05:53 am
عالمی کرکٹ کپ 2019ء کے 10 سورما کپتان

عالمی کرکٹ کپ 2019ء کے 10 سورما کپتان

05:53 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) کرکٹ کا عالمی ورلڈ کپ انگلینڈ کی سرزمین پر رواں ماہ 30 مئی سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ اس مقابلے میں دنیائے کرکٹ کی ٹاپ دس ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن کے کپتانوں کا تعارف شائقین کرکٹ کی دلچسپی کیلئے پیش کیا جارہا ہے۔سرفراز احمد (پاکستان)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد 1987ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ 2019ء کا ورلڈ کپ ان کا بطور کھلاڑی دوسرا اور بطور کپتان پہلا ورلڈ کپ ہوگا۔اس سے قبل وہ 2015ء کا ورلڈ کپ بھی کھیل چکے ہیں۔ ان سے پہلے کامران اکمل قومی ٹیم کے وکٹ کیپر تھے۔ 32 سالہ کپتان اب تک 109 ون ڈے میچز کھیل کر 34.88 کی
اوسط سے 2128 رنز بنا چکے ہیں جبکہ وکٹوں کے پیچھے انہوں نے 99 کیچز پکڑے ہیں۔ان پر تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ بیٹنگ میں پرفارم نہیں کر پا رہے لیکن انگلینڈ کے خلاف حالیہ پانچ ون ڈے سیریز کے آخری میچ میں 97 رنز بنا کر اپنی فارم کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ان کی کپتانی میں پاکستان چیمپئنز ٹرافی کا بڑا ٹائٹل جیت چکا ہے۔ سرفراز احمد اس وقت کرکٹ کا ستارہ بنے جب ان کی کپتانی میں پاکستان کی انڈر 19 ٹیم نے 2006ء کا ورلڈ کپ جیتا۔اس سے اگلے سال انہوں نے انڈیا کیخلاف جے پور میں ون ڈے ڈیبیو کیا۔ سرفراز احمد پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی تینوں فارمیٹ کے کپتان ہیں اور انگلینڈ میں ہونیوالے ورلڈ کپ میں ان سے چیمپئنز ٹرافی والی کارکردگی کی توقع ہے۔ویرات کوہلی (انڈیا)بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا شمار دنیا کے بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ کپتان کی حیثیت سے وہ پہلی بار 2019ء کا ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ ان کی بیٹنگ صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان ایک روزہ میچوں میں اوسط 59.58 ہے۔ کوہلی 1988ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ 30 سالہ کپتان نے اب تک 227 ون ڈے میچز کھیل کر 10843 رنز بنائے ہیں۔انہیں اس ورلڈ کپ کا بہترین بلے باز قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے انٹرنیشنل ون ڈے کیئرئیر کا آغاز 2008ء میں سری لنکا کیخلاف دمبولا سے کیا۔کہا جاتا ہے کہ ہدف عبور کرنے میں کوہلی جیسا بیٹسمین کوئی نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں 16 جون کو پاکستان سے ٹاکرے میں کوہلی پاکستانی سیمرز سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔آئن مورگن (انگلینڈ)انگلینڈ کے کپتان آئن مورگن کو ون ڈے سپیشلسٹ کہا جاتا ہے۔ ڈبلن میں پیدا ہونیوالے 32 سالہ مورگن نے اب تک 222 ون ڈے میچز میں 39.64 رنز کی اوسط سے 6977 رنز کئے ہیں۔مورگن پہلے آئرلینڈ کی طرف سے کھیلتے تھے اور اس ملک کی طرف سے کھیلتے ہوئے 2006ء میں ون ڈے ڈیبیو کیا اور اپنے پہلے میچ میں ہی مین آف دی میچ رہے۔2009ء کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کیلئے جب انگلینڈ ٹیم کیلئے انہیں بلایا گیا تو انہوں نے آئرلینڈ ٹیم کو خیر آباد کہہ دیا۔ اس طرح انہوں نے پہلی مرتبہ 2009ء میں انگلینڈ کی طرف سے ڈیبیو کیا۔اس کے بعد وہ ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیموں کا بھی حصہ بن گئے۔ پچھلے ورلڈ کپ 2015ء میں بھی آئن مورگن کپتان تھے لیکن ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی اور وہ چھے میچز میں سے صرف دو میچ جیت سکی تھی۔ لیکن اس ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی ٹیم نمبرون ٹیم کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے اور کپتان مورگن کی کارکردگی بھی زبردست ہے۔وہ اس وقت بھرپور فارم میں ہیں۔انگلینڈ اور انڈیا دو ایسی ٹیمیں ہیں جن کو اس ورلڈکپ کی ہاٹ فیورٹ ٹیمیں قرار دیا جارہا ہے ۔ایرون فنچ (آسٹریلیا)ایرون فنچ ایک دلکش بلے باز ہیں۔ ایک روزہ میچز میں ان کی کارکردگی متاثر کن ہے۔ ون ڈے سپیشلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے ٹیسٹ کرکٹر بھی ہیں۔فنچ اب تک 109 ون ڈے میچز میں 39.33 کی اوسط سے رنز بنا چکے ہیں۔ وکٹوریہ سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ ایرون فنچ نے اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو ٹی ٹوئنٹی سے 2011ء میں کیا۔ 2013ء میں پہلا ون ڈے سری لنکا کیخلاف کھیلا۔فنچ بنیادی طور پر جارحانہ بلے باز ہیں اور وہ ون ڈے کی ضرورت کے مطابق کھیلتے ہیں۔ بطور اوپنر بلے باز آتے ہیں۔ نئی گیند کو اچھا کھیلتے ہیں اور سیمرز کے چھکے چھڑا دیتے ہیں۔انگلینڈ جیسی وکٹوں پر وہ دھواں دھار بلے بازی کریں گے اور اپنے چوکوں چھکوں سے شائقین کرکٹ کو محظوظ کریں گے۔کین ولیمسن (نیوزی لینڈ)کین ولیمسن کا شمار ویرات کوہلی، ایرون فنچ اور جوئے روٹ جیسے بلے بازوں کی فہرست میں ہوتا ہے۔ یہ جارح مزاج بلے باز انگلش وکٹوں پر اپنی ٹیم کا سکور آرام سے 350 سے اوپر لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 29 سالہ کین ولیسمن کا بیٹنگ اوسط 45.90 ہے۔ 139 ون ڈے میچز میں 11 سنچریاں اور 37 نصف سنچریاں شامل ہیں۔انٹرنیشنل کرکٹ میں 2010ء میں شامل ہوئے اور ورلڈ کپ 2015ء بھی کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 2016ء میں برینڈن میکلم کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیوی ٹیم کے کپتان بنے اور اب تک ٹیم کی سربراہی نبھا رہے ہیں۔ سپن اور فاسٹ دونوں قسم کی باؤلنگ کو بہترین انداز میں کھیلنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ پارٹ ٹائم آف سپنر بھی ہیں۔فاف ڈوپلیسی (جنوبی افریقا)جنوبی افریقا ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی مڈل آرڈر بلے باز ہیں۔ 35 سالہ ڈوپلسی کا کہنا ہے کہ ٹیم کو ناکامی کے خوف سے نکل کر ورلڈ کپ کھیلنا ہوگا۔انہیں معلوم ہے کہ ان کی ٹیم پر چوکر کا دھبہ لگا ہوا ہے جسے وہ دھونا چاہیں گے۔ ان کی ٹیم ایک متوازن ٹیم ہے۔ انگلش کنڈیشنز میں وہ کیسا کھیل پاتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ٹیم کی حالیہ کارکردگی بڑی شاندار رہی ہے۔فاف ڈوپلیسی بھی فارم میں ہیں۔ 134 ون ڈے میچز میں 46.54 کی اوسط سے رنز بنا چکے ہیں۔ 2011ء میں انڈیا کیخلاف ون ڈے ڈیبیو کیا۔ڈمتھ کارونا رتنے (سری لنکا)لنکن کپتان کارونا رتنے بنیادی طورپر افتتاحی بلے باز ہیں۔ کولمبو میں پیدا ہونیوالے 31 سالہ بیٹسمین کارونا رتنے نے اپنے انٹرنیشنل کیئرئیر کا آغاز 2010ء میں آئرلینڈ کیخلاف ٹی ٹونٹی میچ کھیل کر کیا۔پہلا ون ڈے 2011ء میں انگلینڈ کیخلاف کھیلا۔ وہ اب تک صرف 17 ون ڈے میچز کھیلے ہیں۔ اس لحاظ سے انہیں اس ورلڈ کپ کا کم ترین تجربہ کار کپتان کہا جاسکتا ہے۔گلبدین نائب (افغانستان)گلبدین نائب کا تعلق افغانستان کے صوبے لوگر سے ہے۔ وہ 1991ء کو پیدا ہوئے۔ 28 سالہ گلبدین نے اب تک 54 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیل کر 44 وکٹیں حاصل کی ہیں۔وہ ٹیم کے اہم فاسٹ باؤلر ہیں۔ وہ ایک اچھے آل راؤنڈر ہیں۔ کرکٹ میں آنے سے پہلے انہیں باڈی بلڈنگ کا بھی شوق رہا۔ ان کے خاندان نے بہت سے مسائل کا سامنا کیا۔انہوں نے خود بھی بہت مشکل حالات دیکھے۔ والد کو بے روزگار دیکھا ، غربت دیکھی لیکن ہمت نہیں ہاری اور کرکٹ سے وابستہ رہے۔ بالاخر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے کھیلتے 2011ء میں افغانستان کی قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے ان کی ٹیم میں جگہ کو مضبوط بنا دیا۔ انہوں نے ناصرف ون ڈے میں بلکہ کئی ٹی ٹونٹی میچز میں بھی ٹیم کو اپنی آل راؤنڈ کارکردگی سے میچز جتوائے اور اسی کارکردگی کی بنیاد پر ورلڈ کپ میں اصغر افغان کی جگہ کپتان بنا دیے گئے۔جیسن ہولڈر(ویسٹ انڈیزباربیڈوس سے تعلق رکھنے والے جیسن ہولڈر 1991ء میں پیدا ہوئے۔ 28 سالہ ونڈیز کپتان نے اب تک 95 ون ڈے میچز میں زبردست آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔وہ 121 وکٹیں حاصل کر چکے اور 1574 رنز بنا چکے ہیں جس میں 8 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ تینوں فارمیٹ کی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ آئرلینڈ میں ہونیوالی حالیہ تین ملکی سیریز میں بھی ان کی زبردست آل راؤنڈ کارکردگی رہی تھی۔وہ گیند اور بلے کا حسین امتزاج رکھتے ہیں۔ وہ لیجنڈ کلائیو لائیڈ کا انتخاب ہیں۔ انہوں نے جیسن ہولڈر کو 2014ء میں ویسٹ ونڈیز ٹیم کا کپتان نامزد کیا تھا۔ 2010ء میں انہوں نے ٹی ٹونٹی سے ڈیبیو کیا۔ وہ لوئر مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرنے آتے ہیں اور اپنی جارح مزاج بلے بازی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ انگلینڈ کی بیٹنگ وکٹوں پر ان کی چوکوں چھکوں کی بیٹنگ دیکھنے والی ہوگی۔مشرفی مرتضیٰ (بنگلا دیش)مشرفی مرتضیٰ بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار میڈیم فاسٹ باؤلر ہیں۔ جے سور کے علاقے نوریل میں پیدا ہونیوالے مشرفی مرتضیٰ کی عمر 35 سال ہے۔اب تک 209 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے مشرفی وقت آنے پر بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں۔ وہ 265 وکٹیں لے چکے ہیں۔ شروع میں ویسٹ انڈیز کے اینڈے رابرٹس نے جب انہیں باؤلنگ کرتے دیکھا تو انہیں مستقبل کا بہترین باؤلر قرار دیا اور پھر ایسا ہی ہوا۔وہ بنگلا دیش کے بہترین باؤلر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ انہوں نے زمبابوے کیخلاف2001ء میں ون ڈے ڈیبیو کیا۔ 2009ء میں وہ بنگلا دیشی ٹیم کے کپتان بنائے گئے۔ گھٹنے کی انجری کے باعث وہ کئی مرتبہ ٹیم سے باہر بھی رہے لیکن قسمت کی یاوری پھر انہیں 2019ء میں کپتانی کی طرف لے آئی۔

تازہ ترین خبریں