04:52 pm
میں اس قانون کو نہیں مانتا، ورلڈ کپ فائنل متنازعہ، یوراج سنگھ نے ایسا اعتراض اٹھادیا کہ ہر کوئی حمایت کرے گا

میں اس قانون کو نہیں مانتا، ورلڈ کپ فائنل متنازعہ، یوراج سنگھ نے ایسا اعتراض اٹھادیا کہ ہر کوئی حمایت کرے گا

04:52 pm

لندن(نیوز ڈیسک)سابق بھارتی آل راؤنڈر یووراج سنگھ نے بھی ورلڈ کپ2019ءکے حتمی نتیجے کا تعین کرنے والے زیادہ باؤنڈریز کے قانون پر سوالات اٹھا دیئے ۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں یووراج سنگھ کا کہنا تھا کہ ” میں اس قانون سے اتفاق نہیں کرتا لیکن قانون ،قانون ہوتا ہے،انگلینڈکو ورلڈ جیتنے کی بہت بہت مبارک باد،میرا دل نیوزی لینڈ کے ساتھ ہے جنہوں نے آخری دم تک فائٹ کی،کیا شاندار فائنل رہا“۔یاد رہے
کہ ا نگلینڈ نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پہلی بار ورلڈکپ جیت لیا۔لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے ورلڈکپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹ کے نقصان پر 241 رنز بنائے، کیوی ٹیم کی جانب سے اننگز کا آغاز مارٹن گپٹل اور نکولس ہینری نے کیا، دونوں بلے بازوں نے محتاط انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا تاہم وہ بڑی شراکت داری قائم نہ کر سکے اور 29 کے مجموعے پر اوپننگ جوڑی ٹوٹ گئی، آؤٹ آف فام مارٹن گپٹل فائنل میں بھی خاطر خواہ کارکردگی پیش نہ کر سکے اور صرف 19 رنز پر ہی چلتے بنے۔ون ڈاؤن آنےوالے کین ولیمسن اور اوپنر نکولس ہینری کے درمیان 74 رنز کی شراکت قائم ہوئی تاہم کپتان ولیمسن 30 رنز بناکر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوگئے جبکہ روس ٹیلر صرف 15 رنز کے مہمان ثابت ہوئے اور نکولس بھی 55 رنز پر ہمت ہار گئے۔کیوی ٹیم کے دونوں آل راؤنڈرز اہم میچ میں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے، جمی نیشم 19 رنز بناکر پویلین لوٹے اور کولن ڈی گراؤنڈ 16 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین ٹام لیتھم 47 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔انگلینڈ کی جانب سے لیام پلنکٹ اور کرس ووکس نے 3،3 جب کہ جوفرا آرچر اور مارک ووڈ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔نیوزی لینڈ کے 242 رنز کے تعاقب میں انگلش ٹیم کی جانب سے جیسن روئے اور بیرسٹو پر مشتمل اوپننگ جوڑی نے اننگز کا آغاز کیا تو پہلی وکٹ 28 رنز پر گر گئی، سیمی فائنل میں جارحانہ بیٹنگ سے ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے والے جیسن روئے فائنل میں ناکام رہے اور 17 رنز بنا کر چلتے بنے جب کہ 59 کے مجموعے پر جوروٹ کیچ آؤٹ ہوئے، انہوں نے 7 رنز بنائے۔71 کے مجموعی سکور پر بیرسٹو بولڈ ہوگئے، وہ 36 رنز بنا سکے جبکہ کپتان مورگن بھی ٹیم کو مشکلات میں چھوڑ گئے اور 9 رنز بنا کر چلتے بنے۔پانچویں وکٹ پر بین سٹوکس اور بٹلر نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 110 رنز کی قیمتی پارٹنرشپ قائم کر کے ٹیم کو میچ واپس لائے، بٹلر 196 کے مجموعی سکور پر آؤٹ گئے جسکے بعد ایک طرف سے وکٹیں گرتی رہیں تو دوسرے اینڈ پر بین سٹوکس ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے، انگلینڈ کو آخری اوور میں جیت کے لیے 15 رنز درکار تھے، بین سٹوکس نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے چھکا لگایا اور اگلی ہی گیند پر 2 رنز بنائے تاہم فیلڈر نے تھرو کیا اور گیند باؤنڈری پار کر گئی جس سے انگلینڈ کو 4 اضافی رنز مل گئے۔میزبان ٹیم کو آخری گیند پر جیت کے لیے 2 رنز درکار تھے لیکن دوسرا رن بناتے ہوئے ووڈ رن آؤٹ ہوگئے اور یوں میچ برابر ہوگیا۔نیوزی لینڈ کی جانب سے فرگوسن اور جمی نیشم نے 3،3 جب کہ گرینڈ ہوم اور ہنری نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ونر کے لیے سپر اوور دیا گیا تو انگلینڈ نے بغیر کسی نقصان کے 15 رنز بنائے جس کے جواب میں نیوزی لینڈ نے بھی 15 رنز بنائے تاہم زیادہ باؤنڈریز کی وجہ سے انگلینڈ کو فاتح قراردیا گیا۔ میچ وننگ اننگز کھیلے پر بین سٹوکس فائنل کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔