03:02 pm
خبردار:مومن بے تیغ کے خلاف سازش

خبردار:مومن بے تیغ کے خلاف سازش

03:02 pm

تاریخ نے ایک اورفیصلہ سنادیاکہ اب افغانستان دنیاکی ایک اورسپرپاورکا قبرستان بن کردنیابھرکے ظالموں کیلئے ایک عبرت کانشان بننے جارہاہے اور نائن الیون کے بعداب افغانستان سے امریکی اورغیرملکی افواج کے انخلا کے بعدجنوبی ایشیامیں چہارسوپھیلے تشدد کے ان بے ہنگم رحجانات پر قابو پانے میں مددملے گی
جس نے اس خطہ کی تمام ریاستوں کو داخلی انتشارکے آشوب میں مبتلاکئے رکھا۔گزشتہ چھ روز دوحا میں افغان طالبان سے مذاکرت میں شریک امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے مذاکرت میں خاطرخواہ پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی کچھ معاملات حل طلب ہیں۔ البتہ طالبان ذرائع نے کہا کہ امن معاہدے کے مسودے پراتفاق ہوگیاجس کے تحت تمام غیرملکی افواج طے شدہ  مقررہ مدت کے اندر افغانستان سے نکل جائیں گی، افغان طالبان کو بلیک لسٹ سے ہٹا لیا جائے گا جس سے ان پرلگی سفری پابندیاں ختم ہوجائیں گی اورقیدیوں کا تبادلہ بھی ہوگا۔ طالبان اس بات کی ضمانت دیں گے کہ افغانستان میں داعش یا القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہیں ہوں گی۔زلمے خلیل زاد اب امن کے اس مسودے کے بارے میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کوبریفنگ دیں گے ۔افغانستان میں قیام امن کے معاہدہ کے بارے میں مزید تفصیلات کچھ روزمیں ایک مشترکہ بیان میں جاری کی جائیں گی۔
زلمے خلیل زادنے ٹوئٹرپراپنے پیغام میں کہاکہ دوحامیں چھ دن کے بعدمیں مشورے کیلئے افغانستان کارخ کررہاہوں۔ ملاقاتیں ماضی کی نسبت زیادہ سودمندرہیں۔ ہم نے اہم معاملات پر خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔ مذاکرات کے عمل میں جوتیزی آئی ہے اسے برقرار رکھتے ہوئے ہم انہیں دوبارہ شروع کریں گے۔ ابھی کچھ معاملات حل کرنا باقی ہیں۔ جب تک سب معاملات طے نہیں ہو جاتے تب تک کچھ بھی حتمی نہیں ہے اور اس ضمن میں افغانوں کے مابین مذاکرات اورمکمل جنگ بندی ضروری ہے۔زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کروانے میں مثبت کردار ادا کرنے پر حکومت قطرکا شکریہ اداکیااورملک کے نائب وزیراعظم اوروزیرداخلہ کی ذاتی کاوشوں کو سراہا۔
افغانستان میں لڑی گئی تاریخ کی طویل ترین جنگ لاکھوں بے گناہ ومعصوم انسانوں کونگل گئی ، امریکااوراس کے اتحادیوں کے مہیب جنگی جرائم نے انسانی نفسیات،علاقائی ثقافتوں، مقامی اقتصادیات اورریاستوں کے انتظامی ڈھانچوں کی چولیں ہلاکررکھ دیں۔افغان لوگ جومحبت اور لڑائی جھگڑوں کے ذریعے اپنے روزمرہ کودلچسپ بناتے تھے،سب سے قیمتی اثاثے اپنی اولاد کو انتہائی خوداعتمادی اوریقین کے ساتھ اپنی عقبی وآخرت کی نجات کاوسیلہ سمجھتے ہوئے جنگجوئوں کے ساتھ روانہ کردیتے تھے،اب وہی لوگ منزل کوسامنے دیکھ کرخود کوبامراداور کامیاب سمجھ رہے ہیں اور ایک مرتبہ پھرخودکوجنگ کے شعلوں سے محفوظ اپنے نئے مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے جوموقع ملے گا،وہ یقینا اپنے اس دھرتی پراللہ کی حاکمیت کااعلان کرکے سربسجودہونے کاعملی ثبوت دیکر ان فاجرقوتوں پرثابت کریں گے کہ انسانوں کی فلاح وکامیابی کیلئے اس دھرتی پرصرف رب کانظام ہی کافی ہے کہ جس خالق نے سب کچھ تخلیق کیاہے،بھلا اس سے بہتراورکون جان سکتاہے۔
دراصل تشددکے طویل دورانئے میں جینے والوں کی سوچنے کے انداز،طرزِ معاشرت اوراجتماعی زندگی کے قرینے بدل گئے،جس طرح بعض اوقات مرض اپنامداواخودکرتاہے ،اسی طرح خطے کی اجڑی ہوئی تہذیب کی راکھ سے ایک نئی ثقافت پیداہورہی ہے۔بلاشبہ تاریخ کااہم ترین قانون یہی ہے کہ جوچیزابھرتی ہے،وہ گرتی ضرورہے۔اسی اصول کے تحت افغان جنگ نے نہائت خاموشی کے ساتھ دنیاکی دوبڑی طاقتوں کی قوت وجبروت کو چوس کرتاریخ کے عبرت کدہ کوڑے دان میں پھینک دیاجہاں ان کی آنے والی نسلیں اپنے ان جابروفاجرحکمرانوںکی غلط پالیسیوں پرنفرین کے تبرے بھیج کریادکیاکریں گی۔ روس کے بعداب امریکابھی اس بے مقصد جنگ کوچھوڑکربھاگ جانے کی تیاری کررہاہے اور خدشہ  ہے کہ سوویت روس کی طرح اگر امریکا نے بھی افغان ایشوکاسیاسی تصفیہ کئے بغیرمیدان جنگ سے نکلنے کافیصلہ کرلیاتوایک بارپھراس خطے کوکبھی نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
1979 میں داخلی انتشارمیں پھنسے افغانستان میں سوویت یونین  ایک لاکھ فوجی داخل کرکے چنددنوں میں بآسانی بڑے شہروں کاکنٹرول حاصل کرکے اپنی خوشی کاجشن منارہا تھالیکن اس پیش دستی کے رد ِ عمل میں پاکستان نے ایران،چین اورامریکاکے تعاون سے پراکسی وارکے ذریعے طاقتور مزاحمت کھڑی کرکے دنیاکی دوسری سپرپاور کوذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا تاہم دس برس پرمحیط گوریلاجنگ میں گیارہ لاکھ انسان لقمہ اجل بن گئے ۔ مرنے والوں میں جہاں90ہزار مجاہدین، 18ہزار افغان سپاہی اورگیارہ ہزار چارسوپچاس روسی فوجی شامل تھے وہاں اس وقت کی افغان حکومت اور سوویت یونین کی طرف سے پاکستان میں جاری دہشتگردی میں کئی ہزارپاکستانی بھی لقمہ اجل بن گئے اور50لاکھ سے زائدافغانوں کودھکیل کر پاکستان میں مہاجرکیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبور کردیاگیاجس کوپاکستانی قوم نے بڑی خوش دلی سے ان کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے اورآج بھی لاکھوں افغانوں کو ارضِ وطن میں پناہ دے رکھی ہے۔
روسی جارحیت کے خلاف مزاحمت کے دوران پندرہ لاکھ سے زائد افرادعمربھرکیلئے معذور،تین لاکھ خواتین بیوہ،سترہ لاکھ سے زائدبچے یتیم اور پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی پرمجبور ہوگئے لیکن 1988 میں زخم خوردہ روس نے افغانستان چھوڑتے وقت جینوامعاہدہ کے تحت افغان تنازعہ کاسیاسی تصفیہ قبول کرنے سے انکارکرکے اس بدقسمت ملک کومہیب خانہ جنگی کی دلدل میں پھینک دیا۔
1996 میں افغان خانہ جنگی کی اسی راکھ سے جنم لینے والی تحریک ِطالبان نے بزورشمشیرافغانستان کے اقتدارِ اعلیٰ پرقبضہ کرکے کسی حدتک داخلی انتشار پر قابوپالیاتاہم شمالی افغانستان کی تاجک،ازبک  اورہزارہ اقوام نے 2001 تک طالبان کے خلاف مزاحمت جاری رکھی ۔اسی عہدمیں افغانستان دنیا بھرمیں القاعدہ کی پرتشددکاروائیوں کا مرکز بناجس کوالقاعدہ امریکہ کے مسلمانوں پرجاری مظالم کارد ِ عمل گردانتاتھااورالقاعدہ کاایک مطالبہ یہ بھی تھاکہ امریکافی الفوربالعموم تمام مسلمان ممالک اوربالخصوص سعودی عرب اوردیگرخلیجی ریاستوں سے اپنے اڈے ختم کرے اورجس کی انتہا بالآخر امریکامیں ٹوئن ٹاورزپرحملوں کی صورت میں سامنے آئی۔
نائن الیون کے بعداکتوبر2001 میں افغانستان پرامریکی قیادت میں نیٹوافواج اوردیگرامریکی اتحادیوں کی یلغارنے اس تباہ حال ملک پردوسری بڑی جنگ مسلط کردی جو17 سال میں بیس لاکھ انسانوں کوخون پی گئی۔اہم امریکی ذرائع کے مطابق اب تک 31ہزارسے زائدافغان شہری جان سے ہاتھ دھوبیٹھے،جون 2016 تک 4424امریکی فوجی ہلاک ہوئے اور31295 زخمی ہوئے جن میں نصف سے زائدعمربھرکیلئے معذورہوگئے،امریکی حملے کی حمائت کی پاداش میں پاکستان کے 74ہزارسے زائدشہری اورسیکورٹی اہلکارموت کی نیندسوگئے ۔ان سترہ برس میں پاکستان کو123بلین ڈالرکانقصان اٹھاناپڑا،اور اب تک افغانستان میں امریکاکی ایک مشہورویب سائٹ کے مطابق  47کھرب 22ارب 67 کروڑ ڈالرز سے زائدجنگ کے شعلوں میں پھونک چکاہے۔  
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائن الیون کے بعددنیابھرمیں امریکی جارحیت کے نتیجے میں براہِ راست آٹھ لاکھ انسان موت کی وادی میں اترچکے ہیں ۔ان جنگوں میںلا متناہی امریکی اوردیگرممالک کے نقصان کے بعدفاتح اورمفتوح ،دونوں،وہ تمام چیزیں کھوبیٹھے جس کیلئے وہ باہم دست وگریباں رہے۔امریکی جنگوں کے ہاتھوں بربادہونے والے عراق اورافغانستان کوغیرمقبول آمریتیں اب خود کو دائرہ سلامتی کے اندرمحدودکرلیں گی۔سیرزنے سچ کہاتھاکہ انسان مختلف طریقے اپنانے کے باوجودایک جیسے انجام سے دوچارہوتے ہیں۔آج روس کی طرح امریکابھی کسی سیاسی تصفیے کے بغیراپنی فورسزنکال کرافغانستان کواگریونہی پامال چھوڑگیاتوافغان عوام اوربالعموم جنوبی ایشیائی ممالک کیلئے انتہائی خطرناک صورتحال پیداہوجائے گی ۔پہلے بھی امریکیوں نے روس کوٹریپ کرنے کے بعداجڑے ہوئے افغانستان میں سیاسی استحکام پرتوجہ دی نہ تعمیرنوکاکام کیا۔
1988 میں امریکی اگرچاہتے توجینوا معاہدے میں افغان تنازعہ کاسیاسی حل مل جاتالیکن مغربی طاقتوں نے افغانستان کے انحطاط کے مظاہرے سے نمٹنے میں دلچسپی نہیں لی ،اب چالیس برس بعدبھی ہزیمت زدہ امرکی داعش کے مصنوعی خطرات پیداکرکے یوکرائن کی طرح یہاں روس کی فوجی مداخلت کے خواستگارنظرآتے ہیں ۔ امریکی انخلا کے نتیجے میں پیداہونے والی نئی صورتحال سے نمٹنے کی خاطریقینا ًروس، چین، ایران اورپاکستان سمیت خطہ کے دیگرممالک باہمی تعاون کے امکانات پرغورکرتے ہوں گے ۔ ماسکونے 9 نومبر2018 کوافغان امن مذاکرات کی میزبانی کرکے امریکی انخلا کے مضمرات سے نمٹنے کی پیش بندی پرغورکیا،ماسکوامن کانفرنس میں طالبان کے نمائندوں کے علاوہ افغان حکومت کی مفاہمتی کونسل کے چاررکنی وفد چین، ایران، انڈیااوروسطی ایشیائی ریاستوں نے شرکت کی۔اس کانفرنس کے ذریعے بھارت کوپہلی مرتبہ افغان پراسس میں شامل کیاگیا ماسکوکانفرنس میں بھارتی مندوب کی شرکت کے بعد امریکا اور بھارت کے مابین اعتمادکے رشتے کمزورہوتے نظرآئے جس کااظہارحال ہی میں ٹرمپ نے بھارت پر طنز کے ذیعے کیا۔
وائس آف امریکاکے مطابق ٹرمپ نے کہاکہ مودی مجھے باربارکہتے ہیں کہ بھارت نے افغانستان میں ایک لائبریری بنائی ہے۔امریکی صدرکے اس خندہ استہزا پربھارتی حکومت اورمیڈیانے شدیدرد ِ عمل دیاحالانکہ امریکی ایما پربھارت نے گزشتہ سترہ سال افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی لیکن شائدامریکی اس مالی تعاون پرخوش اورمطمئن نہیںتھے،یہ بھی عین ممکن ہے کہ دوستی کے اس ریشمی پردوں کے پیچھے امریکی اس خطے کوہولناک جنگ میں الجھانے کی خاطربھارت کی براہِ راست افغان جنگ میں شرکت کے خواہاں ہوں لیکن بھارتی بنیا اس ٹریپ میں آنے کی بجائے ایک خاص حدسے آگے نہیں بڑھااوراسی امریکی دوستی کی آڑ میں اپنے مقاصدکے حصول کیلئے اپنے مفادات حاصل کرتا رہا۔بھارت اس بات سے باخبرتھاکہ افغانستان جہاں امریکااپنے تمام اتحادیوں سمیت بری طرح ہزہمت اورشکست سے دوچارہے وہاں بھارت جوپہلے ہی داخلی طورپردودرجن علیحدگی پسندتحریکوں سے پریشان ہے ،وہ اگرافغانستان کی جنگ میں شریک ہوگیاتوبھارت کے ٹکڑے وقت سے پہلے ہونے سے کوئی بچانہیں سکے گا اس لئے مودی خطے میں دوسراگورباچوف بننے سے خوفزدہ ہے۔
بیشک ،جنوبی ایشیائی ممالک کی سلامتی اورترقی کارازعلاقائی امن میں پوشیدہ ہے ۔عالمی سطح پرمعاشی طورپرابھرتاہواایشیاباہمی جنگوں اورداخلی تشددکامتحمل نہیں ہوسکتا چنانچہ جنگ کی آگ سے بچنے کی خاطرایشیاکے تمام ممالک اپنی بہترین مساعی سے افغانستان میں امن کے قیام کویقینی بناسکتے ہیں۔بلاشبہ ہربدنظمی ایک عبوری مرحلہ ہوتی ہے جومطلق العنانی کا  مقابلہ کرکے پرانی رکاوٹیں ہٹادیتی ہے تاکہ نئی حیات کی نشوونماہوسکے۔آج ہمیں ایک مضبوط حکومت کی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی سے پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان،افغان جنگوں کے اثرات کابراہِ راست شکاربنا،اس وقت ہماری مملکت کوانتظامی ڈھانچہ کی تشکیل نو،سیاسی رواداری،سوشل تبادلہ،معاشی فروغ،سفری اورحرکت کی آزادیوں کی بحالی کا مسئلہ درپیش ہے۔چالیس سال  پرمحیط ہولناک جنگ کے مضمرات پرقابوپانے کی خاطر پاکستان نے پندرہ سوکلومیٹرلمبے افغان بارڈرپرباڑلگانے کے علاوہ سماجی وظائف کومعمول پر لانے کامیکنزم تیارکیا۔پاکستان میں باقی رہ جانے والے 35لاکھ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے علاوہ اب افغانستان سے پاکستان آنے والوں کیلئے ویزے کے حصول کا قانونی نظام بھی وضع کیاجارہاہے۔ 
 

تازہ ترین خبریں

 شجرکاری مہم کے تحت 60 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔عثمان بزدار

شجرکاری مہم کے تحت 60 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔عثمان بزدار

مسلم لیگ (ن)نےانتخابی اصلاحات کی حکومتی پیشکش کو مسترد کردیا

مسلم لیگ (ن)نےانتخابی اصلاحات کی حکومتی پیشکش کو مسترد کردیا

یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف برانڈز کی اشیا کو مہنگا کر دیا گیا

یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف برانڈز کی اشیا کو مہنگا کر دیا گیا

فواد چودھری نے وفاقی ملازمین کو خوشخبری سنا دی

فواد چودھری نے وفاقی ملازمین کو خوشخبری سنا دی

خود عرض اور لالچی منیجر کی زندگی کا وہ واقعہ جس نے سب کچھ بدل ڈالا

خود عرض اور لالچی منیجر کی زندگی کا وہ واقعہ جس نے سب کچھ بدل ڈالا

 پاکستان کے لیے امریکہ ایک اہم اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے۔شاہ محمود قریشی

پاکستان کے لیے امریکہ ایک اہم اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے۔شاہ محمود قریشی

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ۔۔۔۔ حکومت نے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی قائم کرنےکا فیصلہ کرلیا

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ۔۔۔۔ حکومت نے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی قائم کرنےکا فیصلہ کرلیا

پاکستانی با حجاب طالبہ 1100میں سے 1100نمبر حاصل کر کے پاکستان کی پہلی طالبہ بن گئی ، تعلق کہاں سے ہے ؟ جانیں 

پاکستانی با حجاب طالبہ 1100میں سے 1100نمبر حاصل کر کے پاکستان کی پہلی طالبہ بن گئی ، تعلق کہاں سے ہے ؟ جانیں 

اگلا الیکشن الیکٹرونک ووٹنگ کے ذریعے ہوگا۔ شیخ رشید احمد 

اگلا الیکشن الیکٹرونک ووٹنگ کے ذریعے ہوگا۔ شیخ رشید احمد 

یا میرے مالک رحم ، پاکستان کے اہم شہر سے 57نامعلوم لاشیں برآمد ،اموات کس حیران کن طریقے سے ہوئی ہے ؟ پورے پاکستان میں ہلچل

یا میرے مالک رحم ، پاکستان کے اہم شہر سے 57نامعلوم لاشیں برآمد ،اموات کس حیران کن طریقے سے ہوئی ہے ؟ پورے پاکستان میں ہلچل

 ن لیگ کے دور میں کھانے ہیلی کاپٹر میں جاتےتھے۔شہباز گل 

 ن لیگ کے دور میں کھانے ہیلی کاپٹر میں جاتےتھے۔شہباز گل 

طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق وزیراعظم کا بیان خوش آئند ہے۔بلاول بھٹو

طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق وزیراعظم کا بیان خوش آئند ہے۔بلاول بھٹو

ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں؛ سی اے اے نے کویت کو خبردار کردیا

ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں؛ سی اے اے نے کویت کو خبردار کردیا

لیہ کی رہائشی خاتون کے ساتھ تین افراد کی بد سلوکی

لیہ کی رہائشی خاتون کے ساتھ تین افراد کی بد سلوکی