01:11 pm
امریکہ طالبان معاہدہ…تحفظات،خدشات

امریکہ طالبان معاہدہ…تحفظات،خدشات

01:11 pm

٭افغانستان: امن معاہدہ، خدشات، پیشگوئیاںO وزیراعظم کا یونیورسٹی سے خطاب، اپوزیشن پر کڑی تنقیدO بھارت میں یوم جمہوریہ، مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہO افغانستان، مزار شریف:پاکستان کے قونصلیٹ کو تباہ کرنے کی سازش O ساہیوال کیس، دانستہ ناقص تفتیش، وقت گزارنے، ملزموں کو بچانے کی کوشش O مولانا سمیع الحق قتل کیس کی تفتیش بند کرنے کا فیصلہ O بناسپتی گھی کی تیاری پر پابندی کا فیصلہ، کینسر پھیل رہا ہے O کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو سزا، چار میچوں کی

 پابندی O آج سے نئی بارشیں آ رہی ہیں۔٭بہت شور مچ رہا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لئے امریکہ اور طالبان میں معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس کے تحت 18 ماہ میں امریکی فوج افغانستان سے واپس چلی جائے گی اور خود افغان لوگ ملک کا انتظام چلائیں گے۔ دوحہ میں ہونے والے امریکہ اور طالبان مذاکرات میں پاکستان نے اہم کردارادا کیا ہے۔ اس کامریکہ اورپاکستان میں بہت خیرمقدم کیا جارہا ہے مگر کچھ سنگین خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ اس وقت افغانستان امریکی فوج کے زیر انتظام چل رہا ہے۔ امریکہ 17 سال میں ہرقسم کی بم باری اور حملوں کے باوجود طالبان پر قابو نہیں پا سکا۔ اس کی فوج کے مکمل انخلا کے بعد خانہ جنگی کی پریشان کن صورت حال دکھائی دے رہی ہے جس کا سخت دبائو پاکستان پر پڑے گا جوپہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے مذاکرات میں سعودی عرب اور عرب امارات کے نمائندے بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ مگر خود افغانستان کی حکومت کو شریک نہیں کیا گیا اسے صرف فیصلے سنائے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے افغا ن حکومت ان فیصلوں کو آسانی سے کیسے قبول کرے گی جن کے نتیجے میں اس حکومت کو ختم کر کے طالبان کی حکومت قائم ہو جائے جس کا قیام لازمی امر ہو گا؟ موجودہ افغان حکومت صرف کابل اور چند دوسرے شہروں کے صرف شہری علاقوں تک محدود ہے۔ امریکی فوج طالبان پر قابونہیں پا سکی، اس کی تیارکردہ کمزور افغان فوج کس طرح طالبان سے نمٹ سکتی ہے؟ افغانستان تقریباً 40 برسوں سے مسلسل خانہ جنگی کا شکار ہے۔ بار بار حکمران قتل ہوتے رہے اور خانہ جنگی ہوتی رہتی۔ کبھی روس، کبھی امریکی فوج ملک پر قبضہ کرتی رہی۔ کچھ عرصہ طالبان کی حکومت کے دوران امن قائم رہا مگر امریکہ اور نیٹو ممالک کی مشترکہ فوج نے 17 برس تک اس ملک کو تختہ مشق بنایا، ناکام ہو کر اب واپس جا رہی ہے۔ پاکستان کے لئے یہ صورت حال مسلسل پریشان کن رہی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے روس کے خلاف لڑنے کے لئے جن طالبان کو مسلح کیا تھا، وہ روس کے جانے کے بعد خود پاکستان پر ہی حملہ آور ہوگئے، بم دھماکے، خود کش حملے، حتیٰ کہ پشاور آرمی سکول کے بچوں کے خلاف انسانیت سوز کارروائی! عسکری اور سیاسی ماہرین کے مطابق امریکی فوج کے جانے کے بعد افغانستان پر طالبان کا قبضہ ناگزیر ہو گا اس سے مختلف قبیلوں میں خطرناک تنازعات پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کا مہاجرین کی مزید آمد کی شکل میں پاکستان پر گہرا دبائو پڑ سکتا ہے۔ ایک اہم عنصر بھارت کا ہے۔ وہ افغانستان میں اربوںکی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ پولیس کی ساری تربیت اس نے کی ہے۔ تعلیمی ادارے اس کے کنٹرول میں ہیں، پاکستان کا پانی روکنے کے لئے افغان دریائوں پر بند تعمیر کر رہا ہے۔ اسے حالیہ مذاکرات میں شریک نہیں کیا جا رہا۔ افغانستان میں پاکستان کی کوئی دوست حکومت اسے کیسے راس آ سکے گی؟ طالبان موجودہ افغان حکومت کی طرح بھارت کے زیر اثر نہیں آ سکتے، بھارت ایسے حالات میں کیسے خاموش بیٹھے گا؟ ان 17 برسوں میں امریکہ نے کیا حاصل کیا؟ اربوں ڈالر کا اسلحہ ضائع، پانچ ہزار فوجی مروا لئے اب جان چھڑا رہا ہے۔٭بھارت نے تین روز قبل یوم جمہوریہ منایا۔ اس روز پورے کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی وحشیانہ بربریت اس روز بھی جاری رہی۔ مجھے ایک سال قبل کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ اس سے پہلے یہ ذکر ضروری ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں انڈونیشیا کے صدر احمد سوکارنو نے اپنی ساری بحری فوج اور شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ایران کے سارے ہوائی اڈے پاکستان کے حوالے کر دیئے تھے اور پاکستان کی کھلم کھلا حمائت کی تھی۔ آج معاملہ بالکل برعکس ہے۔ ایران اپنی چاہ بہار بندر گاہ مکمل طور پر بھارت کے سپرد کر چکا ہے اور انڈونیشیا! پچھلے برس 26 جنوری کو بھارت کی یوم جمہوریہ کی تقریب سے کچھ عرصہ پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انڈونیشیا گیا۔ وہاں اس کا تاریخی شاہی استقبال ہوا۔ انڈونیشیا بھارت بھائی بھائی کے نعرے لگائے گئے، اور دونوں ملکوں میں اربوں ڈالر کے معاہدے کئے گئے۔ تھوڑے عرصے کے بعد انڈونیشیا کے صدر جوکوڈوڈو، نے 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریب میں خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی۔ بھارت کے ساتھ گہری محبت کا اظہار کیا۔ اس روز مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر شدید مظاہرے ہوئے۔ جوکوڈوڈو نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ اگلے روز وہ پاکستان آیا۔ اسلام آباد میں قومی اسمبلی سے خطاب کیا۔ اسمبلی کے سپیکر نے اپنی تقریر میں بار بار مقبوصہ کشمیر میںبھارت کی فوجی بربریت اور کشمیری عوام کی مظلومیت کا ذکر کیا۔ انڈونیشیا کے صدر نے ایک بار بھی کشمیر کا ذکر نہ کیا، ایک آدھ بار فلسطین کا نام لیا اور پھر بار بار پاکستان کو تلقین کرتا رہا کہ اسے افغانستان میں امن کے قیام کے لئے ٹھوس کردار ادا کرنا چاہئے۔!٭نمایاں خبر چھپی ہے کہ مولانا سمیع الحق کے قتل کا کوئی سراغ نہیں مل سکا اس لئے اس کیس کی تفتیش اور مزید کارروائی بند کی جا رہی ہے! یوں ان بہت سے کیسوں میں ایک اور کیس کا اضافہ ہو رہا ہے جن کا سراغ نہ لگایا جا سکا بلکہ سراغ نہ لگانے کی کوشش کی گئی! مادر ملت فاطمہ جناح، حسین شہید سہروردی، بے نظیربھٹو، حکیم محمد سعید، رئیس امروہوی، صحافی صلاح الدین، امتیاز علی تاج، جنرل آصف نواز، چیف جسٹس (ر) ایم آر کیانی اور اب مولانا سمیع الحق! اس پر کیا تبصرہ کیا جائے سوائے انا لِلّٰہ وانا الیہ راجعون! پڑھنے کے؟٭انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کرکٹ کپتان سرفراز احمد کو ایک افریقی کھلاڑی کے خلاف نسلی منافرت والے جملے پر چار میچوں میں نہ کھیلنے کی سزا سنائی ہے۔ کچھ حلقے اعتراض کر رہے ہیں کہ سرفراز احمدنے سرعام افریقی کھلاڑی سے معافی مانگ لی تھی تو اسے میچ نہ کھیلنے کی سزا کیوں دی گئی! میرے خیال میں یہ سزا کم ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضابطے اور سزائیں جو کچھ بھی ہوں۔ پاکستان کی ٹیم کے کپتان نے افریقی کھلاڑی کوجس انتہائی حقارت اور نفرت کے ساتھ ’’اوئے کالے‘‘ کہہ کر خطاب کیا، یہی نہیں اس کی ماں کے خلاف بھی انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے، اس پر ہمارے مذہب میں کسی معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام کا انسانیت پر ایک بڑا احسان یہ بھی ہے کہ اس نے نسلوںکی اور گورے کالے کی تفریق ختم کر دی اور محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا۔ سرور کائنات نبی اکرم حضورؐ کے عہد میں جس عظیم المرتبت ہستی کو اذان دینے کا شرف عطا ہوا، سرفراز احمد کو اس کا نام بھی یاد نہ رہا؟ اور پھر ایک ماں کا بھی تمسخر اڑایا!۔ ایسے ذہن والے شخص کو واپس بلا لیا گیا ہے، اس نے اپنے مذہب اور انسانیت کی توہین کی ہے۔ اسے اب ٹیم سے دور ہی رکھا جائے۔٭ایک خبر: پاکستان میں بناسپتی گھی کی 97 فیکٹریاں بند کی جا رہی ہیں۔ تحقیق کے مطابق بناسپتی گھی کو سلفر (گندھک) کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے۔ سلفر کینسرپھیلاتی ہے۔ دنیا بھر میں بناسپتی گھی کی پیداوار بند کی جا چکی ہے۔ پاکستان میں بھی تقریباً پانچ سال پہلے ماہرین نے یہ مسئلہ اٹھایا اور اس گھی کے خطرناک نتائج کو اجاگر کیا تھا مگر وزارتوں اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے بناسپتی گھی کی فیکٹریوں کے بڑے بڑے مالکان قوم پر رحم کھانے کی بجائے یہ کاروبار جاری رکھ کر تجوریاں بھرتے رہے بلکہ اس میں نئے ناموں کا اضافہ بھی کر دیا۔ اب عالمی ادارہ خوراک نے سخت انتباہ جاری کیا ہے تو مجبوراً یہ کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔


تازہ ترین خبریں