10:23 am
نوری آبشار

نوری آبشار

10:23 am


میرے گاؤں کا نام نلہ ہے یہ پیر سوہاوہ ٹاپ سے بجانب ہری پور کوئی پینتیس کلو میٹر دور ہے۔یہ پورا علاقہ سر سبز و شاداب ہے اسلام آباد کی مارگلہ ہلز کی چوٹی سے لے کر ندی ہرو پل تک سر سبز وادیوں پر مشتمل اس علاقے کی خوبصورتی کی مثال دیتے ہوئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں علاقے کی خوبصورتی کو نئی سڑک نے چار چاند لگا دئے ہیں ،یہ سڑک ہمارا خواب تھی ہمارے بزرگوں کی کوششوں سے کچی نکلی اور اب اﷲ کا کرم ہے عمران خان کی حکومت آئی تو انقلاب آ گیا ۔ندی ہرو گلیات کی پہاڑیوں سے نکلتی شور شرابہ کرتی وادہ ء لورہ کے بغل سے ہوتی ہوئی اس پل کے نیچے سے گزرتی ہے جسے نلہ پل کہا جاتا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ جبری پل ہے حالنکہ جبری گاؤں اس پل سے چار کلو میٹر دور ہے۔ویسے بھی کچھ لوگوں کو عادت سی ہو گئی ہے نلہ پل اور نلہ جنگل بنگلہ کو جبری کے نام سے جوڑ رہے ہیں ان کی مرضی مگر جبری یہاں سے دور افتادہ گاؤں ہے ۔جس کی خوبصورتی چیڑھ کے درختوں سے عاری ہے۔اسی نلہ گاؤں سے ملحقہ گاؤں پینہ ہے جو ہلی کی ایک داخلی ہے جہاں جندر بھی ہیں اور یہ خوبصورت آبشار بھی ۔اگر آپ اس آبشار تک جانا چاہتے ہیں تو اس کے دو راستے ہیں ایک ٹیال سیداں سے ہو کر گزرتا ہے جو وی سی نلہ کا ایک گاؤں ہے دوسرا راستہ فارسٹ بنگلہ سے نلہ کی جانب جانے سے یہاں پہنچتا ہے۔نلہ روڈ پر آگے جائیں تو گاؤں کی مارکیٹ ہے جہاں چند دکانیں ہیں یہیں سے انتہائی دائیں جانب آپ پینہ کی طرف جاتے ہیں یہاں روڈ کی خستہ حالی زبان زد عام سے کسی سے شکوہ کرتی نطر آتی ہے ۔آپ موٹر بائیک پر اور جیپ سے جا سکتے ہیں کار پر سفر نہیں کیا جا سکتا۔
 
اﷲ خوش رکھے میرے دوست اشرف عباسی کو پینہ ان کا گاؤں ہے جب ہم جدہ میں ایک ایک کمرے میں پانچ پانچ لوگ رہا کرتے تھے بابو جی اپنے گاؤں اور اس کے جندر اور اس ٹنھ کی بات کرتے تھے جسے وہ نوریاں دی ٹنھ کا نام لے کر بیان کرتے تھے یہ ۱۹۷۸ کی بات ہے بعد میں وقت گزرا تو ان کے روشن جبین بیٹے اشتیاق عباسی نے اس آبشار کو لوگوں سے روشناس کرایا ۔وہ اپنے صحافی دوستوں کو لے کر گیا اور الیکٹرانک میڈیا میں روزنامہ ایکسپریس نے کوئی دو سال پہلے لوگوں کو بتایا ۔آج کا دور فیس بک کا ہے وادی ء نلہ پیج پر نلہ پل اور نوری آبشار کی کوریج کو میں نے لوگوں تک پہنچایا علاقے کے لوگوں نے خصوصا وی ہیلی پیج نے اس چھپی ہو دولت سے لوگوں کو آشناء کرایا ۔جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ اسے دیکھنے پہنچ گئے۔کہتے ہیں ٹیال کے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے اسی طرح نلہ میں رونقیں لگ گئیں ۔دو روز پہلے ایک ناخوشگوار واقعہ پیش ؤیا جس مین تین نوجوان ڈوبے دو کو تو بچا لیا گیا لیکن ایک جان کی بازی ہار گیا جس کا مجھے دلی دکھ ہوا ہے اور ہمارا پورا علاقہ افسردہ ہے۔مہمان نوازون کی اس دھرتی میں اس واقعے نے سوگ کی فضاء طاری کر دی ہے نلہ گاؤں کے چودھری نثار نے گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہا نوجوان اھتیاط نہیں کرتے اسے بھی ایک نہر سمجھ کر چھلانگین لگاتے ہیں ملک ربنواز گجر کاشف ارشاد گجر چودھری ذیشان نثار اور اہل گاؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس آبشار کو آسان نہ لیں پتھروں سے مزین اور گہرے پانی والی یہ جگہ خطر ناک ہے۔چھلانگیں لگانے سے سر کسی پتھر سے تکرا جاتا ہے اور انسان موقع پر ہی ہلاک ہو جاتا ہے۔پانی چونکہ پتھروں میں بنی غاروں میں بھی موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے لاش غائب ہو جاتی ہے اور کئی دن تک غائب رہتی ہے اور وقت کے ساتھ ہلکی ہو کر باہر آتی ہے۔اب یہاں ایک سوال پیدا ہو گیا ہے کہ اس آبشار کو سیاحیوں کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔کاشف کے مطابق اسے محکمہ سیاھت نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور آبشار کی طرف جانے والے راستے بند کر دئے گئے ہیں ۔علاقہ مکینوں کے بقول انسانی جانیں بہت قیمتی ہیں اور ہم میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ یہ آبشار خونی آبشار بن جائے لیکن بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا میں نیاگرا سے لے کر نوری ؤبشار تک سجی کوٹ والی ؤبشار سے لے کر دریائے کنہار میں بننے والی ساری آبشاریں خطر ناک ہوتی ہیں کیا ان قدرتی نظاروں کو بند کر کے بنی نوع انسان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ان جلووں کو نہ دیکھیں یا ھفاظتی اقدامات کر کے انہیں انہیں انسانوں کے لئے محفوظ کیا جائے ۔ میں نے ابہاء شہر سے جڑے علاقوں کو دیکھا ہے جہاں پہاڑ کے نیچے گری کھائی ہے اور لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں لیکن حکومت نے وہاں حفاظتی بار لگا کر لوگون کو محفوظ کیا ہے محکمہ سیاحت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں اور نوری آبشار میں نہانے پر پابندی لگانی چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیاحت کے فروغ کے لئے دن رات کام کر رہی ہے۔جب تک محکمہ سیاحت وہاں اپنا کام مکمل نہیں کر لیتا ڈی سی ہری پور کو حفاظتی اقدامات کے لئے پولیس کی تعیناتی کر کے لوگون کی زندگیوں کو محفوظ کر لینا چاہئے۔ غربت کے مارے اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں ہوں گی تو لوگوں کی زندگی بہتر ہو گی۔ دوسری اہم بات بنگلہ سے نجف پور رود پر کام مکمل کیا جائے اور نلہ مین مارکیٹ سے پینہ روڈ پختہ کرنا بھی ضروری ہے تا کہ لوگ آسانی سے اس جگہ پہنچ سکے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے دور میں ان گننت ترقیاتی کام کر رہی ہے اسے گرچہ عمران خان کے نام نہیں کیا جا رہا اور ایک خاندان اپنے ذمے سارا کریڈٹ لے رہا ہے جو سرا سر ناجائز ہے۔کسی ایک منصوبے پر عمران خان کا نام نہیں لکھا جا رہا ۔اس بات میں کوئی باق نہین یہ کام عمران خان کے نام جاتے ہیں ورنہ یہی لوگ عشروں سے اقتتدار میں رہے ہیں ۔ایون خان کے دور میں کوئی ایک کام بھی اس علاقے کے لئے نہیں ہوا جو کام بھی ہوئے جونیجو دور یا پھر عمران خان دور میں ہوئے ہیں اس علاقے کی ترقی میں مختار گجر کا نام سر فہرست ہے۔بیدار شاہ زندہ ہیں ان سے پوچھ لیا جائے کہ پیر سوہاوہ کوہالہ روڈ بنگلہ نجف پور روڈ کی ابتداء کس نے کی۔۱۹۶۷ میں چودھری جان محمد ببھوتری نے مجھے بتایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب نجف پور تک سڑک جائے گی۔اﷲ خوش رکھے جبری کے ملک عبدالرحمن اور میرے تایا اور والد صاحب پھوپھا صاحب نے اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی مدد آپ سے سڑک نکالی جو مختار گجر نے سیری گل بہار جنڈی تک پہنچائی۔ آبشاریں راستے کھلے رکھیں جب بنگلہ سے نجف پور روڈ مکمل ہوا تو اﷲ پاک سب کو اجر دے گا سمیت بابر نواز راجہ عامر مختار گجر یوسف ایوب اور دیگر لوگوں کو ۔درخت لگائیں پھل نصیبوں والوں کو مل کے رہے گا ۔اس علاقے نے بڑی پسماندگی دیکھی ہے لوگو روٹی کی تلاش میں یہاں سے نکلے برما سنگا پور کی لڑائیوں میں جانیں دیں کچھ لوگ میدانوں میں جا کر ؤباد ہو گئے وہیں دفن ہو گئے اور اپنی مٹی کو ترستے رہے۔اب بھی اس علاقے مین ڈھنگ کا کوئی ہسپتال نہین ڈسپنسری نہیں ماجد مختار گجر نے کوہالہ میں بنا دی ہے جس کے لئے اسے بڑی مشکلات کا سامنا ہے ۔میری فیملی نے کئی کنال اراضی دے کر نلہ کو بنیادی ہیلتھ سینٹر دیا ہے وہاں بھی سنتے رہتے ہیں ڈاکتر تک نہیں ۔صوبائی حکومتیں با اختیار ہیں انہیں چاہئے کام کریں لوگوں نے بھاری ووٹ دئے ہیں یہ کام صوبائی حکومت کا ہے ایم پی اے کام کریں ۔خوشی کی بات ہے کہ جبری میں گرڈ اسٹیشن بن گیا ہے اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ لوگوں کے موبائل چارج ہو جایا کریں گے۔ اس خوبصورت علاقے کی قسمت بدلنے والی ہے میں لوگوں سے پہلے بھی درخواست کر چکا ہوں اپنی زمینیں سنبھال کے رکھیں کسی کو نہ بیچیں یہ زمینیں مری کی زمینیوں کی طرح قیمتی ہوں گی اس وقت آپ ترسیں گے۔ابھی سے پٹواری سے معاملات کلیئر کرائیں۔ علاقے میں آنے والے مہمانوں کی عزت کریں میں سیاحوں سے درخواست گزار ہوں مقامی قدروں کا لحاظ رکھیں یہ آبشاریں یہ راستے سب آپ کے ہیں آپ پاکستان دیکھیں کاغان ناران دور ہیں آپ اس علاقے کو دیکھیں اپنا خیال رکھین اپنے ساتھ والوں کا بھی اور فیملی کا بھی ۔نوری آبشار کو با ھفاظت بنا کر کھلا رکھیں