12:48 pm
چیف جسٹس کھوسہ سے وابستہ توقعات

چیف جسٹس کھوسہ سے وابستہ توقعات

12:48 pm

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اپنا عوامی دورختم کرکےعزت و آبرو سےرخصت ہوئے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملک کے 26ویں چیف جسٹس کےطور پراپنے عہدے کا حلف اٹھا کر پہلے روز سے ہی انصاف کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا۔بلوچ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے نئے چیف جسٹس کا تعلق ڈیرہ غازیخان سے ہے ۔انہوں نےملتان بورڈ سے میٹرک کا امتحان امتیازی حیثیت میں پاس کرکےگورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا،ایف اے میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے پنجاب یونیورسٹی سےگریجوایشن کی اوراس میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی،1973ء میں انہوں نےانگلش لینگویج اورلٹریچر میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی

۔دوران تعلیم وہ مولانا سید ابو الاعلی مودودی اور نعیم صدیقی سےمتاثر رہے،بی اے میں انہیں ان کی ذہانت پرنیشنل سکالرشپ ایوارڈ سےنوازا گیا۔بعدازاں انہوں نے کوئنز کالج کیمبرج میں داخلہ لیا اوریہاں سے ماسٹرآف لاء کی ڈگری حاصل کی اور پبلک انٹر نیشنل لاء میں سپیشلائزیشن کیاجس کے بعد لندن میں لیکنز ان بار میں انکو دعوت بھی دی گئی۔جسٹس کھوسہ لاہور ہائیکورٹ میں بطورجج خدمات انجام دے رہے تھے جب جنرل مشرف نے2007ء میں ایمرجنسی نافذ کرکے آئین کومعطل کردیا اور اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کو پی سی اوکےتحت دوبارہ حلف اٹھانے کا کہا،جسٹس کھوسہ بھی ان ججوں میں شامل تھے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیاتھا،عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجہ میں تمام معطل جج صاحبان بحال کردئیے گئے،بحالی کے بعد جسٹس کھوسہ اس بینچ کا بھی حصہ رہے جس نے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قراردیا تھا۔ جسٹس کھوسہ نے اس کیس میں ایک6صفحات پر مشتمل الگ نوٹ تحریر کیا جس میں خلیل جبران کےناول سے کوٹیشن بھی شامل تھی جو اگلے روز تمام اخبارات کی ہیڈنگ بنی،جسٹس کھوسہ سپریم کورٹ کے اس بینچ کےسربراہ تھے جس نے وزیراعظم نواز شریف کیخلاف پاناما کیس میں منی لانڈرنگ اور آف شور کمپنیوں کےحوالے سے فیصلہ دیا۔اس کیس میں بھی انہوں نے اپنے الگ نوٹ میں لکھا کہ ہم اس کیس کی گہرائی اور فیصلہ کے اثرات سے آگاہ ہیں، یہ کہنا کہ کوئی بد دیانت ہے اپنی جگہ مگر ہمیں اس حوالے سے کچھ احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے ورنہ آرٹیکل 62 اور63کے تحت امیر جماعت اسلا می سراج الحق کے سواسب زد میں آجائیںگے،اس آرٹیکل کی رو سے کوئی رکن پارلیمنٹ سچا اور دیانتدار نہیں ٹھہرتا،جسٹس کھوسہ اورجسٹس گلزار نے اپنے فیصلہ میں نوا ز شریف کو نا اہل قرار دیامگر اکثریتی ججوں نے تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ دیا اور ٹیم کو 60روز میں تحقیقات مکمل کرنیکی ہدایت کی۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ فیصلہ دیتے وقت معروضی حقائق کو مد نظر رکھتے ہیں،اسی لئے انکے فیصلے ہمیشہ ہی تاریخی ثابت ہوئے،سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےعوامی نوعیت کےفیصلے دئیے اور عوامی انداز اپنا کےعوام کو آئینی قانونی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانےکیلئے بھی اقدامات بروئےکار لائے ،جس کی وجہ سے عوام کی اعلیٰ عدلیہ سے امیدیں بھی دوچند ہو گئی ہیں۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا شمار بولڈ فیصلے کرنے والے ججز میں ہوتا ہے۔ماضی میں اعلیٰ عدلیہ کےکچھ فیصلے آج بھی متنازعہ تصورکئے جاتے ہیں،کم از کم 12فیصلے ایسے ہیں جن پر قانونی برادری آج تک شرمندہ ہے۔1954ء میں جسٹس منیر نےگورنرجنرل غلام محمدکےحق میں قانون ساز اسمبلی کی تحلیل کو برقرار رکھا،اس فیصلہ پر آج بھی تنقید کی جاتی ہے مگر جسٹس اے آر کارنیلس نے سپیکر مولوی تمیزالدین کے حق میں اختلافی نوٹ لکھ کر خود کو تاریخ میں امر کر لیا۔1958ء میں صدر اسکندر مرزا کی طرف سے عائد مار شل لاء کی توثیق بھی ایک متنازعہ فیصلہ تھاجس کے بعد جنرل ایوب خان نے مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر کے طور پر اقتدار سنبھالا اور دوسال قبل بننے والا 1956ء کا آئین معطل کر دیا گیا۔اس فیصلہ کے بعد ایوب خان نے صدرا سکندر مرزا کو بھی برطرف کر دیاِِِتھا۔ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ بھی عدالتی تاریخ میں اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا جاتا۔جنرل ضیا ء الحق کی طرف سے محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف ،اسمبلیوں کو تحلیل کر نے کے اقدام کو بھی سپریم کورٹ نے اولاًجائز قرار دیا مگر ایک سال بعد اپیل کے فیصلہ میں پہلے فیصلہ کو مسترد کر دیا اور ساتھ پخ لگائی کہ اب نئے الیکشن ہونے والے ہیں۔ 1990ء اور 1993ء میں بینظیر حکومت گرانے کے صدر غلام اسحٰق اور صدر فاروق لغاری کے فیصلوں پر بھی اعلیٰ عدلیہ نےصادر کیااور بینظیر کو انصاف نہ ملا،1999ء میں ظفر علیشاہ کیس میں جنرل مشرف کو آئین میں ترمیم کی اجازت دیکر ملک کو اندھی گلی میں دھکیلا گیا،مشرف کو فوجی وردی میں صدارتی الیکشن لڑنے کی اجازت ، دنیا کی عدالتی تاریخ کا سیاہ فیصلہ تھا۔جسٹس افتخار چودھری کے مشرف کا حکم ماننے سے انکار عدلیہ میں نئی جان ڈالنے کے مترادف تھا، قوم نے بھی بہت امیدیں وابستہ کرلی تھیں مگر جسٹس چودھری قوم کی امیدوں پر پورا نہ اترے،جسٹس ثاقب نثار نے اگرچہ تھوڑے عرصہ کیلئے اس عہدے پر خدمات انجام دیں مگر وہ عدلیہ کاتشخص بحال کرنے میں کامیاب ہوئے اور اپنے بعد آنے والوں کو ایک مشکل ٹاسک دیکر با عزت طور پررخصت ہوئے۔نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بہت ہی اچھی شہرت کے جج شمارکئے جاتے ہیں، ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ معاملات کو ٹالناانکی سرشت میں نہیں،بے قاعدگی برداشت نہیں کرتے،قانون کے دائرے میں رہتے ہوئےسخت فیصلےلینے کے عادی ہیں،مرعوبیت ان کی طبیعت کا حصہ نہیں،آئین کو مقدم سمجھتے ہیں۔ اب قوم کو ان سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں،خاص طور پر کرپشن کےزیرالتوا مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور ماتحت عدلیہ سے کرپشن کا خاتمہ کرنا۔ اگر چہ لاہور ہائیکورٹ نے اس ضمن میں انتہائی اہم اقدامات اٹھائے ہیں مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے،جھوٹے مقدمات نہ صرف ماتحت عدلیہ پر بوجھ ہیں بلکہ وقت اور توانائی کاضیاع بھی، انکی روک تھا م ضروری ہے لہذٰا مقدمہ جھوٹا ثابت ہونے پر مدعی مقدمہ کو بھاری جرمانہ کیا جائے تا کہ اس روش کی حوصلہ شکنی کی جا سکے.مقدمات کو التواء میں رکھنابھی انصاف کا قتل ہے اس لئے تیز رفتار سماعت اور جلد فیصلوں کا میکنزم تشکیل دیا جائے،ماتحت عدلیہ میں احتساب کے نظام کو موثر بنانا بھی وقت کی ضرورت ہے۔حضرت علیؓ کا فرمان ہے’’کفرکی حکومت قائم رہ سکتی ہے ظلم کی نہیں‘‘اور قوم کو جسٹس آصف کھوسہ سے امید ہے کہ وہ انصاف کی فوری فراہمی کیلئےانقلابی اور فوری اقدامات اٹھائیں گے۔انصاف میں تاخیر ہمارے معاشرے کا المیہ ہےاور اس کیلئے ہم سب جوابدہ ہیں،چیف جسٹس کھوسہ پر اس حوالے سے بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔میرا ، ان کے دو بیوروکریٹ بھائیوں سےبڑا اچھا تعلق ہے، میں ان کی فیملی،انکی قدروں سےواقف ہوں ،اسلئے مجھےذاتی طور پرجسٹس کھوسہ سےاچھی امیدیں ہیں۔جس طرح ان کےدونوں بھائیوں نے نیک نامی سمیٹی ،اسی طرح چیف جسٹس کھوسہ بھی عوام کو ریلیف اور انصاف دینے سمیت عدلیہ کے ادارے کو بلندی کی طرف لے جائیںگے۔وہ خود بولیں نہ بولیں ان کے فیصلے بولیں گے اور ججوں کے فیصلے ہی بولتے ہیں 


تازہ ترین خبریں

یا اللہ رحم۔۔کراچی میں شدید بارشیں اور آندھی۔۔کتنے افراد جاں کی بازی ہار گئے۔۔ خبر نے دل چیر دیئے

یا اللہ رحم۔۔کراچی میں شدید بارشیں اور آندھی۔۔کتنے افراد جاں کی بازی ہار گئے۔۔ خبر نے دل چیر دیئے

نفیسہ شاہ اور شیریں مزاری آمنے سامنے۔۔۔۔  ایک دوسرے پر نقل کرنے کا الزام لگادیا

نفیسہ شاہ اور شیریں مزاری آمنے سامنے۔۔۔۔  ایک دوسرے پر نقل کرنے کا الزام لگادیا

عمران خان نے ریحام خان سے جان چھڑوانے کےلئے جہانگیر ترین سے مدد مانگی تھی

عمران خان نے ریحام خان سے جان چھڑوانے کےلئے جہانگیر ترین سے مدد مانگی تھی

 سندھ سے انتہائی بری خبر ۔۔۔۔۔ 11 افراد جاں بحق ہوگئے 

 سندھ سے انتہائی بری خبر ۔۔۔۔۔ 11 افراد جاں بحق ہوگئے 

امتحانات دینے والے طلبا کیلئے خوشخبری ۔۔۔۔ تعلیمی بورڈز کا اہم فیصلہ

امتحانات دینے والے طلبا کیلئے خوشخبری ۔۔۔۔ تعلیمی بورڈز کا اہم فیصلہ

جہانگیر ترین ایک مرتبہ پھر سرگرم ۔۔۔۔۔ہم خیال اراکین پارلیمنٹ کیلئے عشائیہ کا اہتمام ۔۔ پی ٹی آئی اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری

جہانگیر ترین ایک مرتبہ پھر سرگرم ۔۔۔۔۔ہم خیال اراکین پارلیمنٹ کیلئے عشائیہ کا اہتمام ۔۔ پی ٹی آئی اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری

ذاتی رنجش پر مخالفین نے زمیندار کی بھینس کر زہردے کر مار ڈالا

ذاتی رنجش پر مخالفین نے زمیندار کی بھینس کر زہردے کر مار ڈالا

ماروی سرمد کے حیران کن ماضی سے پردہ اٹھا دینے والی تحریر

ماروی سرمد کے حیران کن ماضی سے پردہ اٹھا دینے والی تحریر

پی ڈی ایم کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاریاں

پی ڈی ایم کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاریاں

پاکستانیوں کیلئے ایک اوربڑی خوشخبری۔۔صوبہ بلوچستان میں گیس کے نئے ذخائر دریافت کرلیے گئے۔

پاکستانیوں کیلئے ایک اوربڑی خوشخبری۔۔صوبہ بلوچستان میں گیس کے نئے ذخائر دریافت کرلیے گئے۔

امتحانات دینے والے طلبا کیلئے خوشخبری ۔۔۔۔ تعلیمی بورڈز کا اہم فیصلہ 

امتحانات دینے والے طلبا کیلئے خوشخبری ۔۔۔۔ تعلیمی بورڈز کا اہم فیصلہ 

رنگ روڈ میگا سیکنڈل پر پیپلزپارٹی نے وزیراعظم سمیت اسکینڈل میں ملوث وزراء سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا

رنگ روڈ میگا سیکنڈل پر پیپلزپارٹی نے وزیراعظم سمیت اسکینڈل میں ملوث وزراء سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا

جہانگیر ترین ایک مرتبہ پھر سرگرم ۔۔۔۔۔ہم خیال اراکین پارلیمنٹ کیلئے عشائیہ کا اہتمام ۔۔ پی ٹی آئی اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری

جہانگیر ترین ایک مرتبہ پھر سرگرم ۔۔۔۔۔ہم خیال اراکین پارلیمنٹ کیلئے عشائیہ کا اہتمام ۔۔ پی ٹی آئی اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری

سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضبط شدہ جائیدادوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ۔۔۔بولی کی تاریخ بھی مقر ر 

سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضبط شدہ جائیدادوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ۔۔۔بولی کی تاریخ بھی مقر ر