03:06 pm
کچھ تاریخی استقبال!

کچھ تاریخی استقبال!

03:06 pm

٭تاریخی استقبال !O..ڈالر140 روپے کا ہوگیا !O.. وزیراعظم کامستقل بنی گالہ میں رہنے کا فیصلہ !O..جہازرانی اور بندرگاہوں کی وزارت میں610 ارب( چھ کھرب 40 ارب) روپے کا سیکنڈل، بھارتی ڈائریکٹر کام کرتے تھے !O..ساہیوال کیس: پولیس نے جعلی اسلحہ جمع کرایا، فرانزک رپورٹ !O..شاہد خاقان عباسی نے چینی کمپنی کو بلا منظوری
110 ارب روپے کے ناجائز اضافہ کے ٹھیکے دیئے !O.. جلیبیاں ، مٹن کڑاہی کھا کھا کر جرمن سفیر کا پیٹ بھول گیا، کپڑے تنگ ہوگئے !O.. 
٭سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کےاعلیٰ تاریخی استقبال کی تیاریاں جاری ہیں۔ اندازہ ہے کہ ولی عہد کے دوروزہ دورے میں تقریباً20 ارب ڈالر کے صنعتی و تجارتی معاہدے ہوںگے۔ تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ استقبال کے سلسلے میں چند دوسرے بڑے استقبالوں کا تذکرہ بھی دلچسپ ہے۔ پاکستان کو سب سے پہلے ایران نے تسلیم کیا تھا۔ دو سال بعد شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی وہ اپنے وائیکنگ طیارے( پروں والا طیارہ) میں لاہور آئے تو لاہور شہر کے عوام نے نہایت پر جوش استقبال کیا۔ شاہ ایرا ن نے طیارہ خود اڑایا۔ ان دنوں موجودہ لاہور کےمقابلے میں لاہورشہر بہت چھوٹاتھا، کوئی نئی آبادی نہیں بنی تھی۔ شاہ ایران ایک بڑی کھلی سفید کار میں کھڑے ہو کرگورنرہاؤس سے شاہی قلعہ تک گئے۔ سڑک کے دونوں طرف قلعہ تک عوام کا بہت بڑا ہجوم جمع تھا۔ شاہ نے ایرانی فضائیہ کی سفید وردی پہن رکھی تھی۔ سکیورٹی کاکوئی خاص انتظام نہیںتھا۔ سکیورٹی کا اتنا عملہ ہی نہیں تھا۔ شاہ اسی راستے میں واپس گورنرہاؤس آئے۔ ان دنوں ٹیلی ویژن نہیں تھا صرف ریڈیو تھا۔ گورنر ہاؤس سے شاہ کی فارسی میں لائیو تقریر نشر کی گئی۔ مشہور دانش ور اور ادیب محمد شفیع دہلوی نے ساتھ ساتھ اُردو میں خوبصورت ترجمہ سنایا۔ شاہ ایران 1964 میں نئی بیگم فرح پہلوی کے ساتھ شادی کے بعد پھر پاکستان آئے۔ جنرل ایوب خان کا دور تھا۔ اس بار فوج نےسکیورٹی سنبھال رکھی تھی۔ اس بار بھی زبردست استقبال ہوا۔ اس دورے کے بعد چین کے صدر اور وزیراعظم چن ژی لاہور آئے۔ دونوں صدرایوب خاں کے ساتھ بڑی سیاہ کار میں مال روڈ سے قلعہ تک گئے اور واپس آئے۔ راستے میں دونوں طرف لوگوں نے بھرپور خیر مقدم کیا۔ میں نے شاہ ایران اور چینی حکمرانوں کوصرف چند فٹ کے فاصلے پر دیکھا ۔ کوئی سکیورٹی نہیں تھی۔
٭ملک پر اس وقت ماضی کے 30ہزار ارب روپے کے قرضے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دورمیں 15،16ارب ڈالر کے نئے قرضے آرہے ہیں۔ ماضی کے قرضوں پر چھ ارب روپے روزانہ سود ادا کرناپڑ رہاہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ان قرضوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہاہے کہ صرف گیس سیکٹر پر ایک کھرب47ارب کے قرضے ہیں جب کہ 60 ارب روپے سالانہ کی گیس چوری ہورہی ہے۔ قرضوں کی تفصیل خبروں کے صفحات میں موجود ہے۔ اسے پڑھنے سے سر چکرا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ 30 ہزار ارب کے قرضے ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے حکمرانوں نے لئے مگران کااعتراف اورشرم ساری کے اظہار کی بجائے یہی لوگ موجودہ حکومت کو مطعون کررہے ہیںجس کے دور کے قرضے ابھی راستے میں ہیں۔ میں سخت الفاظ استعمال نہیں کرتا مگر عمران خان کے الفاظ کی تائید کرتا ہوں کہ ملک کا بال بال قرضوں میں جکڑنے والے ان ماضی کے قرضہ خوروں کوموجود قرضوں پر لعن طعن کرنے میں شرم محسوس نہیں ہورہی۔عمران خان کی حکومت کی جتنی مرضی مذمت کریں مگر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نئے قرضوں کی ساری سکیم ن لیگ کے وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے تیار کی تھی۔ یہ شخص اوسط درجے کے خاندان سے ابھراتھا۔ اس وقت دبئی اور لندن میں اس کی اربوں کی جائیداد ہے۔ اسے مفرور مجرم قرار دیاجا چکا ہے مگر وہ واپس نہیں آرہا۔ ن لیگ نے 30 سال، پیپلز پارٹی نے 18 سال اس غریب ملک پر حکمرانی کی۔ ان دونوں کے دور میں ملک کووحشیوں کی طرح لوٹا کھسوٹا اور نوچا گیا۔ باہر سے 30 ہزار ارب کے قرضے لے کر دبئی، لندن، امریکہ، بلجیم ، سپین میں بے اندازہ وسیع ذاتی سرمایہ کاریاں کیں۔ ( چودھری خاندا ن نے کبھی وضاحت نہیں کی کہ ان کی 20 سال قبل سپین میں 52 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے الزام کی کیا حقیقت ہے؟)
٭وہی ہوا جس کا میں نے پہلے دن اور پھر بار بار امکان اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ساہیوال سانحہ کی مجرم پولیس مقدمہ کمزور کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی سازش کرے گی۔ اس نے پہلے دن ہی بددیانتی کی کہ فرانزک لیبارٹری میں وہ بندوقیں جمع نہیں کرائیں جن سے ایک بے گناہ خاندان پر اندھا دھند فائرنگ (100 گولیاں) کی گئی۔ فرانزک لیبارٹری والے موقع پر سے گولیوں کے خول تو لے گئے مگر باربار تقاضے کے باوجود ملزم پولیس نے 20 روز تک اس واقعہ میں استعمال ہونے والی بندوقیں جمع نہیں کرائیں۔ شور زیادہ مچا تو اصل وارداتی بندوقوں کی بجائے دوسری بندوقیں جمع کرادی۔ فرانزک ماہرین نے واضح رپورٹ دی ہے کہ یہ بندوقیں استعمال نہیں ہوئیں۔ ان ظالم لوگوں نے مقدمہ کوخراب کرنے کے لیے نیا ناقابل معافی سنگین جرم کیا ہے۔ 
٭کالم پھر بوجھل ہورہاہے۔آئیے ذراہلکی پھلکی باتیں کریں۔ پاکستان میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوہلر بڑے مزے کی چیز ہیں۔ جب اچھاکھاناکھانے کو جی چاہتا ہے، پروٹوکول کے بغیر کسی فوڈ سٹریٹ میں جا بیٹھتے ہیں اور مزے مزے کے کھانے کھاتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ پاکستانی کھانے بہت لذیذ ہیں وہ تازہ گرم جلیبیاں بہت شوق سے کھاتے ہیں ۔ اب انہیں ایک شکائت پیدا ہوگئی ہے کہ جلیبیاں، نان، سری پائے، مٹن کڑاہی اوربریانی کھاکھا کر پیٹ بڑھ گیا ہےاور کپڑے تنگ ہوگئے ہیں۔ اس لیے انہیں نئے کپڑے سلوانے پڑ رہے ہیں۔ مگر اس شکائت کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ کیا کروں، اس نان ، مٹن کڑاہی، بریانی، پلاؤاور جلیبیاں کھانے سے انکار نہیں کرسکتا۔ جرمن سفیرکھلی سڑکوں پر سائیکل بھی چلاتے ہیں، اپنی ان دلچسپ باتوں اور عوام میں کھلے ڈلے پھرنے سے بہت مقبول ہو چکے ہیں۔ پتہ نہیں انہوں نے ابھی تک لاہور کی نہاری اور ہریسہ ،کراچی کا پراٹھا کباب، پشاور کے چپل کباب اور بلوچستان کی بکرے کی سجی کھائی ہے یانہیں! ایک قاری نے مطلع کیا ہے کہ جہلم سے آگے سوہاوہ اور دینہ کے درمیان ایک جگہ خاص قسم کی نہائت مزیدار جلیبیاں تیار ہوتی ہیں مگر انہیں لے جانے کا نہیں، بلکہ وہیں گرم گرم کھانے کا مزا ہے۔ مجھے صوابی سےمحترم غلام نبی کا بہت دفعہ فون آیا ہے کہ صوابی میں دریائے سندھ کے کنارے بیٹھ کر وہیں سے مچھلی پکڑ کر بنانے اور کھانے میں جو مزا آتا ہے وہ کہیں اورنہیں ملتا! افسوس کہ میں باربار وعدوں کے باوجود نہیں جاسکا!
٭آج کل اسمبلیوںمیں خواتین بہت بول رہی ہیں۔ بار بار  نقطہ اعتراض،بلند آواز میں تقریریں اور مخالفین سے جھڑپیں،بلکہ بعض تومخالفین پر چڑھ دوڑتی ہیں(سندھ اسمبلی)۔ باکمال مزاحیہ شاعر ضمیر جعفری مرحوم نے بہت عرصہ پہلے ’’ خواتین کی اسمبلی‘‘ کے عنوان سے پر لطف مزاحیہ کلام لکھاتھا۔ یہ کلام پڑھئے:
عورتوں کی اسمبلی
بوأ کو تو دیکھو نہ گہنا نہ پاتا
فقط اِک غرارہ فقط ایک چھاتا
نہیں کچھ بھی نام خدا آتا جاتا
بجٹ ہاتھ میں جیسے دھوبن کا کھاتا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر ممبری چھڑ گئی ممبری سے
ادھر طفل رونے لگے گیلری میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہ آواز شور و شغب بولتی ہیں
یہ انداز غیض و غضب بولتی ہیں
نہیں بولتی ہیں تو کب بولتی ہیں
پہ جب بولتی ہیں تو سب بولتی ہیں!
شہادت کی انگلی اقبالؔ پر ہے
کبھی ناک پر ہے کبھی گال پر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

تازہ ترین خبریں

شادی کی تقریب پر آسمانی بجلی گرنے سے16افراد ہلاک

شادی کی تقریب پر آسمانی بجلی گرنے سے16افراد ہلاک

 جس وقت کشمیر فروشی کی جارہی تھی اس وقت کہا گیا ورلڈ کپ جیت کر آئے۔ مریم اورنگزیب 

 جس وقت کشمیر فروشی کی جارہی تھی اس وقت کہا گیا ورلڈ کپ جیت کر آئے۔ مریم اورنگزیب 

وزیر اعظم کو آزاد کشمیر کےلئے لکی نمبر اور لکی نیم بتایا گیا

وزیر اعظم کو آزاد کشمیر کےلئے لکی نمبر اور لکی نیم بتایا گیا

ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ

ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ

ن لیگ دو ٹکروں میں تقسیم ۔۔ آزاد کشمیر انتخابات ہارنےکےبعد قیادت کے راستے جدا ہوگئے ہیں ۔ فرخ حبیب

ن لیگ دو ٹکروں میں تقسیم ۔۔ آزاد کشمیر انتخابات ہارنےکےبعد قیادت کے راستے جدا ہوگئے ہیں ۔ فرخ حبیب

کراچی میں منی ایکسچینج کیش وین پر فائرنگ ۔۔۔۔ دو افراد جاں بحق ہوگئے

کراچی میں منی ایکسچینج کیش وین پر فائرنگ ۔۔۔۔ دو افراد جاں بحق ہوگئے

کورونا کے بڑھتے کیسز کا معاملہ ۔۔۔۔ پنجاب کے چار اضلاع میں مزارات بند کرنے کا فیصلہ

کورونا کے بڑھتے کیسز کا معاملہ ۔۔۔۔ پنجاب کے چار اضلاع میں مزارات بند کرنے کا فیصلہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بلو چ رجمنٹ ایبٹ آباد کاد ورہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بلو چ رجمنٹ ایبٹ آباد کاد ورہ

ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ۔۔۔۔ محکمہ موسمیات نے رپورٹ جاری کردی 

ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ۔۔۔۔ محکمہ موسمیات نے رپورٹ جاری کردی 

 سول سوسائیٹیز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کریں۔ شاہ محمود قریشی

سول سوسائیٹیز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کریں۔ شاہ محمود قریشی

کراچی میں منی ایکسچینج کیش وین پر فائرنگ ۔۔۔۔ دو افراد جاں بحق ہوگئے

کراچی میں منی ایکسچینج کیش وین پر فائرنگ ۔۔۔۔ دو افراد جاں بحق ہوگئے

کے پی ایل نے ثابت کیاہے کہ ہندوستان اور مودی سرکار کی دم پر پاؤں رکھا ہے۔ عمر ایوب

کے پی ایل نے ثابت کیاہے کہ ہندوستان اور مودی سرکار کی دم پر پاؤں رکھا ہے۔ عمر ایوب

نذیر چوہان نے ترین گروپ کو خیرباد کہہ دیا 

نذیر چوہان نے ترین گروپ کو خیرباد کہہ دیا 

عمران خان کے تین سالہ اقتدار کے دور نے سابق حکمرانوں کے تیس سالہ دور کو بھی مہنگائی میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میاں محمد اسلم

عمران خان کے تین سالہ اقتدار کے دور نے سابق حکمرانوں کے تیس سالہ دور کو بھی مہنگائی میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میاں محمد اسلم