03:04 pm
مشن کو قتل نہیں کیا جا سکتا

مشن کو قتل نہیں کیا جا سکتا

03:04 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارتی انصاف جانبدار ی اور نسلی امتیاز کی نئی نئی مثالیں پیش کر رہا ہے۔ انصاف مسلمان اور کشمیری کیلئے نہیں۔ہندو کے لئے ایک انصاف ہے اور مسلم کے لئے دوسرا۔ مسلمان بھی اور کشمیری بھی تو پھر انداز بالکل بدل جاتا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے یہ بات ثابت کر دی ۔اس نے کشمیریوں کو سیاست، انتقام اور نام نہاد عوام کے ضمیر کی تسکین کے لئے تختہ دار پر لٹکا دیا۔
اسے قانون و انصاف کی زبان میں ناروا امتیازی سلوک ہی کہا جا سکتا ہے۔مقبول بٹ شہید اور افضل گورو شہید جیسے آزادی پسند دو انقلابی کشمیریوں کو بھارت نے جیل کے اندر ہی پھانسی دے دی اور افضل گورو شہید کی پھانسی کے ایک سال بعد سپریم کورٹ آف انڈیا نے سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔ ان میںسے تین کا تعلق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تھا۔ جس کی وزیر اعلیٰ جے للتا تھیں۔ جوکہ اب انتقال کرچکی ہیں۔یہ بھی ایک منفرد بات ہے کہ تامل ناڈو کی حکومت نے بھی مرکزی حکومت سے سفارش کی تھی کہ انہیں رہا کر دیا جائے۔ 
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے مقبول بٹ شہید کو پھانسی دینے کے کاغذات پر دستخط کئے ۔ یہ دستخط بھارتی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے وزیر اعلیٰ کے دفتر میں داخل ہونے کے چند منٹ کے اندر کرائے۔ یہی کام ان کے فرزند عمر عبداللہ نے بھی کیا۔ انہوں نے اپنے شہری کے تحفظ کے لئے کچھ نہ کیا۔ فاروق عبد اللہ بھارت کے مرکزی وزیر بھی تھے ، مگر مچھ کے آنسو بہا تے رہے۔ عوام کو بے وقوف بنانے کا یہ انتہائی آسان طریقہ ہے۔اب محبوبہ مفتی ہیں۔ کشمیری عوام کو بے وقوف بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔کشمیر میںلوگ اس وجہ سے سراپا احتجاج ہیں کہ انصاف کا دوہرا معیار ہے۔ کشمیری کو پھانسی اور بھارتی شہری کو بری کر کے بھارتی عدلیہ ہی بے نقاب ہوئی ہے۔ ہندو اور غیر ہندو کے لئے دو الگ الگ ضابطے ہیں۔ بھارت اب انصاف نہیں بلکہ عوام کی تسکین کے لئے فیصلے کرتا ہے۔ اس کا عدالتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔  سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک کشمیری کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔ جن افراد کی رحم کی درخواستیں بھارتی صدر کے دفتر میںدہائیوں سے زیر التوا تھیں، انہیں بری کرنے کے لئے تامل ناڈو حکومت کوشش کر رہی تھی  اور بظاہر مرکز کے ساتھ ٹکر بھی لینے کو تیار تھی۔ 
11سال سے راجیو گاندھی کے قاتل پھانسی کے منتظر تھے۔ لیکن سپریم کورٹ نے ایک نیا فیصلہ دے کر ان کی پھانسی کو عمر قید میں بدلنے کا ایک راستہ نکالا۔ اگر افضل گورو کو بھی جلد بازی میں عدالتی قتل نہ کیا جاتا تو وہ بھی شاید اس نئے قانون کے دائرے میں آ کر رہائی پا سکتے تھے۔ موت کا وقت متعین ہے۔ موت خود بری الزمہ ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کا ایک جواز موجود رہتا ہے ۔ علالت، حادثہ وغیرہ ہی مورد الزام ٹھہرتے ہیں۔ تا ہم جو سلوک کشمیریوں کے ساتھ روا رکھا گیا ہے اس پر لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر چہ ان کا یہ احتجاج بظاہر رنگ نہیں لاتا ۔ پھر بھی لوگ سڑکوں پر نکل کر اپنی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ سننے والا کوئی نہیں ہے۔ کشمیر میں سخت ردعمل ہے۔ آج شہداء کے نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہوکر بھارت سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ جس قانون کے تحت راجیو گاندھی کے قاتلوں کو رہا کیا گیا، وہ قانون بنانے میں ایک سال کی تاخیر کی گئی۔ اس تاخیر کا زمہ دار بھی بھارتی نظام ہے جس میں آج بھی چھوت چھات موجودہے۔ اب اچھوت کشمیری اور آزادی پسند ہے۔ اس معاملہ میں سات سال کی تاخیر کی گئی لیکن پھر جلد بازی اتنی ہوئی کہ افضل گورو کے کم سن بچے اور اہلیہ تک کو بھی آگاہ نہ کیا گیا۔  یہ ثابت ہوا کہ قاتلوں سے عدالت نے نرمی کی۔ قتل کے شواہد کے باوجود پھانسی روک دی گئی لیکن بھارتی پارلیمنٹ پر نام نہاد حملہ کیس میں جس کشمیری کے بارے میں کوئی ٹھوس شواہد بھی نہ تھے، کیس مشکوک تھا، لیکن پھانسی دیدی گئی۔ 
افضل گورو کی پھانسی اور راجیو گاندھی کے قاتلوں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا خود ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری بھارت کے اپنے ہر گز نہیں، غیر ہیں۔ دشمن ہیں۔ ایل ٹی ٹی ای اور کشمیری مجاہدین میں غیر معمولی فرق ہے۔ مسلم اور غیر مسلم کا فرق۔ یہی بھارت اور اس کے تمام نام نہاد اداروں نے مسلسل ثابت کیا ہے۔  محمد مقبول بٹ ،افضل گورو کے بعد برہان وانی بھی آج کشمیر کی تحریک آزادی میں جدو جہد کی ایک علامت بن چکے ہیں۔ شہید مقبول بٹ کی طرح وہ بھی آزادی پسندوں کے ہیرو ہیں جن کی جدوجہد اور قربانی کو سبھی سلامی پیش کرتے ہیں  ان کے نقش قدم پر چلنے کاا عادہ کیا جاتا ہے۔ شہید محمد مقبول بٹ، افضل گورونے تختہ دار پر چڑھ کر بھارتی عدلیہ کو بے نقاب کیا اور  شہید برہان وانی سمیت لا تعداد شہداء  نے مسلح جدوجہد کو گوریلا جنگ سے نکا ل کر عوامی رنگ دے دیا اور کشمیریوں کی دلیری اور بہادری کی داستانوں میں ایک سچی کہانی کا اضافہ کر دیا۔انڈیا کو بتا دیا کہ وہ  انسانوں کا قتل عام کر کے مشن کو قتل نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔ 



 

تازہ ترین خبریں

عید الفطر پر موسم کیسا رہے گا ؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی

عید الفطر پر موسم کیسا رہے گا ؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبا کیلئے اچھی خبر

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبا کیلئے اچھی خبر

عمران خان کے یوٹرنز بہت۔۔ کوئی ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔۔شہباز شریف

عمران خان کے یوٹرنز بہت۔۔ کوئی ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔۔شہباز شریف

 شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینا قانون کے ساتھ مذاق ہے،فواد چوہدری

شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینا قانون کے ساتھ مذاق ہے،فواد چوہدری

عید الفطر کب ہوگی؟ ماہر فلکیات نے پیشگوئی کردی

عید الفطر کب ہوگی؟ ماہر فلکیات نے پیشگوئی کردی

سندھ حکومت نے عیدالفطر کی چھٹیوں کا اعلان کردیا،نوٹیفکیشن جاری

سندھ حکومت نے عیدالفطر کی چھٹیوں کا اعلان کردیا،نوٹیفکیشن جاری

سندھ میں شام 6 بجے کریانہ سمیت تمام دکانیں بند کرنے کا فیصلہ

سندھ میں شام 6 بجے کریانہ سمیت تمام دکانیں بند کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دورہ کیوں کر رہے ہیں؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دورہ کیوں کر رہے ہیں؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

عید سے قبل حکومت نے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی،ایسا اعلان کہ ہرکوئی خوشی سے باغ باغ ہوگیا

عید سے قبل حکومت نے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی،ایسا اعلان کہ ہرکوئی خوشی سے باغ باغ ہوگیا

50 کروڑ ڈالر کہاں سے آنیوالے ہیں ؟ملکی معیشت کیلئے شاندار خوشخبری

50 کروڑ ڈالر کہاں سے آنیوالے ہیں ؟ملکی معیشت کیلئے شاندار خوشخبری

گورنر بلوچستان ڈٹ گیا،خبر نے سیاسی ایوانوں میںکھلبلی مچادی

گورنر بلوچستان ڈٹ گیا،خبر نے سیاسی ایوانوں میںکھلبلی مچادی

قطر کے وزیر خزانہ کو گرفتار کرلیا گیا

قطر کے وزیر خزانہ کو گرفتار کرلیا گیا

کتنے قیدیوں کی سزا میں کمی اور کتنوں کو رہا کردیاجائیگا؟نوٹیفکیشن جاری، عید سے قبل بڑی خبر آگئی

کتنے قیدیوں کی سزا میں کمی اور کتنوں کو رہا کردیاجائیگا؟نوٹیفکیشن جاری، عید سے قبل بڑی خبر آگئی

شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ