03:24 pm
انگلینڈ میں اپنے بیٹے کے ساتھ موجود حافظ سرفراز احمد کیساتھ ایک چھوٹے لڑکے کی سخت بدتمیزی

انگلینڈ میں اپنے بیٹے کے ساتھ موجود حافظ سرفراز احمد کیساتھ ایک چھوٹے لڑکے کی سخت بدتمیزی

03:24 pm

اسلام آباد (احمد ارسلان) کھیل کوئی بھی ہو ہار جیت ہوتی رہتی ہے ، قارئین! ہمارے نزدیک سپورٹس مین سپرٹ صرف کھلاڑیوں کیلئے ہی نہیں بلکہ دیکھنے والوں کیلئے بھی بے حد ضروری ہے ۔ کھیل خواہ کرکٹ ہو یا ہاکی ، اسے اچھا یا بُرا کھیلنے والے ہمارے اپنے بھائی ہیں ، کسی کے بیٹے ہیں ، کسی کے باپ ہیں اور کسی کے شوہر بھی۔ شائقین کا غصہ اگر جائز طور پر نکالا جائے تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں مگر انہیں کیمرے کے سامنے لا کر انہیں ذلیل کرنا
، چھوٹے چھوٹے بچوں کا قومی ٹیم کو ماں بہنوں کی گالیاں دینا کس قدر غلط ہےیہ آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں ۔ معاشرے میں بڑھتی ہوا عدم برداشت کا ہمارے بچوں میں اس قدر تیزی سے سرائیت کر رہی ہے کہ اب تو ڈر لگنے لگا ہے کہ ہمارے بچے نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں تو کیا نام پیدا کریں گے بلکہ کل کو یہ ایک ایسی نسل پروان چڑھائیں گے جو باتوں کی جگہ محض گالیوں سے کام چلایا کرے گی اور ملک و قوم کا نام خوب روشن کرے گی ۔ غالباً سرفراز احمد ان دنوں انگلینڈ میں موجود ہیں اور وہیں سے ایک تازہ وڈیو سامنے آئی ہے جہاں وہ اپنے بیٹے کو گود میں اٹھائے شاید کھانا کھانے کیلئے کسی جگہ موجود ہیں تبھی وہاں ایک کم عمر بچہ آکر کیمرا آن کرتا ہے اور اپنے سے کئی سال بڑے ’’ حافظ سرفراز احمد ‘‘ کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ ’’ بھائی بات سنیں ! آپ سور( Pig) کی طرح موٹے کیوں ہو رہے ہیں ؟ ، کم کھایا کریں، ملک قوم کا نام تو کیا روشن کرنا ہے آپ تو کھا کھا کر سور کی طرح موٹے ہو گئے ہیں ‘‘۔ قارئین کرام ۔۔! غصہ اپنی جگہ مگر اس طرح کی گھٹیا زبان کا استعمال کس قدر غلط ہے ، اول تو سرفراز احمد اس بچے سے عمر میں کتنے بڑے ہیں ، دوم کسی کھیل میں ہار جیت پر اس طرح وحشی پن کا اظہار آپ کے غصے کوظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ آپ کی تربیت کا عکاس ہے ۔