02:35 pm
نیا سفیر پاکستان! محمد بن سلمان

نیا سفیر پاکستان! محمد بن سلمان

02:35 pm

جیسے جملوں کی کاٹ انسانی دلوں کو چھلنی  کر ڈالتی ہے … ایسے ہی بعض جملوں کی چاشنی اور حلاوت انسانی روح کو سرشار کر ڈالتی ہے‘ جیسے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبد العزیز کے منہ سے نکلنے والے ان جملوں نے پاکستانی قوم کے دلوں کو جیت لیا کہ ’’میں سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر ہوں اور جس طرح سعودی باشندوں کا خیال رکھا جاتا ہے اسی طرح پاکستانیوں کا بھی خیال رکھوں گا۔‘‘
 
یوں اگر میں یہ بات لکھ دوں تو زیادہ مناسب ہوگا کہ اتوار کی شام وہ آئے تو پاکستان میں ایک ’’ولی عہد‘‘ اور ’’پرنس‘‘ کی حیثیت سے تھے لیکن پیر کی شام جب واپس لوٹے تو ’’پرنس‘‘ کے ساتھ ساتھ سفیر پاکستان بھی بن چکے تھے … یعنی نیا سفیر پاکستان محمد بن سلمان جاتے جاتے اس قوم پر ایک احسان اور کرگئے یعنی سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں قید2107 پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان‘ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے نہ صرف قیدیوں کے مسئلے پر بات کی بلکہ سعودی عرب میں مقیم25 لاکھ کے لگ بھگ پاکستانیوں کے مسائل اور مشکلات کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
پرنس محمد بن سلمان نے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان معاہدے صرف شروعات ہیں ‘2030 ء تک پاکستان بڑی اقتصادی طاقت کر ابھرے گا‘ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات پروان چڑھ رہے ہیں… ہم پاکستان کو بڑی معیشت بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں‘ ترقی کے اس سفر میں ہم پاکستان کے ساتھ ہیں۔
ہم پاکستان کے شاندار مستقبل پر یقین رکھتے ہیں‘ کاش کہ سعودی  ولی عہد کے اس روشن خطاب سے  ان عقل کے اندھوں کو بھی روشنی نصیب ہو جائے جو پاکستان میں رہ کر ‘ پاکستان کا کھاکر‘ پاکستان میں پروٹوکول لے کر … ہر وقت خاکم بدہن پاکستان کے ڈوبنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں ‘ جنہیں پاکستان میں کوئی اچھی بات نظر ہی نہیں آتی‘ پرنس محمد سلمان بن عبد العزیز کو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے جو پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز ’’نشان پاکستان‘‘ عطا کیا … شہزادے نے ثابت کر دیا کہ وہ اس اعلیٰ ترین اعزاز کے صحیح حقدار تھے‘ انہوں نے پاکستان کے دورہ کے دوران جو امید افزاء گفتگو کی اس سے پاکستانی قوم کو اک نیا حوصلہ ملا۔
قیام پاکستان کے وقت شاہ عبد العزیز اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان اور سعودی عرب دوستی کی بنیاد رکھی تھی‘ شاہ ابن مسعود نے 1951 ء میں پاکستان کا  دورہ کرکے اس دوستی کو آگے بڑھایا … شاہ فیصل بن عبد العزیز نے اپنے دور میں اس دوستی کو مزید فروغ بخشا۔شاہ فیصل مرحوم نے اسلام آباد کے دل میں ’’شاہ فیصل مسجد‘‘ کی بنیاد رکھی‘ مرحوم شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے پاک سعودی دوستی کو مزید پروان چڑھایا‘1998 ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو عالمی پابندیوں میں جکڑنے کی کوشش کی گئی تو یہ سعودی عرب ہی تھا کہ جس نے ماں جائے بھائی کا رول ادا کرتے ہوئے پاکستان کی بھرپو ر مدد کی۔
پھر2005 ء کے ہلاکت آفرین زلزلے ہوں  2010 ء اور 2011 ء کے تباہ کن سیلاب ہوں یا د یگر قدرتی آفات سعودی عرب ہر موقع پر مدد کرنے کے لئے پاکستان کے شانہ بشانہ رہا‘ سعودی عرب اور بھارت کے آپسی تعلقات کیسے بھی خوشگوار کیوں نہ رہے ہوں ‘ لیکن سعودی عرب کے حکمرانوں نے ان تعلقات کو کبھی بھی پاکستان سے محبت کی راہ میں  حائل نہیں ہونے دیابلکہ ہر موقع پر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی۔
پیر کی شام33 سالہ پرنس محمد بن سلمان سعودی عرب واپس تو چلے گئے‘ لیکن جاتے جاتے پاک سعودی عرب تعلقات کو اوج ثریا کی بلندیوں تک پہنچا گئے‘ پاک سعودی تعلقات کے مخالفین اپنے منہ میں انگلیاںدبائے سوچ رہے ہیں کہ اب وہ کیا کریں؟ انہوں نے پاک سعودی عرب تعلقات میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے جتنی بھی تدبیریں کی تھیں وہ سب کی سب الٹی پڑگئیں۔
سنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی والے 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 2107 پاکستانی قیدیوں کے اعلانات کو کوئی حیثیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں‘ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پرنس محمد بن سلمان کے دورے سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
 اسے کہتے ہیں کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ مسلم لیگ ن والے بے چارے ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر پرنس محمد بن سلمان نے جن2107 قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے ان میں شریف خاندان کا تو کوئی ایک بھی قیدی نہیں‘ وہ سب کے سب تو عام پاکستانی قیدی ہیں ان کی رہائی کا مسلم لیگ ن کو کیا فائدہ؟ ہاں البتہ پرنس محمد بن سلمان نواز شریف‘ خواجہ سعد رفیق وغیرہ کو ان کے صندوقوں سمیت رہا کرواکر اپنے ساتھ ’’سرور پیلس‘‘ لے جاتے تو پھر ن لیگ بھی پرنس محمد سلمان کے دورے کی کامیابی کو تسلیم کرلیتی۔
ن لیگ کے لیڈران تو پاکستانی جیلوں میں ہیں‘ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے پیچھے تو نیب والے بھوت بن کر لگے ہوئے ہیں‘ سعودی ولی عہد نے ان کو این آر او دینے کی تو کوئی سفارش نہیں کی ‘تو پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن والے پرنس کے کامیاب دورے کو کیسے تسلیم کرلیں؟اس حوالے سے مجھے بھی ان ’’بے چاروں‘‘ سے ہمدردی ہے ‘لیکن دوسری طرف ولی عہد محمد بن سلمان نے جو خود کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دے کر وہاں قید پاکستانیوں کی رہائی کااعلان کیا ہے ‘ ان اعلانات کو سننے کے بعد میرے اندر سرشاری کی اک لہر دوڑ گئی ہے‘ وہ اکیس سو سات قیدی  کہ جو دیار غیر کی جیلوں میں سسک رہے تھے اور اس کا کوئی پرسان حال نہ تھا‘ جن قیدیوں کے پاکستان میں موجود لواحقین ہر وقت جھولیاں پھیلائے پروردگار سے ان کی سلامتی اور رہائی  کی دعائیں مانگا کرتے تھے ‘ اگر وہ سارے کے سارے ایک روپیہ خرچ کیے بغیر رہا ہوکر پاکستان میں موجود اپنے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں تو پرنس محمد بن سلمان کے دورے کی یہ سب سے بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔
اس لئے میری حکومت کے مخالفین سے گزارش ہے کہ وہ عمران خان کی مخالفت ضرور کریں مگر پرنس محمد بن سلمان کے کامیاب دورے  کے اُجلے دودھ میںمینگیاں ڈالنے سے احتراز برتیں۔

 

تازہ ترین خبریں

پاکستان ڈیموکریٹک اجلاس ۔۔۔۔۔ رہنماوں کے درمیان تلخ کلامی ۔۔۔ اختلافات سامنے آگئے 

پاکستان ڈیموکریٹک اجلاس ۔۔۔۔۔ رہنماوں کے درمیان تلخ کلامی ۔۔۔ اختلافات سامنے آگئے 

26 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا ۔۔ ملک سے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے قوم اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا فضل الرحمان 

26 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا ۔۔ ملک سے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے قوم اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا فضل الرحمان 

معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس

 ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس پہلی بار یوم پاکستان پریڈ میں شرکت کرے گی

ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس پہلی بار یوم پاکستان پریڈ میں شرکت کرے گی

پی ڈی ایم اجلاس۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کون ہونگے؟ اہم خبر سامنے آگئی

پی ڈی ایم اجلاس۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کون ہونگے؟ اہم خبر سامنے آگئی

وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس۔۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی حکمت عملی پر بھی مشاورت

وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس۔۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی حکمت عملی پر بھی مشاورت

 لانگ مارچ سے قبل ہوم ورک ضروری ہے، ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔یوسف رضا گیلانی

لانگ مارچ سے قبل ہوم ورک ضروری ہے، ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔یوسف رضا گیلانی

پاک بحریہ کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران دوطرفہ بحری مشقوں کا انعقاد کیاگیا۔

پاک بحریہ کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران دوطرفہ بحری مشقوں کا انعقاد کیاگیا۔

شہر قائد میں رشوت کے عوض ڈرائیونگ لائنسز بنانے کا انکشاف ۔۔۔ اہلکار معطل

شہر قائد میں رشوت کے عوض ڈرائیونگ لائنسز بنانے کا انکشاف ۔۔۔ اہلکار معطل

بٹگرام میں تین ماہ سے مسلسل گونگی بہری لڑکی سےبد فعلی کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

بٹگرام میں تین ماہ سے مسلسل گونگی بہری لڑکی سےبد فعلی کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے بارے بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کابلاول بھٹو زرداری کو چیلنج

بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے بارے بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کابلاول بھٹو زرداری کو چیلنج

سعودی عرب میں پاک میڈیا جنرنلسٹس فورم کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی ویبنار کا انعقاد

سعودی عرب میں پاک میڈیا جنرنلسٹس فورم کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی ویبنار کا انعقاد