے تھے، کئی حکومتی عہدیداروں نے بھی خدشات کا اظہار کیا کہ بنگلہ
دیش کے خلاف میچ فکسڈ ہوسکتا ہے، اگر مجھے عہدے سے نہ ہٹایا جاتا تو ضرور انکوائری کراتا۔سابق چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ 1998میں بورڈ کی کمان سنبھالی تو ٹیم میچ فکسنگ کے الزامات کی زد میں تھی، تمام سینئر کرکٹرز شکوک کے دائرے میں تھے۔ میں نے کھلاڑیوں کو خبردار کیا کہ انھیں تمام مشکوک سرگرمیاں ترک کرتے ہوئے اپنا دامن صاف رکھنا ہوگا، ان کے ماضی کے حوالے سے بھی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ایک سوال پر خالد محمود نے کہا کہ مجھے کسی حکومتی شخصیت کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت نہیں ملی تھی کہ میچ جان بوجھ کر ہارنا ہے، انھوں نے کہا کہ میں نجم سیٹھی کو چیئرمین پی سی بی بنائے جانے کیخلاف تھا کیونکہ انھوں نے چارج سنبھالا تو کرکٹ کا کوئی علم نہیں رکھتے تھے، ان کی تقرری اس لیے بھی متنازع تھی کہ اپوزیشن نے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچانے کیلیے دھاندلی اور اس کے نتیجے میں نوازنے کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں انھوں نے کرکٹ کیلیے کچھ اچھے کام بھی کیے جس کی وجہ سے ان کے حق میں بھی بات کی۔خالد محمود نے بھی ڈپارٹمنٹل کرکٹختم کرنے کی مخالفت کردیخالد محمود نے بھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کی مخالفت کردی۔سابق چیئرمین پی سی پی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں مالی طور پر تحفظ حاصل ہونا چاہیے اور اس کا واحد ذریعہ ڈپارٹمنٹس ہیں، اگر کسی کے گھر کا چولہا ہی نہیں جل رہا،وہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے کے قبل نہیں تو کس طرح کھیل پر توجہ مرکوز رکھے گا۔انھوں نے کہا کہ میں لاہور کی کرکٹ سے پی سی بی تک خود کوشش کرتا رہا ہوں کہ کسی نہ کسی باصلاحیت کرکٹر کو روزگار کے مسئلے سے نجات دلاسکوں، کئی مثالیں ہیں کہ میں خود دلچسپی لے کر نوکری کا بندوبست کرانے کیلیے سرگرم رہا، ہمارے ملک کا کلچر اور ضروریات مختلف ہیں، اس معاملے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں