02:58 pm
جناب وزیراعظم !خلق خدا تکلیف میں ہے

جناب وزیراعظم !خلق خدا تکلیف میں ہے

02:58 pm

 چندروز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں نابینا پروفیسر کا انٹرویو سنا ! بلا شبہ یہ انٹرویو معمول کی گرم گفتاری اور چینلز پررائج اوچھے پن سےپاک تھا ۔ معذوری کے باوجود ناامیدی کا ذرہ برابر تاثر نہیں ۔درس و تدریس سے وابستہ شخص بصارت سے محروم لیکن بصیرت سے مالا مال تھا۔ پرامید اور حوصلہ مند استاد نے دورانِ گفتگو شائستگی کے ساتھ شگفتگی کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا ۔ انتہائی متاثر کن گفتگو میں صرف ایک مرحلہ ایسا تھا جہاں باہمت استاد کا لہجہ رنج میں ڈوب گیا ۔ الفاظ ہی نہیں اُس کے پورے وجود سے دل کے درد کا اظہار ہوا۔ میزبان نے سوال پوچھا کہ آپ ملک کے وزیر اعظم کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔ درد سے بھیگے لہجے میں استاد نے کہا ؛’’ وزیراعظم صاحب ! خلقِ خدا تکلیف میں ہے ۔ اس بارے میں کچھ کریںـ‘‘؛ حقیقت یہی ہے کہ خلق خدا تکلیف میں ہے ۔ معاش کی چکی پیسنا اور گھر کی گاڑی کا پریہ چلانا مشکل سے مشکل ہوا جا رہا ہے۔ جب دو وقت کی روٹی ملنا محال ہو تو ایسے میں دوا دارو کا انتظام کیسے ہو؟ دوائوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں ۔ جواز یہ تھا کہ ڈالر کے مقابل روپے کی قدر گھٹ گئی ۔ اس بات کا کیا جواز ہے کہ پندرہ فیصد کی آڑ میں منافع خوروں نے نوے فیصد تک قیمتیں بڑھا دیں ۔
 
 یوں کہیے کہ روپے کی قدر سے زیادہ اخلاقی قدریں گر گئیں۔ غربت کی چکی میں پسے مریض دوا کے بغیر تڑپیں یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ منافع خور تاجر اور بے حس انتظامیہ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ۔ عوام کو تعلیم ، صحت ، انصاف اور تحفظ کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آئین نے ریاست کو ان امور کے لیے پابند کیا ہے ۔ انہی فرائض کی انجام دہی کے لیے ریاست کو اختیارات سونپے ہیں ۔ انہی اختیارات کو چند روپوں کی رشوت کے عوض فروخت کر کے قانون شکنوں کی باندی بنا دیا جاتا ہے۔ ریاست کی رٹ صرف بندوق کی سنگینوں پر دہشت گردوں کے سر ٹانگنے کا ہی نام نہیں ہے۔ ملک میں انتظامی دہشت گردی زور و شور سے جاری ہے۔ عوام کی خدمت پر مامور ادارے بالعموم اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے کی عادت ترک کر چکے ہیں ۔ 
  خدا خوفی رکھنے والے جو اہلکار اپنے فرائض ادا کرنا چاہیں تو ان کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے اور کام چوروں کے ٹولے ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکاتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں افسروں سمیت ملازمین کے جو جتھے ریاست کے خرچ پر پل رہے ہیں ان کی اکثریت کا عوام کو کچھ فائدہ نہیں ۔ ریاست نوٹوں میں کھیلنے والے تاجروں سے ٹیکس جمع نہیں کر پاتی ۔ خمیازہ غریب بھگتتا ہے۔ ریاست قیمتیں کنٹرول نہیں کر پاتی ۔ گرانی سے غریب کی کمر ٹوٹتی ہے۔ ریاست بجلی اور گیس کی نہ تو فراہمی یقینی بنا پاتی ہے اور ہی چوری روک پاتی ہے ۔ زندگی عوام کی اجیرن ہوتی ہے ۔ نااہل اور راشی اہلکاروں کے بوجھ سے ریاست بھی کبڑی ہوگئی اور عوام کی کمر بھی ٹوٹ چکی ہے۔ سعودی ولی عہد سے اسیروں کی رہائی اور محنت کشوں کے لئے رعایت طلب کر کے وزیر اعظم نے احسن قدم اٹھایا ۔ موجودہ حکومت کے کئی اقدامات قابل تنقید اور کابینہ کے اراکین کی کارکردگی قابل گرفت ہونے کے باوجود اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ وزیر ا عظم نے غریبوں کے لیے آواز اٹھا کے یہ احساس اجاگر کیا کہ پاکستان کا حکمراں عوام کی تکلیفوں سے کلیتاً غافل نہیں ۔
   عام آدمی معیشت کی پیچیدگیاں نہیں سمجھتا ۔ گلی کوچوں میں دو وقت کی روٹی کے لیے مشقت کرنے والا نہیں جانتا کہ ڈالر کیوں مہنگا ہوا اور روپیہ کیوں گرا ؟ آئی ایم ایف کیا بلا ہے ؟ محنت مزدوری کرنے والے ان پڑھ رمضان ، شریف ، رشید اور حمید کیا جانیں کہ غیر ملکی تعلیمیافتہ وزیر خزانہ کی پالیسیوں سے مملکت خدادا د میں کیا انقلاب بپا ہونے والا ہے ؟ غریب کو دو وقت کی روٹی ، سر چھپانے کو چھت ، بیماری میں دوا ، بچے کے لیے تعلیم اور جان مال کا تحفظ چاہیے۔
 وزیر اعظم صاحب آپ کو علم ہونا چاہیے کہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان نام نہاد پڑھے لکھوں نے پہنچایا ہے ۔ اشرافیہ کا جو مافیا ریاست کو اپنی باندی بنا کے صبح و شام قانون کی دھجیاں اڑاتا ہے اس کو نکیل ڈالے بنا ملک میں کوئی تبدیلی لانا ممکن نہیں ۔ وزیر اعظم صاحب ! خلق خدا تکلیف میں ہے! خدا نے آپ کو موقع دیا ہے ۔ آئین نے آپ کو اختیار دیا ہے ۔ عوام کو آپ سے امید ہے ۔ آگے بڑھیں اور ریاست کے خرچ پر پلنے والی ان جونکوں سے ملک کو نجات دلائیں جو عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہیں ۔ انہی جونکوں کی وجہ سے ریاست عملی طور پر مفلوج ہے ۔ یقین مانیں خلق خدا تکلیف میں ہے ۔ کسی اور کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ہی ریاست کے ہاتھوں خلق خدا تکلیف میں ہے! 



 

تازہ ترین خبریں

2سال مکمل ہونے پر وزیراعظم کا اہم ترین بیان سامنے آگیا

2سال مکمل ہونے پر وزیراعظم کا اہم ترین بیان سامنے آگیا

حکومت کا 103سال پرانے ایئر پورٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ۔۔وجہ کیا بنی ہے؟جانیے تفصیل

حکومت کا 103سال پرانے ایئر پورٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ۔۔وجہ کیا بنی ہے؟جانیے تفصیل

اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کو معطل کر دیا گیا

اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کو معطل کر دیا گیا

جاتی سردی پھر لوٹ آئی ۔۔۔۔ بارشیں ہی بارشیں !محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی خوشخبری سنادی

جاتی سردی پھر لوٹ آئی ۔۔۔۔ بارشیں ہی بارشیں !محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی خوشخبری سنادی

جوبزدل ہے وہ ہٹ جائے ،جو شیر ہے وہ ڈٹ جائے۔۔۔ مریم نواز کہاں جارہی ہیں ،ن لیگیوں کیلئے بڑی خبر آگئی

جوبزدل ہے وہ ہٹ جائے ،جو شیر ہے وہ ڈٹ جائے۔۔۔ مریم نواز کہاں جارہی ہیں ،ن لیگیوں کیلئے بڑی خبر آگئی

انگین آلتان کے ساتھ فراڈ کرنیوالا ملزم کاشف ضمیر نئی مشکل میں پھنس گیا

انگین آلتان کے ساتھ فراڈ کرنیوالا ملزم کاشف ضمیر نئی مشکل میں پھنس گیا

بزدار حکومت کاغربت کے خاتمے کی جانب ایک اور اہم قدم

بزدار حکومت کاغربت کے خاتمے کی جانب ایک اور اہم قدم

پاک فوج کی دلیری سے بہت متاثر ہوا،ابھی نندن

پاک فوج کی دلیری سے بہت متاثر ہوا،ابھی نندن

’’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘‘ کو دوسال مکمل:وقت آیا تو ہر چیلنج کا جواب بھرپور طریقے سے دیا جائیگا،پاک فوج

’’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘‘ کو دوسال مکمل:وقت آیا تو ہر چیلنج کا جواب بھرپور طریقے سے دیا جائیگا،پاک فوج

پاکستان: کوروناوائرس سے مزید33افراد جاں بحق

پاکستان: کوروناوائرس سے مزید33افراد جاں بحق

 پلوشہ خان کے گھرپرنامعلوم افرادکاحملہ

پلوشہ خان کے گھرپرنامعلوم افرادکاحملہ

ضمانت منظوری کے باوجود حمزہ شہباز رہا کیوں نہیں ہوئے؟

ضمانت منظوری کے باوجود حمزہ شہباز رہا کیوں نہیں ہوئے؟

ڈسکہ انتخابات ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کوچیلنج کرنیکاحکومتی اقدام  مریم نواز نے کپتان کوکھری کھری سنادیں،بڑاالزام عائد

ڈسکہ انتخابات ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کوچیلنج کرنیکاحکومتی اقدام مریم نواز نے کپتان کوکھری کھری سنادیں،بڑاالزام عائد

ہمارا یہ کام کردو، پھر تم جانو اور عمران خان،اسٹیبلشمنٹ  نے اپوزیشن کو بڑی پیشکش کردی، تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

ہمارا یہ کام کردو، پھر تم جانو اور عمران خان،اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کو بڑی پیشکش کردی، تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا