09:32 am
   پلواما حملہ بھارت ہمدردیاں سمیٹنے میں مگن

پلواما حملہ بھارت ہمدردیاں سمیٹنے میں مگن

09:32 am

جموں و کشمیر بھارت کے زیر قبضہ سب سے شمالی ریاست ہے جس کا بیشتر علاقہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پھیلا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کی سرحدیں جنوب میں ہماچل پردیش، مغرب میں پاکستان اور شمال اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ پاکستان میں جموں و کشمیر کو اکثر مقبوضہ کشمیر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔جموں و کشمیر تین حصوں جموں، وادی کشمیر اور لداخ میں منقسم ہے۔ سری نگر اس کا گرمائی اور جموں سرمائی دارالحکومت ہے۔ وادی کشمیر اپنے حسن کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے جبکہ مندروں کا شہر جموں ہزاروں ہندو زائرین کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ لداخ جسے تبت صغیربھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث جانا جاتا ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔کشمیر دو جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ علاقہ عالمی سطح پر متنازعہ قرار دیا گیا ہے۔بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جس میں وادی کشمیر میں مسلمان 95 فیصد، جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44 فیصد ہیں۔ جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بدھ 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں۔
 
حالیہ پلوامہ حملے کے بعد وائٹ ہائوس نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ فوری طورپر دہشت گرد گروپس کی مدد اور ان کیلئے محفوظ پناہ گاہ ختم کردے اور اس نے پلوامہ دہشت گرد حملہ کی مذمت کی۔ جیش محمد نے جموں وکشمیر کے پلوامہ ضلع میں جمعرات کو کئے گئے حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں سی آر پی ایف کے 37جوان ہلاک اور دیگر کئی شدید طورپر زخمی ہوگئے۔ امریکہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ فوری طورپر دہشت گردوں کی تائید اور محفوظ پناہ گاہ ختم کردے جو اس کی سرزمین سے کارروائیاں انجام دے رہے ہیں ان کا واحد مقصد اپنے خطہ میں افراتفری تشدد اور خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ وائٹ ہائوس کی پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے کل رات دیر گئے بیان میں یہ بات کہی۔ مزید کہا کہ اس حملہ سے دہشت گردی کا جواب اپنے بھارت۔امریکی اشتراک میں مزید استحکام ہوا ہے۔روسی صدر ولاد یمر پیوٹین نے بھی حملے کی پرزور مذمت کی اور کہا  سازشیوں کو سزا دی جانی چاہیئے۔ سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرماسنگھے نے بھی پلوامہ دہشت گرد حملہ کی مذمت کی۔ سابق صدر مہندا راجا پکشے نے بھی ٹویٹر کے ذریعہ حملہ کی پر زور مذمت کی۔ہندوستان خود اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ  جموں وکشمیر میں جیش محمد کا سب سے خطرناک حملہ رہا۔
اس کے اندرونی محرکات سے دنیا کو بےخبر رکھنے کی بھارتی کوششیں دم توڑتی جارہی ہیں اور بھارت کے سابق جرنیل اور اعلیٰ فوجی سابق عہدیداروں سمیت تمام ہوش مند اور عقلمند انسان حملے کو بھارت کی اندرونی سازش سمجھتے ہیں لیکن بھارتی قیادت اس کا الزام پاکستان کے سر تھونپ کر دنیا کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے تاکہ پاکستان پر دبائو برھایا جا سکےلیکن وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھارت کو جو جواب دیا گیا ہے اس پر قدرے خاموشی چھا جانے اور بھارت کی طرف سے پینترا بدلنے کی امید کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ اپنی خو چھوڑنے سے باز نہیں آئے گا ۔دوسری طرف بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ پلوامہ دہشت گرد حملہ پر تبادلہ خیال کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ میٹنگ کرائی جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے طلب کردہ کل جماعتی اجلاس میں کیا۔ اجلاس کے بعد کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم نے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیراعظم سے کہیں کہ تمام قومی اور علاقائی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس طلب کریں۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے حکومت کی بھرپور تائید کی ہے۔ حکومت سے ہمارا اختلاف ہوسکتا ہے اور ہونا بھی چاہئے لیکن ہم نے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
 سی پی آئی قائد ڈی راجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور حکومت کے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لئے ایسا اجلاس طلب کیا جانا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ مسلمانوںکے خلاف کوئی اشتعال انگیزی نہ ہو۔کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مسلحعسکریت پسندی کا آغاز 1989میں ہوا تھا۔ جمعرات کو ہونے والے خودکش حملے کو کو بدترین دہشت گرد حملہ کہا جارہا ہے۔ سبھی سیاسی جماعتوں بشمول بی جے پی و کانگریس کے اجلاس میں دہشت گرد حملہ کی مذمت میں قرارداد منظور کیلیکن خوف کے مارے قرارداد میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا لیکن زور دے کر کہا گیا کہ ہندوستان کو سرحد پار دہشت گردی کا سامنا ہے۔