10:31 am
پہلے اپنے گھر کی ایک ایسی پریشانی کے راز سے پردہ اٹھا دیا  کہ شائقین کرکٹ دکھی ہو گئے

پہلے اپنے گھر کی ایک ایسی پریشانی کے راز سے پردہ اٹھا دیا کہ شائقین کرکٹ دکھی ہو گئے

10:31 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مایہ ناز آل رائونڈ کرکٹر شاہد آفریدی کی کتاب " گیم چینجر ـــ" جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔ اس کتاب میں شاہد آفریدی نے ماضی کے کھلاڑیوں اور کوچز کے حوالے سے چشم کشا انکشافات کیے ہیں تاہم انکشاف ان کی نجی زندگی سے متعلق بھی ہے۔ آفریدی لکھتے ہیں " ”میں یہاں ایک ایسی چیز بیان کرنا چاہتا ہوں جو اس سے پہلے میں نے کبھی کسی سے نہیں کہی۔ یہ بہت ذاتی نوعیت کی بات ہے، جس سے آپ کو میرے خیالات اور کرکٹ سے میری لگن کے بارے میں جاننے کو مدد ملے گی۔
میرے والد اس وقت تک ایک کامیاب کاروباری شخص بن چکے تھے تاہم ایک دن اچانک مارکیٹ کریش کر گئی اور انہیں 1کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو گیا۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے۔ ہم گلشن میں نیا گھر خرید چکے تھے اور ایک کار بھی۔ ہمارے پاس ہر وہ مناسب لگژری موجود تھی جس کی کسی فیملی کو ضرورت ہوتی ہے۔ حالات بالکل ٹھیک چل رہے تھے اور میری کرکٹ میں کارکردگی بہتر سے بہتر ہو رہی تھی اور پھر اچانک مارکیٹ کریش ہونے کا واقعہ ہو گیا اور راتوں رات ہر چیز بدل کر رہ گئی۔“ شاہد آفریدی نے مزید لکھا کہ ”اس ساری صورتحال میں جس بات نے مجھے سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی، اپنے والد کے ہاتھوں ہونے والی پٹائیوں سے بھی زیادہ، وہ بات اپنے ماں باپ کو تمام رات نماز پڑھتے اور رو رو کر دعائیں مانگتے ہوئے دیکھنا تھی۔ طارق بھائی، جو میرے لیے صبروہمت کی مثال تھے، وہ بھی اس واقعے کے بعد اکثر رو دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم کیسے اس نقصان سے نکل پائیں گے۔ یہ وہ بدترین دن تھے جو میری فیملی نے کبھی زندگی میں دیکھے۔ ہم گیارہ بہن بھائی تھے۔ کیسے میری بہنوں کی شادیاں ہوں گی؟ ہماری تعلیم کیسے مکمل ہو گی؟ ان دنوں یہ کچھ ایسے سوالات تھے جن کا جواب دینا کچھ آسان نہ تھا۔ بطور فیملی ہم نے کبھی پیسے کے متعلق بات نہیں کی تھی لیکن اس صورتحال سے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور میرے والدین نے گھر فروخت کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا لیکن پھر بھی نقصان کی رقم پوری نہیں ہوتی۔ ان دنوں میں جذباتی طور پر ہم سب مضمحل ہو چکے تھے، خاص طور پر جب میں اپنے ماں باپ کو روتے اور آسمان کی طرف تکتے دیکھتا تو ٹوٹ کر رہ جاتا۔ یہ وہ منظر تھا جو میں ہر رات دیکھتا تھا۔ وہ جب نماز پڑھنے اور دعائیں مانگنے کے بعد بستروں میں چلے جاتے تو میں ان کے جائے نماز کو ہاتھ لگاتا جو ان کے آنسوؤں سے تر ہو چکے ہوتے تھے۔“

تازہ ترین خبریں