04:28 pm
فوجی عدالتیں، فوری انصاف

فوجی عدالتیں، فوری انصاف

04:28 pm

پاکستان میں دہشت گردی کی لہر تھی ، دہشت گرد گرفتار بھی ہوتے تھے لیکن ہمارا فواجدارنظام دہشتگردوں کو سزائیں دینے میں نا کام رہا۔ فوجی عدالتوں کاقیام سانحہ اے پی ایس کے بعد پارلیمنٹ کی منظور ی اور اتفاق رائے سے عمل میں لایا گیا تھا،
فوجی عدالتیں فوج کی خواہش نہیں بلکہ قومی ضرورت تھیں،ان کے قیام سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی، بعد میں دو بار پارلیمنٹ سے ہی توسیع کی گئی۔ اگر اب پارلیمنٹ فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی منظوری دیتی ہے یہ عدالتیں قائم رہیں گی اور اگر نہیں دیتی تو ختم ہوجائیں گی۔ فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لانے کا مقصد فوجداری نظام میں بہتری لانا تھالیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان چار سالوں میں فوجداری نظام میں بہتری آئی ہے اورہماری فوجداری نظام دہشتگردی سے نمٹ لے گا ؟ فوجی عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزائیں دینے سے دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں پر خوف طاری ہواہے ،ان کوپتہ ہے کہ اب انصاف ہورہاہے ، ہمارا فوجداری نظام بہت سست ہے جس میں اصلاحات کی ضرورت ہے ، جب یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا تو پھر یہ مقدمات وہا ں منتقل ہوجائیں گے۔ فوجی عدالتوں کا تعلق لاپتہ افراد یا ایسے معاملات سے نہیں ہے ، فوجی عدالتوں میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے جاتے ہیں، فوجی عدالتوں نے 345ملزمان کو سزائے موت سنائی ہے جن میں سے صرف 56ملزمان کو سزائے موت ہوئی ،چار سال میں فوجی عدالتوں میں 717مقدمات آئے جن میں سے 646مقدمات کے فیصلے کئے گئے ہیں ، فوجی عدالتوں میں ملزموں کو اپیل کاحق ملتاہے ، آرمی چیف اگر سزائے موت دیتے ہیں تو مجرم ملٹری کورٹ میں اپیل کرتاہے اوراگر ملٹر ی کورٹ سے منظور ی نہ ہوتو پھر اپیل صدر مملکت کے پاس جاتی ہے۔ فوجی عدالتیں قائم رکھنے کیلئے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا ، پارلیمنٹ نے منظور ی دی تو فوج ملٹری کوٹس قائم رکھے گی ۔قائد حزب اختلاف ،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گردی میں کمی آئی اورفوجی عدالتیں بننے سے دہشت گردوں میں خوف پیدا ہوا اور دہشت گردی میں بھی کمی آئی۔ قانون کی حکمرانی کو آگے بڑھنا چاہے اور فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے حکومت نے رابطہ کیا تو سوچ و بچار کریں گے۔ نواز شریف کی حکومت نے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا تھا، فوجی عدالتوں، ضرب عضب اور ردالفساد کی وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ فوجی عدالتیں بنی تو اس کا خوف پیدا ہوا۔ گزشتہ 4 سال میں فوجی عدالتوں کے کام سے دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی۔فوجی عدالتوں سے سنگین دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کو سزائیں سنائی گئیں۔سزا سنائے جانے والے دہشت گردوں میں اے پی ایس حملہ، جی ایچ کیو حملہ، میریٹ ہوٹل حملہ، پریڈ لائن ایریا حملہ، 4 ایس ایس جی جوانوں پر حملہ، بنوں جیل حملہ، آئی ایس آئی کے سکھر و ملتان کے دفاتر پر حملے اور چوہدری اسلم، سبین محمود اور امجد صابری کے قتل میں ملوث مجرمان شامل ہیں۔فوجی عدالت سے سزا پانے والے مجرمان میں کراچی ایئر پورٹ حملہ، سانحہ صفورا، باچا خان یونیورسٹی حملہ اور نانگا پربت پر غیر ملکیوں پر حملے میں ملوث دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ فوجی عدالتوں کو قیام سے اب تک 717 دہشت گردوں کے کیس بھیجے گئے، 717 کیسوں میں سے 546 کے فیصلے سنا دیے گئے۔546 کیسوں میں 310 دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ 234 دہشت گردوں کو مختلف مدت کی سزائیں سنائی گئیں۔ فوجی عدالتوں سے 2 ملزمان بری بھی کیے گئے۔ سزائے موت پانے والے 310 دہشت گردوں میں سے 56 کو پھانسی دی جاچکی ہے، 254 دہشت گردوں کی سزائے موت قانونی چارہ جوئی کے باعث زیر التوا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفو رکا کہنا ہے کہ فوجی عدالتیں قائم رکھنے کیلئے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا ، پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا توفوجی عدالتیں قائم رہیں گی، فوجدار ی نظام دہشت گردوں کوسزائیں دینے میں نا کام رہا۔ 2017 ء میں پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں کو دو سالہ توسیع ملی تھی اور اس وقت کے صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کے بل کی منظوری دی تھی اور اس وقت اس معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذکرات کا طویل سلسلہ چلا تھا۔ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دسمبر میں واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی جماعت فوجی عدالتوں کی دوبارہ توسیع کی حمایت نہیں کرے گی۔پیپلز پارٹی نے اب پھر دوبارہ پارٹی اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے جو عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنانے تک فوجی عدالتوں کی موجودگی ضروری ہے۔پاکستان کو صرف ٹی ٹی پی سے نہیں بلکہ داعش سمیت کئی دہشتگرد گروپوں سے خطرہ ہے جنہیں ہلکا نہ لیا جائے۔فوجی عدالتوں کے معاملہ پر سیاست نہ کی جائے کیونکہ یہ ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے بھاری قربانیاں دی گئی ہیں، ملک وقوم کو کسی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، فوجی عدالتیں پر امن شہریوں کے حقوق پر اثر انداز نہیں ہورہیں ۔فوجی عدالتوں نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ ملٹری کورٹس نے آپریشن ضرب عضب کے نتائج کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔قوم نہیں چاہتی کہ دہشت گرد ایک بار پھر قانونی موشگافیوں سے بچ نکلیں اور دندناتے پھریں۔یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ جب تک ہمارا عدالتی نظام مضبوط نہیں ہو پاتا دہشت گردی اور دہشت گرد اب بھی بہت بڑا خطرہ ہیں۔ دہشت گرد اور انکے سہولت کار ابھی کونوں کھدروں میں موجود ہیں‘ جنھیں جیسے ہی ساز گار حالات ملے وہ سر اٹھانے میں دیر نہیں لگائیں گے۔لہذا وقت کا تقاضہ ہے کہ ایک بار پھر ملک کے عظیم تر مفاد میں فیصلہ کیاجائے اسی میں ملک کی بقا ہے۔ فوجی عدالتوں میں توسیع کا مقصد آپریشن ضرب عضب ،ردالفسادمیں حاصل کی گئی کامیابیوں کو دیرپا بنانا ہے امید ہے حکومت تمام پارٹیوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کا میاب ہو جائے گی اور فوجی عدالتوں میں توسیع ہو گی جو ملکی مفاد میں ہے۔

تازہ ترین خبریں

خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم کاپشاور میں جماعت اول سے ہشتم تک کے امتحانات لینے کا ‏فیصلہ

خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم کاپشاور میں جماعت اول سے ہشتم تک کے امتحانات لینے کا ‏فیصلہ

 پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔زاہد حفیظ

پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔زاہد حفیظ

 آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی اور پاکستان پیپلزپارٹی بعض حلقوں میں اتحاد کرنے والی ہیں، رانا عظیم

آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی اور پاکستان پیپلزپارٹی بعض حلقوں میں اتحاد کرنے والی ہیں، رانا عظیم

پی ایس ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور ۔۔۔۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو جیت کیلئے 248 رنز کا ہدف دے دیا

پی ایس ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور ۔۔۔۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو جیت کیلئے 248 رنز کا ہدف دے دیا

کراچی میں پی ٹی آئی کے 50رہنما پارٹی چھوڑ کر پی پی میں شامل

کراچی میں پی ٹی آئی کے 50رہنما پارٹی چھوڑ کر پی پی میں شامل

 ٹرانسپورٹ منصوبوں کیلئے مختص بجٹ کا 92 فیصد صرف ایک ٹرین پر خرچ ہوگا

ٹرانسپورٹ منصوبوں کیلئے مختص بجٹ کا 92 فیصد صرف ایک ٹرین پر خرچ ہوگا

صحافی وسیم بادامی نے حیران کن واقعہ شئیر کردیا

صحافی وسیم بادامی نے حیران کن واقعہ شئیر کردیا

احساس ایجوکیشن سی سی ٹی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے سکینڈری تعلیم کیلئے وظائف کی منظوری

احساس ایجوکیشن سی سی ٹی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے سکینڈری تعلیم کیلئے وظائف کی منظوری

 شہبازشریف کی فلم میں کامیڈی ایکشن ‏اور آب بیتی کی داستان تھی۔ فردوس عاشق اعوان

شہبازشریف کی فلم میں کامیڈی ایکشن ‏اور آب بیتی کی داستان تھی۔ فردوس عاشق اعوان

حکومت کو ایف بی آر کو سپریم کورٹ کے اختیارات دینے کی کوشش کا انکشاف

حکومت کو ایف بی آر کو سپریم کورٹ کے اختیارات دینے کی کوشش کا انکشاف

عوام بھاری منافع کے لالچ میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور سکیموں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ نیب

عوام بھاری منافع کے لالچ میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور سکیموں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ نیب

ملک بھر میںموسم کیسا رہے گا ؟ کہاں کہاں بارش ہوگی ۔۔۔محکمہ موسمیات نے سب بتا دیا

ملک بھر میںموسم کیسا رہے گا ؟ کہاں کہاں بارش ہوگی ۔۔۔محکمہ موسمیات نے سب بتا دیا

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ