07:54 am
وسیم اکرم نے محمد عامر کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کر

وسیم اکرم نے محمد عامر کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کر

07:54 am

لاہور : وسیم اکرم نے محمد عامر کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کر دیا، سابق کپتان کا کہنا ہے کہ 27 سال کی عمر میں فاسٹ باولر اپنے عروج کی جانب گامزن ہوتا ہے، جبکہ عامر نے ریٹائرمنٹ لے لی، پاکستان نے اگلے ایک برس کے دوران آسٹریلیا اور انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنی ہے، وہاں عامر کی ضرورت ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم کھلاڑی وسیم اکرم کی جانب سے محمد عامر کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے فیصلے پر ردعمل دیا گیا ہے۔ وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ان کیلئے محمد عامر کا اعلان حیران کن ہے، وہ اس فیصلے کی تعریف نہیں کر سکتے۔ وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ فاسٹ باولرز کا اصل امتحان ٹیسٹ کرکت ہے۔
 
فاسٹ باولر 27 سال کی عمر میں عروج کی جانب جاتے ہیں، تاہم عامر نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ وسیم اکرم کہتے ہیں کہ عامر کو پتہ ہونا چاہیئے تھا کہ اگلے ایک سال میں پاکستان کو آسٹریلیا اور انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز کھیلنی ہے، قومی ٹیم کو فاسٹ باولر کی ضرورت پڑے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق 27سالہ محمد عامر کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کرکٹ کے رویتی فارمیٹ میں کھیلنا میرے لیے اعزاز تھا،آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ قریب آرہی ہے اور پاکستان کے پاس کئی نوجوان فاسٹ باﺅلرز موجود ہیں جس کے باعث میں نے یہ فیصلہ کیا تاکہ سلیکٹرز کو کوئی مشکل پیش نے آئے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اب ٹی ٹوٹنی ورلڈ کپ2020ءاور دیگر میچز کے لیے فارم اور فٹنس پر توجہ دینا چاہتے ہیں ۔ محمد عامر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھ اور خلاف کھیلنے والوں کے شکر گزار ہیں جن سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور انہیں امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا محمد عامر پاکستان کے لیے ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلتے رہیں گے. ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کا کہنا تھا کہ عامر کا شمار موجودہ دور کے بہترین فاسٹ باﺅلر ز میں ہوتا ہے اور ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کمی پاکستان کرکٹ کو محسوس ہوگی ۔ محمد عامر نے جولائی 2009ءمیں سری لنکا کے خلاف گال کے مقام پر اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور 36میچز میں 30.47کی اوسط سے 119وکٹیں حاصل کیں،ان کے بہترین باﺅلنگ فگرز اپریل2017ءمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن کے مقام پر 44رنز دیکر 6وکٹیں لینا رہے۔انہوں نے 2010ءکے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے سے قبل 14ٹیسٹ میچز میں29.09کی اوسط سے 51وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ5سالہ پابندی کے اختتام پر ستمبر2015ءمیں انٹر نیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد انہوں نے 22ٹیسٹ میچز میں 31.51کی اوسط سے 68شکار کیے۔

تازہ ترین خبریں