02:39 pm
2107 قیدیوں کی رہائی، ہزاروں خاندانوں کی دعائیں

2107 قیدیوں کی رہائی، ہزاروں خاندانوں کی دعائیں

02:39 pm

٭سعودی عرب نے پاکستان میں20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔ اچھی بات ہے مگر میرے لیے اہم ترین خبر یہ ہے کہ سعودی جیلوں میں قید 2107 پاکستانی قیدیوںکو رہا کرنے کا اعلان کیاگیا ہے۔ یہ معمولی خبر نہیں ۔ ایک قیدی کی رہائی بھی بڑی بات ہوتی ہے۔ سعودی ولی عہد کے اس اعلان پر پاکستان کے انتہائی اذیت میں مبتلا2107 خاندان پھرزندہ ہوگئے ہیں۔
میں اس اقدام پر پوری قوم کی طرف سے سعودی ولی عہد کے لیے اظہار تشکر اوروزیراعظم عمران خان کے لیے اظہار تحسین کرتا ہوں۔ اس خبر پر اپوزیشن رہنماؤںنے بھی سعودی عرب کا شکریہ اوراظہار مسرت کیا ہے۔ مالی امداد اور سرمایہ کاری کے قصے چلتے رہتے ہیں۔ ویسے اب تک چین اور عرب ممالک سے جتنی بھی امداد کا اعلان ہوا ہے اور جتنے قرضے آرہے ہیں انہیں سود سمیت واپس کرنا ہے۔ کوئی قرضہ تحفہ کے طورپر نہیں آرہا، سارے ادھار ہیں۔ پھر بھی ان کی آمد سے پاکستان کو درپیش بھاری مالی بحران سے فوری طورپر نمٹنے میں مدد ملی ہے، یہ بھی غنیمت ہے مگر اصل امداد اور خوش گوار تعاون سعودی عرب میں قید2107 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیںملتی، جیساپہلے کہا ہے کہ پاکستان میں 2107 انتہائی اذیت اور کرب میں مبتلا 2107 نیم جان گھرانے پھر زندہ ہوگئے ہیں۔ ان گھروں پر طویل مدت سے کرب ناک رات چھائی ہوئی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر غریب خاندانوں کے افراد تھے جو اپنے والدین اور بچوں کے لیے بہتر زندگی کی تلاش میں بھاری اخراجات ادا کرکے باہر گئے اور کسی نہ کسی وجہ سے وہاں قید ہوگئے۔ کسی پر غیر قانونی داخلہ وغیرہ کی مدت ختم ہونے کے بعد وہیں رہنے ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ، کسی قسم کے مظاہروں وغیرہ کے کیس ہیں۔ کچھ بدبخت افراد کی شروع سے ہی نیت خراب تھی، وہاں جاکر چوری چکاری اور منشیات فروشی پر پکڑے گئے ۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو قتل وغیرہ کے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ یہ تعداد تقریباً تین ہزار بنتی ہے۔ ان میں سے معمولی الزامات والے 2107 افراد رہا کیے جارہے ہیں۔ یہ بھی بڑی تعداد ہے۔ ان افراد کی بدقسمتی کہ وہاں سے اپنے گھروں کو توکچھ نہ بھیج سکے الٹاجیلوں میں پہنچ گئے۔ پیچھے پاکستان میں ان کے گھرانوں کو جس اذیت اورمالی مصائب کا شکار ہوناپڑا، قارئین اس سے آگاہ ہیں۔ والدین بیمار، بچوں کی تعلیم چھوٹ گئی، گھروں میں فاقے پڑ گئے اوپر سے قید میں پڑے عزیزوں کی کوئی خبر نہیں مل رہی تھی۔ مجھے کالم میں چھاپنے کے لیے اپنے کچھ خاندانوں کی درد بھری اپیلیں آتی رہیں کہ اپنی حکومت اور سعودی سفارت خانے کے نام ان لوگوں کی رہائی کے لیے سفارش کردوں ، میں نے یہ اپیلیں چھاپ دیں مگر یہ تو حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطحوں کے معاملات ہوتے ہیں، ایک کالم سے کیسے حل ہوسکتے ہیں؟ اور وہی ہواہے، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گھر آئے ہوئے سعودی ولی عہد سے بڑی شائستگی اور دردمندی کے ساتھ درخواست کی کہ پاکستان کے ان قیدیوں پر رحم فرمائیں اوران کو رہا کرکے ان کی دعائیں لیں۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے معمولی الزامات والے 2107قیدی رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔ اس اچانک اعلان نے پورے ملک کو انتہائی خوش گوار کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔ 2107 گھرانوں کے ساتھ منسلک ہزاروں دوسرے خاندانوں کے لیے بھی غیر متوقع طورپر اچانک عید کا سماں پھیل گیا ہے۔میں نے ٹیلی ویژنوں پر ایسے بہت سے متاثرہ گھرانوں میں خوشیوں بھر عید جیسے جشن کے مناظر دیکھے ہیں۔ رہا ہونے والوں کے اہل و عیال خاص طورپر والدین ، بیویوں ، بہنوں ، بھائیوں کو جس طرح والہانہ خوش ہوتے اور کم سن بچوں اور بچیوں کوانتہائی مسرت سے اچھلتے کودتے دیکھا ہے، اس نے مجھے جذباتی کردیا ہے۔ 
٭زندہ باد عمران خان! شادباد ، سلامت رہو! تم نے اس انسانیت نواز اقدام سے پوری قوم کو خوش کیا ہے ۔ یہ معمولی اقدام نہیں۔ کتنی آسانی سے اتنا بڑا مسئلہ حل ہوگیا۔ یہ کام پہلے آنے والے حکمران بھی کرسکتے تھے مگران کی حکمرانی کے مقاصد صرف اورصرف اپنے ذاتی مفادات تھے۔ یہ لوگ ملک کی حالت کو بہتر بنانے کے نام پر باہر سے بھاری قرضے حاصل کرکے ملک کوا نتہائی بے دردی سے لوٹتے اور دبئی ، لندن، امریکہ ، سپین ،فرانس اوربلجیم میں محلات ،پلازے اور ملیں بناتے رہے، فلیٹس خریدتے رہے۔ کسی کو بیرون ملک اپنے تباہ حال قیدیوں کی رہائی کا کوئی خیال نہ آیا۔ شریف خاندان کئی برس سعودی عرب کا مہمان رہا ، وہاں سٹیل ملز وغیرہ لگاتا رہا، کسی قیدی کی رہائی کی کوئی بات نہ کی۔ آصف زرداری نے کئی بار عمرہ کیا ، کبھی ان بے بس افراد کی رہائی کا نہ سوچا، یہ سعادت عمران خان کے حصے میں آنی تھی! میں نے عمران خان کی بحیثیت وزیراعظم بعض پالیسیوںپر سخت تنقید کی ہے۔ مالی امداد دوسرے حکمران بھی حاصل کرتے رہے مگرعمران خان ! آپ نے ہزاروں خاندانوں کو جس انداز میں خوشیاںاور سکون فراہم کیا ہے ،ان پر پوری قوم آپ کی شکر گزار ہے۔ دل بدست آور کہ حج اکبر است ! ایسے عوام دوست کام کرتے رہو۔ آپ کے اس اقدام کی اپوزیشن نے بھی تعریف کی ہے۔ خوش رہو، زندہ و پائندہ رہو!خدا تعالیٰ ایسے مزید عوام دوست اقدامات کی توفیق دے !
٭بیشتر کالم ایک ہی موضوع کی نذر ہوگیا مگر یہ ضروری تھا۔ چنددوسری باتیں! ایران کے حکمرانوں نے کھل کر جس طرح پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے وہ کوئی نئی بات نہیں۔ شاہ ایران کے دورہ کے بعد ایرانی حکمرانوںنے پاکستان کو ہمیشہ فاصلے پر رکھا۔ ایران اور عراق کی طویل جنگ میں دونوں طرف لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے۔ اس وقت پاکستان کے صدر ضیاء الحق نے ترکی ، اردن اور لبنان کے حکمرانوں کے ساتھ تہران جاکر امام خمینی کے حجرے میں فرش پر بیٹھ کرجنگ رکوانے کی کوشش کی مگر کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ ایک دورمیں تہران میں پاکستان کا سفارت خانہ جلاد یا گیا، پاکستان کے خلاف یہ معاندانہ رویہ کبھی ختم نہ ہوا۔ اسے اپنی چاہ بہار بندرگاہ کے سامنے گوادر کی بندرگاہ ہضم نہیںہورہی، اس کے توڑ کے لیے چاہ بہار بند گاہ بھارت کے سپرد کردی ہے! ایر ان نے اپنے پاسداروں پر پاکستانی ’’دہشت گردی‘‘ کا الزام لگایا اوراب اعلان کیا ہے کہ ایران ہی کے علاقے سے ایرانی دہشت گرد تنظیم کے تین دہشت گرد گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا ہے!!
٭ساہیوال سانحہ کو ایک ماہ گزر گیا۔ متاثرہ خاندان کا عدالتی تحقیقات کا مطالبہ تسلیم کرلیاگیا۔ گزشتہ روز عدالت میں اس خاندان کا کوئی فرد نہیںآیا؟ کیاطرزعمل ہے؟
٭بھارت کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔اس معاہدے نے تو پاکستان میں تباہی پھیلا رکھی ہے۔ بہتر ہے ختم ہو جائے مگر بھارت کا بیان احمقانہ ہے۔اس طرح کے معاہدے کوئی فریق یک طرفہ ختم نہیں کر سکتا ، اس معاہدے میں عالمی بینک، برطانیہ، اٹلی، امریکہ اور بلجیم بھی فریق ہیں۔ بھارت حکومت کا یہ اعلان محض پاگل پن ہے۔
٭نوازشریف: پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ نوازشریف کی بیماری! تین ہسپتال، چھ میڈیکل رپورٹیں، ہر رپورٹ میں شوگر، بلڈپریشر وغیرہ نارمل ، صرف دل اورگردوں کا کچھ معاملہ ہے اورلگاتارمطالبہ کہ علاج کے لیے لندن جانا ضروری ہے۔ افواہیں سنجیدہ شکل اختیار کررہی ہیں کہ بالآخر این آر او ہونے والا ہے۔ باہر سے دباؤ آرہاہے کہ پورے شریف خاندان کو ہمیشہ کے لیے لندن بھیج دیا جائے۔ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ کسی این آر او کا سوال پیدا نہیں ہوتا مگر عالمی دباؤ پر بعض اوقات ایک قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتاہے۔

 

تازہ ترین خبریں

ہمارے شاہینوں نے 27فروری کو دشمن کو دن میں تارے دکھائے،شبلی فراز

ہمارے شاہینوں نے 27فروری کو دشمن کو دن میں تارے دکھائے،شبلی فراز

سینیٹ الیکشن: شہباز شریف کو لاہور میں ووٹ کاسٹ کرنےکی سہولت نہ دینے کا فیصلہ

سینیٹ الیکشن: شہباز شریف کو لاہور میں ووٹ کاسٹ کرنےکی سہولت نہ دینے کا فیصلہ

2سال مکمل ہونے پر وزیراعظم کا اہم ترین بیان سامنے آگیا

2سال مکمل ہونے پر وزیراعظم کا اہم ترین بیان سامنے آگیا

حکومت کا 103سال پرانے ایئر پورٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ۔۔وجہ کیا بنی ہے؟جانیے تفصیل

حکومت کا 103سال پرانے ایئر پورٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ۔۔وجہ کیا بنی ہے؟جانیے تفصیل

اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کو معطل کر دیا گیا

اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کو معطل کر دیا گیا

جاتی سردی پھر لوٹ آئی ۔۔۔۔ بارشیں ہی بارشیں !محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی خوشخبری سنادی

جاتی سردی پھر لوٹ آئی ۔۔۔۔ بارشیں ہی بارشیں !محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی خوشخبری سنادی

جوبزدل ہے وہ ہٹ جائے ،جو شیر ہے وہ ڈٹ جائے۔۔۔ مریم نواز کہاں جارہی ہیں ،ن لیگیوں کیلئے بڑی خبر آگئی

جوبزدل ہے وہ ہٹ جائے ،جو شیر ہے وہ ڈٹ جائے۔۔۔ مریم نواز کہاں جارہی ہیں ،ن لیگیوں کیلئے بڑی خبر آگئی

انگین آلتان کے ساتھ فراڈ کرنیوالا ملزم کاشف ضمیر نئی مشکل میں پھنس گیا

انگین آلتان کے ساتھ فراڈ کرنیوالا ملزم کاشف ضمیر نئی مشکل میں پھنس گیا

بزدار حکومت کاغربت کے خاتمے کی جانب ایک اور اہم قدم

بزدار حکومت کاغربت کے خاتمے کی جانب ایک اور اہم قدم

پاک فوج کی دلیری سے بہت متاثر ہوا،ابھی نندن

پاک فوج کی دلیری سے بہت متاثر ہوا،ابھی نندن

’’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘‘ کو دوسال مکمل:وقت آیا تو ہر چیلنج کا جواب بھرپور طریقے سے دیا جائیگا،پاک فوج

’’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘‘ کو دوسال مکمل:وقت آیا تو ہر چیلنج کا جواب بھرپور طریقے سے دیا جائیگا،پاک فوج

پاکستان: کوروناوائرس سے مزید33افراد جاں بحق

پاکستان: کوروناوائرس سے مزید33افراد جاں بحق

 پلوشہ خان کے گھرپرنامعلوم افرادکاحملہ

پلوشہ خان کے گھرپرنامعلوم افرادکاحملہ

ضمانت منظوری کے باوجود حمزہ شہباز رہا کیوں نہیں ہوئے؟

ضمانت منظوری کے باوجود حمزہ شہباز رہا کیوں نہیں ہوئے؟