07:21 am
 بچی مجھے آواز دے رہی ہے، میرا کھانا لگ گیا ہے، عبدالقادر

بچی مجھے آواز دے رہی ہے، میرا کھانا لگ گیا ہے، عبدالقادر

07:21 am

لاہور (ویب ڈیسک) جمعہ 6 ستمبر کو میں اپنے دفتر میں پروگرام کرکے بیٹھا تھا کہ رات 7:59 منٹ پر عبدالقادر صاحب کی کال میرے موبائل پر آئی، ہمیشہ کی طرح وہی خوش گوار انداز میں گفتگو کرنے والے عبدالقادر صاحب سے 37 منٹ میری بات چیت ہوئی۔ میری ان سے گفتگو اس بات پر ختم ہوئی کہ بچی مجھے آواز دے رہی ہے، میرا کھانا لگ گیا ہے، عموماً قادر بھائی کھانے کے دوران یا کھانے کے وقت مجھے کہتے تھے
کہ میں آپ کو کال کرتا ہوں، لیکن اس بار میں نے قادر بھائی سے کہا کہ آپ کھانا کھائیں پھر بات ہوتی ہے، مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ میری قادر بھائی سے آخری بار بات ہو رہی ہے۔ میں اپنی ”اسکور“ ٹیم کے ارسلان اور رمیز کے ساتھ پریس کلب کھانے کے لئے دفتر سے نکلا، ابھی پہلا لقمہ بھی نہیں لیا تھا کہ آفس سے خرم صدیقی صاحب کا فون آیا، انہوں نے کہا یہ خبر سچ ہے کہ قادر بھائی کا انتقال ہوگیا ؟ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا، خرم بھائی ابھی تو میری بات ہو رہی تھی۔ پھر میں نے قادر بھائی کو ڈرتے ہوئے فون ملایا، دوسری طرف سے کسی خاتون نے فون اٹھایا، اور میرے استفسار پر بولیں، جی ان کی طبیعت خراب ہے، کہہ کر فون کاٹ دیا۔ خرم صدیقی کی بات میرے کانوں میں گونج رہی تھی، مجھے لگ رہا تھا، جیسے کچھ ہو گیا ہے، میں نے دوسرے فون سے قادر بھائی کے سب سے لاڈلے بیٹے سلمان کو فون کیا، جو مسلسل مصروف تھا، پھر چند منٹ بعد سلمان نے مجھے خود فون کیا، اور کہا یحییٰ بھائی ”پاکستان کرکٹ میں سچ بولنے والی آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی ہے“۔واقعی سلمان قادر کے الفاظ درست تھے، با اصول، با کردار اور حق بات کہنے والے عبدالقادر جو 15ستمبر 1955ءکو پیدا ہوئے، اپنی 64ویں سالگرہ سے 8دن پہلے مرحوم ہوگئے۔

تازہ ترین خبریں