01:26 pm
ڈیووس میں پاکستان بریک فاسٹ

ڈیووس میں پاکستان بریک فاسٹ

01:26 pm

رواں سال ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس پر شام و افغانستان کی جنگوں ، کچھ افریقی ممالک میں خراب معاشی صورتحال اور نتیجتاً مغربی دنیا میں ہزاروں مہاجرین کی آمد کے بادل چھائے رہے۔ سر پر منڈلاتا بریگزٹ اور امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن عالمی معیشت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا چکا ہے۔امریکا، یورپ اور چین میں جاری تجارتی جنگ نے صورت حال کو مزید سنگین کردیا ہے۔ نمو سے

 متعلق آئی ایم ایف کی توقعات کم ہو گئی ہیں۔ جرمن چانسلر نے بدھ کو عالمی اقتصادی فورم میں متنبہ کیا کہ عالمی اقتصادی نظام بری طرح متاثر ہورہا ہے۔موسمیاتی تبدیلی ایک اور خطرناک پیش رفت ہے جس سے عالمی معیشت کو خطرہ لاحق ہے۔جیوپولیٹیکل اور علاقائی امور کے ڈپٹی ہیڈ اور ورلڈ اکنامک فورم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے منسٹر میرک ڈسک نے پاکستان بریک فاسٹ کے موقع پر اپنے افتتاحی کلمات میں اس تقریب کی عالمی اقتصادی فورم کے لیے اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان بریک فاسٹ جو ڈیووس میں مسلسل اٹھارہویں مرتبہ ہورہا ہے اور مکمل طور پر نجی کارپوریٹ اداروں کی جانب سے فنڈ کیا جاتا ہے، ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کا ایک لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے۔ابتدائی طور پر پاتھ فائنڈر گروپ کی جانب سے منعقد کی جانے والی یہ منفرد تقریب حالیہ و سابقہ پاکستانی حکمرانوں کے لیے پاکستان کا امیج بہتر بنانے کا سنہراموقع رہی ہے۔ یہ تقریب گزشتہ چار سال سے مارٹن ڈاوؤ گروپ کے بانی چیئرمین جاوید اوکھائی کے تعاون سے منعقد کی جارہی ہے۔2011ء ، 2012ء اور 2013 ء میں ڈیووس میں پاکستان بریک فاسٹ میں بطور مہمان خصوصی شریک ہونے والے عمران خان رواں سال بوجوہ اس تقریب میں شرکت نہ کرسکے۔ کیا یہاں آنا پاکستان کے سرکاری وسائل اور وزیر خارجہ وغیرہ کے وقت کا ضیاع ہے ؟ عمران خان کو وزیر اعلیٰ بلوچستان، ان کی اہلیہ اور سینٹر انوار الحق کاکڑ کی سادگی ملاحظہ کرنی چاہیے، تین رکنی وفد بغیر کسی پروٹوکول کے، حتی ٰکہ جنیوا میں آپ کے سفارت خانے سے بھی کسی کی ہمراہی کے بغیر یہاں تشریف لائے، زیورک ائیرپورٹ پر کچھ دورانیے کے لیے سفارت خانے نے انھیں کچھ وقت دینے کی زحمت گوارہ کی۔اس برس بریک فاسٹ میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار شریک ہوئے۔ پاتھ فائنڈر گروپ کے شریک چئیرمین ، نیز لیگل 500 اور امریکی چیمبر آف لاء ڈائیریکٹری کی جانب سے تائید شدہ دنیا کے چوٹی کے وکلاء میں سے ایک، ضرار سہگل نے پاکستان کو دستیاب مواقع اور پاکستان کو درپیش مشکلات کا ایمان دارنہ جائزہ پیش کیا۔ضرار نے متعدد اقدامات کا ذکر کیا جو سابق چیف جسٹس اور دیگر ججز نے ان کی رہنمائی میں اٹھائے۔ ضرار کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے تعلیم پر بہ طور انسانی حق اور ریاستی ذمہ داری زور دیا جیسا کہ ملک کے آئین میں درج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے بار بار پاکستان کے تعلیمی نظام کی اصلاح کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج تک پاکستان میں حکومتیں تعلیمی شعبے کو بری طرح نظر انداز کرتی آئی ہیں۔ لہذا سپریم کورٹ نے تعلیم پر ایک کمیشن قائم کیا جس نے وفاقی حکومت کو پاکستان میں تعلیم کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے لیے سفارشات پیش کیں۔حکومت نے منصوبہ قبول کرلیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے کام کررہی ہے۔سابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے دوسرے اقدام کی تفصیلات بھی پیش کیں، یعنی صحت کے شعبے کی اصلاح سے متعلق ایک رپورٹ۔اس پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کو صحت کارڈ جاری کیے جو باقاعدہ صحت کی سہولت حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔سابق چیف جسٹس نے میڈیا میں ہونے والی ایک عام تنقید کا حوالہ دیا کہ سپریم کورٹ ان معاملات میں مداخلت کررہی ہے جو اس کے دائرہِ اختیار و ذمہ داری میں نہیں آتے۔ میاں ثاقب نے ایسے دعوؤں کو ردّ کرتے ہوئے اصرار کیا کہ یہ عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ آئین یا دیگر قوانین کے ان حصوں پر عمل درآمد کا حکم دے جن میں عوام کو فراہم کیے گئے حقوق عوام کو مہیا نہیں کیے جارہے۔اس سال وزیر اعظم عمران خان کی بجائے وزیر اعلیٰ بلوچستان جان کمال نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ یہ صحیح معنوں میں ایک معنی خیز لمحہ تھاکہ بلوچستان کا ایک منتخب رہنماء اپنے صوبے اور ملک دونوں کی عالمی سطح پر نمائندگی کررہا تھا۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور کم از کم عوامی تصور کے مطابق سب سے زیادہ مسائل کا شکار بھی۔ پاکستان کی نمائندگی بلوچستان کی طرف سے ہونا انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ بلوچوں سے پاکستانی حکومتوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔اس کا نتیجہ بھارت اور افغانستان کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیموں کی صورت میں نکلا۔ڈیووس جیسے عالمی اسٹیج پر بلوچستان کے ایک منتخب رہنماء کی پاکستان کی نمائندگی بدلتے ہوئےحالات کا ایک زبردست اشارہ ہے۔ گزشتہ اگست میں وزیر اعلیٰ منتخب ہونے والے جام کمال خان اس عہدے پر فائز ہونے والی اپنے خاندان کی تیسری نسل اور بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر ہیں۔وزیراعلیٰ نے بلوچستان کو درپیش صورتحال کی وضاحت کی۔ بیش بہاء وسائل رکھنے والا صوبہ انفرااسٹرکچر اور باہنر افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ گورننس جو کہ اس وقت سب سے بڑے مسائل میں سے ہے ، اقرباء پروری کی بجائے مناسب کام کے لیے مناسب شخص کو سامنے لانے والی پالیسی اختیار کرکے بتدریج بہتر بنالی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا صوبے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کردے گا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو بھی تبدیلی کے عمل کی تکمیل میں مدد کی دعوت دی۔انہیں وفاقی حکومت کے تعاون اور اور سی پیک سمیت مختلف منصوبوں کی سرمایہ کاری آنے کا فائدہ حاصل ہے۔ مگر ان کا اصرار تھا کہ اب بھی بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ کی معاونت صحیح معنوں میں لائق فائق شخصیت سینٹر انوارالحق کاکڑ نے کی۔ بے شک ان کا کردار مستقبل کی پاکستانی سیاست اور حکمرانی کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ ایسے مشیر کی موجودگی جام کمال کی ذہنی پختگی اور مثبت طرز فکر کی عکاس ہے۔ شاید عمران خان بھی ان سے کچھ سیکھ کر اپنے گرد موجود چند ایسے لوگوں سے چھٹکارہ حاصل کریں جو حکمرانی کے ہراول دستوں میں ہونے کے مستحق نہیں۔دونوں مہمانان خصوصی کے خطاب کے بعد پاکستان آرمی کی سدرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے اظہار خیال کیا۔انہوں نے بیان کیا کہ موجودہ سیکیورٹی صورت حال پاکستان میں بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص بہت بہتر ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ فوج صوبے میں مثبت پیش رفت کی حمایت کرے گی۔ جنرل نے انتہائی ذہانت سے پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال کی مختلف جہتیں بیان کیں، خاص طور پر بلوچستان کی صورت حال پر بھی روشنی ڈالی۔ جب پاکستان سے باہر موجو د لوگ بلوچستان کے بارے میں سنتے ہیں تو انہیں صرف حکومتی املاک یا جاری منصوبوں پر پر عسکریت پسندوں کے حملوں کی خبر ملتی ہے جو کہ اب بہت کم رہ گئے ہیں۔ ایک دور میں براستہ سڑک ایران جانے والے سالانہ بیس ہزار زائرین ہمیشہ خطرے کی زد میں ہوتے تھے۔ صورتحال اس قدر بہتر ہوگئی ہے کہ اس سے دس گنا زیادہ افراد نے 2018 ء میں چمن سرحد پار کی۔میں نے ذاتی طور پر پاکستان بریک فاسٹ میں عارف نقوی کی کمی محسوس کی۔ وہ اس عالمی فورم پر پاکستان کا امیج بہتر بنانے کے حوالے سے ایک ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ اتفاقاً سابق وزیراعظم شوکت عزیز بھی تقریب کے آخر میں شریک ہوگئے۔ شرمین عبید چنائے نے سابق چیف جسٹس کو قانون کی حکمرانی اور عورتوں کے مساوی حقوق کے لیے عظیم جدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا۔ چیئرمین ایسٹ ویسٹ انسٹیٹیوٹ، پیروٹ گروپ آف کمپنیزاینڈ ہل وڈ، راس پیروٹ جونیئر کا کہنا تھا کہ وہ کئی سال سے باقاعدگی کے ساتھ پاکستان بریک فاسٹ میں شریک ہورہے ہیں۔ یہ ان کے سالانہ دورہ ڈیووس کی ایک اہم سرگرمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں مرکزی مقررین بالخصوص سابق چیف جسٹس سے بہت متاثر ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کا مستقبل روشن ہے۔ ڈیووس کی وقت کی بندشوں کی وجہ سے گفتگو کا سلسلہ تھم گیا۔پاکستان بریک فاسٹ قانون کی حکمرانی اور بلوچستان کے لیے ایک اچھا دن تھا۔ عمران خان کے بغیر بھی، جنہیں وہاں ہونا چاہیے تھا، یہ پاکستان کے لیے ایک اچھا دن تھا۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)


تازہ ترین خبریں