12:19 pm
پلوامہ حملہ، بھارت کو پیغام

پلوامہ حملہ، بھارت کو پیغام

12:19 pm

جس طرح گزشتہ چند برسوں سے بھارتی فورسز نے کشمیریوں کی نشل کشی تیز کی ہے اور قتل عام کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے، اس نے ہر ایک کشمیری کو بھارت سے مزید متنفر کر دیا ہے۔ اس جدوجہد میں مزید نوجوان شامل ہو رہے ہیں۔ طلباء اپنی تعلیم نامکمل چھوڑ کر عسکریت کی طرف آرہے  ہیں۔ اس میں کسی سوجھ بوجھ یا شعور کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ لا تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی بندوق اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ نصف درجن سے زیادہ پی ایچ ڈی سکالرز اپنے مستقبل سے بے نیاز ہو کر اس میں شامل ہوئے اور
لیت پورہ جنوبی کشمیر کا علاقہ ہے جو سرینگر جموں شاہراہ پر واقع ہے۔ اس علاقے کے نزدیک بھارتی فضائیہ کا ہوائی اڈہ اونتی پورہ میں ہے۔ یہ ائیر پورٹ پلوامہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ جنوبی کشمیر گزشتہ چند برسوں سے عسکریت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عادل احمد ڈار کی عمر19سال تھی جب اس نے بارود سے بھری کار بھارتی نیم فوجی سنٹرل ریزرو پولیس فورس ( سی آر پی ایف  )کی 70گاڑیوں کی کانوائی سے ٹکرا دی۔ جمعرات کے تیسرے پہر یہ فدائی حملہ کیا گیا۔ دھماکے میں استعمال ہونے والی کار ریزہ ریزہ ہو گئی۔ سی آر پی ایف اہلکاروں سے بھری بس مکمل تباہ ہوئی۔ مزید کئی بسیں بھی جزوی تباہ ہوئیں۔ جس جگہ فدائی حملہ ہوا وہ چڑھائی پر واقع ہے۔ کانوائے برفباری کی وجہ سے جموں اور اودھمپور میں پھنسی ہوئی تھی۔ تقریباً تین ہزار اہلکار ان گاڑیوں پر سوار تھے۔ سی آر پی ایف 1990کے اوائل میں جب کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہوئی، کشمیریوں کے شدید ٹارچر کے لئے بدنام ہے۔ اس وقت یہی فورس مجاہدین کے خلاف آپریشنز کرتی تھی۔ بعد میں بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف)، راشٹریہ رائفلز(آر آر)، سی ایس ایف ، کشمیر پولیس کی ٹاسک فورس اور دیگر بھی آپریشنز میں شامل کی گئیں۔ ریگولر فوج بھی ہمیشہ تشدد اور مظالم روا رکھنے میں شامل رہی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سی آر پی ایف کو آپریشنز سے ہٹا کر صرف سرکاری تنصیبات کی سیکورٹی تک محدود کیا گیا۔ تا ہم کچھ عرصہ بعد اس نیم فوجی فورس کو پھر سے آپریشنز پر لگا دیا گیا۔ یہ فورس کشمیریوں کی پکڑ دھکڑ اور ظالمانہ کارروائیوں میں سب فورسز سے آگے رہی۔ اس لئے اس کے خلاف عوامی میں نفرت بھی دیگر سے زیادہ رہی ہے۔ مگر بھارت کی فوج یا نیم فوجی فورس نے ہمیشہ کشمیریوں پر تشدد روا رکھنے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کی۔ 
جس طرح گزشتہ چند برسوں سے بھارتی فورسز نے کشمیریوں کی نشل کشی تیز کی ہے اور قتل عام کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے، اس نے ہر ایک کشمیری کو بھارت سے مزید متنفر کر دیا ہے۔ اس جدوجہد میں مزید نوجوان شامل ہو رہے ہیں۔ طلباء اپنی تعلیم نامکمل چھوڑ کر عسکریت کی طرف آرہے  ہیں۔ اس میں کسی سوجھ بوجھ یا شعور کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ لا تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی بندوق اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ نصف درجن سے زیادہ پی ایچ ڈی سکالرز اپنے مستقبل سے بے نیاز ہو کر اس میں شامل ہوئے اور شہادت پائی۔ عادل احمد ڈار بھی بارہویں جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ فدائی حملہ کوئی آسان مشن نہیں۔ اپنی جان دینا معمولی کام نہیں۔ ایک ایسا نوجوان جس کے سامنے زندگی پڑی ہے، وہ اپنے آپ کو کیسے قربان کرتا ہے، اس کی ذہن سازی کسی تنظیم نے نہیں بلکہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی نے کی ہے۔ کشمیریوں کو بھارت نے جوق در جوق بندوق اٹھانے پر مجبور کیا۔ اگر چہ اقوام متحدہ بھی بندوق اٹھانے کی اجازت دیتا ہے۔ 
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراداد نمبراے /آر ای ایس/۳۷/۴۳ بتاریخ 3دسمبر1982میں صاف طور پر’’ بیرونی قبضے کے خلاف  آزادی کی جنگ میں مسلح جدوجہد سمیت تمام دستیاب وسائل کے استعمال‘‘ کی اجازت دیتی ہے۔ بھارت نے بھی کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے۔ اس قبضے کو ختم کرنے کے لئے اقوام متحدہ میں بھارتی حکمرانوں نے وعدے کئے۔ سلامتی کونسل کی قرادادیں بھی موجود ہیں۔ لیکن بھارت نے ہمیشہ کشمیر میں رائے شماری کرانے کے وعدوں کو وفا نہ کیا۔ بلکہ تحریک میں شامل ہونے والوں کا قتل عام کیا گیا، ان کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنا یا گیا۔ سیکڑوں نوجوانوں کو تشدد کے دوران شہید اور معذور کیا گیا۔ گزشتہ برسوں میں ہزاروں نوجوانوں اور بچوں و خواتین تک کو پیلٹ فائرنگ سے بینائی سے محروم کیا گیا۔ کشمیریوں کی بینائی چھین کر بھارت کس امن اور ترقی کی امید رکھتا ہے۔ 
کشمیریوں پرگولہ باری کرنے والے فورسز پر کشمیری کیسے گل باری کر سکتے ہیں۔ کشمیریوں نے سمجھ لیا کہ بھارت صرف گولی کی زبان سمجھتا ہے۔ مگر کشمیریوں کی گولی ہی نہیں بلکہ کنکریوں کو بھی دہلی کے حکمرانوں نے پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیا۔ حقائق سے جان چھڑاکر بھارت نے دنیا کو بھی اور اپنے عوام کو بھی گمراہ کیا۔ کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا۔ کشمیریوں کو اپنی مرضی کا فیصلہ کرنا کجا ، اس فیصلے میں شامل تک نہ کیا گیا۔ اس سے بڑی ناانصافی اور کیا ہو سکتی ہے  جب آج کا نوجوان اپنے سامنے اپنے والد ، بھائی کو قتل ہوتے دیکھتا ہے، اپنی ماں بہن کی تذلیل دیکھتا ہے، اپنے لئے تعصب اور امتیازی سلوک دیکھتا ہے تو اس میں بھی انتقام کا جذبہ فطری طور پر بیدار ہو جاتا ہے۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر اپنی جان کی پروا کئے بغیر انتقام کی سوچ رکھتا ہے۔ کشمیریوں کی سوچ پختہ ہو چکی ہے کہ اس نے بھارت سے آزادی لینی ہے۔ بیرونی قبضے کو ختم کرنا ہے۔ اس کے لئے بات چیت ضروری ہو سکتی ہے مگر کشمیری اس بات چیت میں بھی کبھی شامل نہیں ہوا۔ 
بھارت طاقت اور تشدد آزما کر تحریک کو ختم کرنا چاہتا ہے مگر وہ آزادی کے جذبہ کو کچل نہ سکا۔ اس میں اسے ناکامی ہوئی۔ کشمیری اب تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت میدان میں ہے۔ دنیا کے حالت دیکھ کر اور جس طرح افغان قوم نے پہلے سوویت یونین اور اب امریکہ سمیت پوری دنیا کو شکست فاش دی ہے، اس نے کشمیری کو بھی اس طرف مائل کیا ہے کہ بیرونی قبضے مسلسل جدوجہد سے خیم ہو سکتے ہیں۔ عادل ڈار کا بھارت کو اپنی جان دے کر فدائی حملہ سے یہی پیغام ہے کہ وہ کشمیری نوجوان کی اس قربانی کو سمجھے کہ اس کے عزائم کیا ہیں۔کشمیری سرنڈر یا کسی سمجھوتے پر آمادہ نہیں۔ بھارت کو کسی بھی صورت میں واپس جانا ہو گا۔ 
 

تازہ ترین خبریں

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

صلح کا بیان دینا مہنگا پڑگیا، عہدے سے ہٹائے جانے کاامکان

صلح کا بیان دینا مہنگا پڑگیا، عہدے سے ہٹائے جانے کاامکان

کنیز اول اپنی جھوٹی رام لیلا میں روزانہ ایک نئے شگوفے کا اضافہ کرتی ہیں،فردوس عاشق اعوان

کنیز اول اپنی جھوٹی رام لیلا میں روزانہ ایک نئے شگوفے کا اضافہ کرتی ہیں،فردوس عاشق اعوان

حکومت جاتے ہی وزراءپہلی رات جہاز سے بھاگ جائیں گے،شاہد خاقان عباسی

حکومت جاتے ہی وزراءپہلی رات جہاز سے بھاگ جائیں گے،شاہد خاقان عباسی

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول بھٹو زرداری

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول بھٹو زرداری

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا ،شاہ محمود قریشی

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا ،شاہ محمود قریشی

چیئرمین نیب کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم

چیئرمین نیب کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم

خادم اعلیٰ کالبادہ اوڑھ کرکرپٹ اعلیٰ بننےوالےکےحساب دینےکاوقت ہے،شہبازگل

خادم اعلیٰ کالبادہ اوڑھ کرکرپٹ اعلیٰ بننےوالےکےحساب دینےکاوقت ہے،شہبازگل

 مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

سول ایوی ایشن نے اندرون ملک کرایوںمیں اضافہ کر دیا

سول ایوی ایشن نے اندرون ملک کرایوںمیں اضافہ کر دیا