09:36 am
انتہا پسندی کے خلاف اقدام!!

انتہا پسندی کے خلاف اقدام!!

09:36 am

٭وفاقی وزیر اطلاعات کا سوشل میڈیا کی انتہا پسندی کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان !O..،18فروری: اسلام آباد میں امریکہ اور طالبان کے مذاکرات !O..ملک بھر میں بارش !O..عالمی عدالت کاایران کا امریکہ کے خلاف دعویٰ منظور، دو ارب ڈالر ملیںگے !O.. سندھ کے ایک بااثر وڈیرے کے بیٹے اور بیٹیوں کی بیک وقت17 ویں سکیل میں تقرریاں !O..سعودی عرب کے ولی عہد کی آمد،21 کھرب روپے کےمعاہدے ہوں گے !O.. نوازشریف کے لندن جانے کی افواہیں !O..ساہیوال کیس: جے آئی ٹی26 دنوں میں تفتیش مکمل نہ کرسکی، مزید مہلت مانگ لی!
 
٭محترم قارئین! کالم کا آغاز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے اس اعلان سے کررہاہوں کہ سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے، مخالفین کے خلاف قتل وکفر وغیرہ کے فتوے دینے اور ملک کی سلامتی اور اس کے حساس اداروں کے خلاف پراپیگنڈا کا سخت نوٹس لیاجارہاہے اوراس کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیاگیا ہے۔ میں اصولی طورپر اس اعلان کی حمائت کرتا ہوں۔ کچھ عرصے سے آزادی اظہار کے نام پر کچھ عناصر انتہا درجے کی بے محابا شرانگیز آزادی کامظاہرہ کررہے ہیں ۔ وزیرستان میں ایک مخصوص گروہ کی پاکستان دشمن سرگرمیوں ، عدلیہ اور فوج کے خلاف گالیوں اور قومی پرچم کی کھلی توہین کے مناظر تفصیل کے ساتھ دکھائے گئے ہیں ۔ فیض آباد کے دھرنے میں جس کھلے انداز میں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے نام لے لے کر انہیں ناپاک جانوروں کے نام سے پکارا گیا اور ان کے خلاف کفر اور قتل کے فتوے نہ صرف لگائے گئے بلکہ ان کے بینر اور پوسٹرلگائے گئے اور ان سب باتوں کو سوشل میڈیا میں جس طرح لفظ بہ لفظ بار بار دکھایاگیا اور تشہیر کی گئی اس نے پوری قوم کو اذیت میں مبتلا کر دیا۔ملک کے آئین (دفعہ63) میں واضح طورپر درج ہے کہ پاکستان کی عدلیہ اور افواج کی توہین سنگین جرم ہے۔ اس جرم کا مرتکب شخص قید وجرمانہ کی سزا کے علاوہ کسی اسمبلی یا بلدیاتی ادارہ کا الیکشن بھی نہیں لڑ سکتا! مگر یہاں کیا ہوا! ایک حکومت نے فیض آباد دھرنے کو پہلے روز ہی ختم کرنے کی بجائے 26 روز تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ ملک میں سی آئی اے، انٹیلی جنس بیورو، ایف آئی اے، پیمرا، پولیس وغیرہ کے بہت سے محکمے موجود ہیں، کسی کو حرکت میں نہ لایاگیا۔ اس سے پہلے اسلام آباد کے ڈی چوک ، بلکہ پورے اسلام آباد کو126 دنوں تک دھرنوں سے مفلوج رکھاگیا، وزیراعظم ہاؤس، پارلیمنٹ، ٹیلی ویژن سٹیشن پر کھلے عام حملے ہوئے، انہیں روکنے کی کوئی کارروائی سامنے نہ آئی۔
یہ تو ماضی کی باتیں تھیں، اب کیا ہورہاہے! سوشل میڈیا پر بعض انتہا پسند مذہبی عناصرآزادانہ ایک دوسرے کے خلاف منافرت پھیلا رہے ہیں، نفرت انگیز فتوے دے رہے ہیں، ان سے ملک کے اندر جو اضطراب پھیل رہاہے اسے دیکھنا سننا ناقابل برداشت ہورہاہے مگر کوئی روک تھام نہیں! ایک عجیب سار ویہ بھی عام ہوگیا ہے کہ بعض لوگ صحافت کا پیشہ اختیار کرتے ہی خود کو ملک کے آئین، ہرقسم کے قانون اور اخلاقی اقدارسےماورااوربالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ اپنے کالموں، مضامین، خبروں اور تجزیوں میں عدلیہ، فوج اور دوسرے قومی اداروں کے بارے میں زہریلا پراپیگنڈا کرتے ہیں اور اگر کسی کے خلاف کوئی ذرا سی بھی قانونی کارروائی ہوتو صحافت اور آزادی اظہار پر پابندی کا شور مچ جاتا ہے، جلسے ، جلوس ، دھمکیاں! یہ بالکل ناروا اور ناقابل قبول رویہ ہے۔ ملک کے سب لوگوں پر آئین اور قانون یکساں لاگو ہوتے ہیں۔ کوئی شخص کسی پیشے کی بنا پر دوسرے سے بالاتر نہیں۔ خدا تعالیٰ میرے عظیم ملک کو ہمیشہ محفوظ اور سلامت رکھے!
٭ساہیوال کیس! 26 دنوں کے بعد اس سانحہ کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی نے بیان دیا ہے کہ وہ تفتیش مکمل نہیں کرسکی اسے مزید وقت دیاجائے! جو تفتیش پہلے ہی روز صرف ایک دن میں مکمل ہوسکتی تھی وہ 26 دنوں میں بھی نامکمل ہے! اس پر کیا تبصرہ کیاجائے؟یہ لوگ 26 دن کیا کرتے رہے؟ دنیا بھر میں کم سن بچوں کو ہمیشہ سچا اور ان کی گواہی کو معتبر اور ناقابل انکار قرار دیاجاتا ہے۔ اسی کالم میں ایک امریکی عدالت کا ذکر کرچکا ہوں ، اس کے جج نے کسی بھی تفتیش یا گواہ کی بجائے صرف ایک کم سن بچے کا بیان سنا اور ڈیڑھ دو گھنٹے میں فیصلہ سنادیا اور یہاں! مقتول خاندان کا ایک معصوم، کم سن بچہ باربار ایک بیان دے رہاہے، ہر چشم دید واقعہ کو بار بار دہرا رہاہے مگر جے آئی ٹی اس کے بیان کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی! پولیس کے درندہ صفت اہلکاروں نے جن بندوقوں سے بے گناہ خاندان پر شدید فائرنگ کی (100 گولیاں)، ان بندوقوں کو چھپادیا گیا۔ انہیںپہلے ہی روز فوری طورپر فرانزک لیبارٹری میں نہیں پہنچایا گیا۔ جے آئی ٹی نے اس اہم ترین بات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔ بہت شور مچا تو 20 روز کے بعد اصل کی بجائے جعلی بندوقیں جمع کرادی گئیں، انہیں فرانزک ماہرین نے مسترد کردیا! جے آئی ٹی اس بارے میں 20روز تک کیوں خاموش رہی؟سر عام، کھلے عام، بہت سے لوگوں کے سامنے اتنا اذیت ناک، درد ناک واضح واقعہ! کسی لمبی تفتیش کی ضرورت ہی نہیں تھی، تصویری ثبوت بھی موجود تھے مگر ملزموں کے خلاف کسی کارروائی کی نیت ہی نہیں تو کیا کیا جاسکتاہے! 26 دن گزار دیئے اور مزید مہلت مانگی جارہی ہے !!
٭اُردو اور پنجابی کے معروف بزرگ شاعر جاذب بخاری بہت علیل ہیں قارئین سے ان کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی گئی ہے۔
٭ایک خبر: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سعودی عرب سے 63 لاکھ روپے کے تحفے ملے ان میں 48 لاکھ روپے کی ایک رولیکس گھڑی بھی تھی۔ انہوں نے یہ تحفے سرکاری توشہ خانہ میں جمع کرادیئے۔ اصولی طورپر ملک کے حکمران کوبیرون ملک سے جو تحائف ملتے ہیں وہ ذاتی نہیں ہوتے بلکہ ریاست کے نام پر اور اس کی ملکیت ہوتے ہیں۔ انہیں ریاست کے توشہ خانہ ( بیت المال) میں جمع کرانا ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ رواج نہیں رہا۔ نوازشریف کو سعودی عرب سے50لاکھ روپے کی گھڑی اور دوسرے عام تحفے ملے۔ موصوف نے دوسرے تحفے تو بیت المال میں جمع کرادیئے اور گھڑی اپنے ہاتھ پر باندھ لی، آج بھی ان کے ہاتھ پر دیکھی جاتی ہے۔آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو تو سارے تحفے ہی گھرلے گئے ، بیت المال میں کچھ بھی جمع نہ کرایا۔ آج تک یہ واضح نہ ہو سکا کہ ایک سوئس بنک میں کروڑوں کی قیمت کا جو جڑاؤ ہار بے نظیر بھٹو کے نام پر جمع ہے، اس کا باربار ذکر آچکا ہے، یہ کہاں سے آیااور سوئس بنک میں کیسے اور کیوں پہنچا؟ ایک اور جڑاؤ ہار کی کہانی بھی عام ہوچکی ہے۔ کشمیر میں خوفناک زلزلہ آیا۔ ترکی کے موجودہ صدر اردوان، اس وقت وزیراعظم، کی اہلیہ محترمہ نے اپنا ذاتی جڑاؤ ہار زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے بھیج دیا۔ یہ جڑاؤ ہار فروخت نہیں کیاگیا۔ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے تو یہ ہار ان کے ہاتھ میں آگیا۔ وہ وزیراعظم کے عہدہ سے فارغ ہوئے تو ہار اپنے گھر ملتان لے گئے۔ کسی طرح بات کھل گئی تو مجبوراً اسے واپس کرناپڑا۔ پتہ نہیں اس وقت یہ ہار کہاں اورکس حالت میں ہے؟ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج تک کبھی کسی حکومت نے بیرون ملک سے آنے والے تحائف کی تفصیل جاری نہیں کی کہ اب تک کتنے تحائف آئے، بیت المال میں اس وقت کتنے موجود ہیں۔ کتنے غائب ہوچکے ہیں؟
٭بلاتبصرہ: سندھ میں ایک بڑی شخصیت کے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی بیک وقت17 گریڈ میں تقرریوں کی خبر نشر ہوئی ہے۔ بیٹا اسسٹنٹ کمشنر، ایک بیٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک بیٹی سوشل ویلفیئر افسر مقرر ہوئی ہے ۔ کہاگیا ہے کہ ساری تقرریاں میرٹ پر ہوئی ہیں!!
٭جہلم سے محمد حنیف صاحب نے تصحیح کی ہے کہ ایوب خان کے دور میں پاکستان کا دورہ کرنے والے چین کے وزیراعظم کا نام چو این لائی تھا، سہواً چن ژی چھپ گیا، حنیف صاحب شکریہ!