03:06 pm
جموں اور انڈیا میں کشمیریوں پر حملے

جموں اور انڈیا میں کشمیریوں پر حملے

03:06 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
 مسلمانوں کے علاقوں میں انتظامیہ نے اعلان کیا کہ پاکستان نے مسلمانوں کیلئے گاڑیاں بھیجی ہیں، اس لئے لوگ سیالکوٹ جانے کیلئے پولیس لائنز میں جمع ہو جائیں۔ اس وقت پولیس لائنز جموں توی میں تھا، جہاں بسوں پر پاکستانی جھنڈے لگا دیئے گئے تھے۔شیخ عبداللہ اپنی خود نوشت آتشِ چنار میںلکھتے ہیں کہ 5؍ نومبر 1947ء کو جموں شہر میں ڈھنڈورہ پٹوایا گیا کہ مسلمان پولیس لائنز میںحاضر ہو جائیں تاکہ انہیں پاکستان بھیجا جاسکے۔ مسلمان بچوں اور عورتوں کے ساتھ حاضر ہوگئے۔انہیں چالیس ٹرکوں کے قافلے میں سوار کیا گیا۔ ہر ٹرک میں 60 افراد سوار تھے۔ انہیں سانبہ کے قریب ایک پہاڑی کے نزدیک اتارا گیا جہاں مشین گنیں نصب تھیں۔ جوان عورتوں کو الگ کرکے باقی تمام جوانوں، بچوں اور بوڑھوں کو آن کی آن میں گولیوں سے اڑا دیا گیا ۔یہی سلوک کئی قافلوں کے ساتھ ہوا۔ جس طرح پٹیالہ، فرید کوٹ اور کپور تھلہ میںمسلمانوں کا مکمل صفایا کیا گیااسی طرح جموں سے مسلمانوں کا صفایا کرنا مقصود تھا۔کشمیر پر 27اکتوبر1947کوبھارتی فوجی قبضے سے قبل ڈوگرہ فوجیوں نے 20؍ اکتوبر 47ء کو اکھنور میںمسلمانوں کو پاکستان لے جانے کیلئے جمع کیا او ر انہیں شہید کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اکھنور پل سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ 23؍ اکتوبر کو جموں کے آر ایس پورہ شاہراہ پر جمع 25 ہزار مسلمانوں پر ڈوگرہ اور پٹیالہ فورسز نے اندھا دھند گولیاں چلاکر شہید کیا۔ آر ایس پورہ تحصیل میںمسلمانوں کے 26دیہات تھے۔ آج وہاں چند گھر ہی نظر آتے ہیں۔ 
 
جموں شہر کی آبادی 1941ء کی مردم شماری کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار تھی جو 20 سال بعد 1961ء میں کم ہوکر صرف 50 ہزار رہ گئی۔مسلمانوں کی نسل کشی میںدہشت گرد تنظیموں آر ایس ایس، ہندو مہا سبھا اور دیگر فرقہ پرست جماعتیں پیش پیش رہیں۔ یہ وہی فرقہ پرست تھے جنہوںنے مارچ 1947ء میں لدھیانہ، جالندھر، امرتسر، کپورتھلہ، پٹیالہ،فرید کوٹ، پانی پت، کرنال، گوڑگائوں وغیرہ میں مسلمانوں پر حملے کئے اور یہی لوگ تھے جنہوں نے ریاست جموں و کشمیر میںداخل ہوکر مقامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کٹھوعہ، سانبہ، ادھمپور، بھمبر، نوشہرہ، ہیرانگر، رام گڑھ، آر ایس پورہ، ارنیہ، سچیت گڑھ، جموں ، بٹوت حتیٰ کہ مظفر آباد میں بھی ڈیرے ڈال دیئے تھے۔ مہاراجہ نے ان دہشت گردوں کی خوب آئو بھگت کی۔ اس نے وزیر اعظم پنڈت رام چند کاک کو برطرف کر کے مہارانی تارا دیوی کے قریبی رشتہ دار ٹھاکر جنک سنگھ کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ مہاراجہ نے اپریل 47ء کو راولاکوٹ کے دورہ کے موقع پر جب جنگ عظیم دوم کے ہزاروں مسلمان فوجیوں کا نظارہ کیا تو واپسی پر فوری طور پر غیر مسلم راجپوت اور ڈوگرہ فوج کے یونٹ قائم کئے۔ راجہ نے اپنے سسُرالی علاقہ کانگڑہ (رانی تارا دیوی کا علاقہ) اور اس کے قرب وجوار کلو، چمبہ،گڑھوال وغیرہ سے بھی ہندو فوجی بھرتی کئے۔ ان فوجیوں کو سرینگر اور جموں میںتعینات کیا گیا۔ مہارانی تارا دیوی نے بائونڈری کمیشن کے ممبر مہر چند مہاجن جیسے مسلم دشمن غیر ریاستی شخص کو کشمیر کا وزیراعظم بنایا۔ مہاجن کو لارڈ موئونٹ بیٹن اور کانگریس ہائی کمان تک رسائی حاصل تھی۔ مہاجن نے اپنی کتاب’’Back  Looking‘‘ میںتحریر کیا ہے کہ مہارانی نے ان کے ساتھ لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میںمشاورت کی۔ وہ اپنے علیل بیٹے کرن سنگھ کے علاج کے لئے لاہور آئی ہوئی تھی جو ایک بہانہ تھا۔ بعد ازاں مہر چند مہاجن کو چیف جسٹس آف انڈیا بنایا گیا۔
71سال گزرنے کے باوجود جموں کے ہندو دہشت گردوں کی ذہنیت نہیں بدلی ہے۔ امر ناتھ شرائن بورڈ کے خلاف تحریک کے ردعمل میں جموں کے انتہا پسند  ہندوئوں کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی۔ وادی کے مسلمانوں نے ہندوئوں کا ہمیشہ احترام کیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات کے باوجود وادی میںہندوئوں کے خلاف کوئی ایک بھی واقعہ رونما نہیںہوا۔ کشمیری مسلمان صرف اپنے حقوق کے لئے برسرپیکار ہیں جبکہ ہندو انتہا پسند جب بھی موقع ملے مسلمانوں کو تکالیف پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ آج بھی جموں ڈویژن میںبھارت کی جانب سے قائم  ویلج دیفنس کمیٹیوں میں شامل ہندو انتہا پسند چن چن کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔پنچ اور سرپنچ مقامی مسائل کی جانب متوجہ ہونے کے بجائے بھارتی فورسز کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ 1947ء کومسلمانوں کی نسل کشی اور انخلاء کے باوجود ضلع ڈوڈہ ، کشتواڑ ، پونچھ اور راجوری میں80فیصد مسلم آبادی ہے جبکہ ریاسی ، ادھمپور، کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت کے طو رپر موجو دہیں۔اگرکشمیر کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تو 1947کی طرح مسلمانوں کی ایک بار پھر نسل کشی کا خدشہ پیدا ہو گا۔آج جموں کو ایک الگ بھارتی ریاست اور لداخ کو دہلی کا زیر انتظام علاقہ بنانے کے لئے ہندو انتہا پسندسرگرم ہیں۔دوسری طرف جموں خطے سے ہجرت کرنے والے پاکستان میں کراچی سے کوہالہ تک لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔انہیں دوہری شہریت حاصل ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی میںمہاجرین جموں مقیم پاکستان کے لئے 6نشستیں مختص ہیں۔
پلوامہ حملے کے بعد جموں سمیت بھارت میں کشمیریوں پر حملے تیز ہو رہے ہیں۔ تعلیم، روزگار، کاروبار، ملازمت کے لئے بھارت کی ریاستوں میں موجود کشمیریوںکو ہوٹلوں، ہوسٹلوں، گیسٹ ہائسز، کرایہ کے گھروں سے نکالا دیا گیا ہے۔ کشمیریوں پر بغاوت اور غداری کے مقدمے قائم کئے جا رہے ہیں۔ انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی ادارے کشمیری طلباء و طالبات کو یونیورسٹیو،ں کالجوں اور ہوسٹلوں سے نکال رہے ہیں۔ سیکڑوں طلباء واپس وادی پہنچ گئے ہیں۔ لا تعداد کو ٹرینوں اور کوچوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جموں میں کرفیو کے باوجود کشمیریوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ یہ سب فورسز کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ فورسز کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کو بارود اور بندوق ، پیلٹ سے شہید اور معذور اندھا کرتے ہیں مگر جموں میں انہیں فورسز  نے مسلمانوں کی املاک کو تباہ کرنے والے  ہندومظاہرین پر ایک گولی، لاٹھی، ٹیئر گس شیل ، پیلٹ فائر نہیں کیا۔ آج پورا انڈیا اور اس کے شدت پسند نہتے کشمیریوں کو چن چن کر تشانہ بنا رہے ہیں اور کشمیریوں سے امن اور دوستی کی امید رکھتے ہیں۔ کشمیریوں کی حمایت کرنے پر پاکستان بھی ان کے نشانے پر ہے۔ امن پسند دنیا نے اس صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا تو جموں اور بھارت میں کشمیریوں اور مسلمانوں کی منظم نسل کشی تیز ہو سکتی ہے جس سے کشمیر میں تشدد تشویشناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔ 


 

تازہ ترین خبریں

سینیٹ الیکشن میں مداخلت ۔۔۔پیپلز پارٹی کا گورنر سندھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔۔ الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

سینیٹ الیکشن میں مداخلت ۔۔۔پیپلز پارٹی کا گورنر سندھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔۔ الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

 لگتا ہے 27 ایکشن پلان پر عمل آمد کے بعد فیٹیف پاکستان سے مزید ناجائز مطالبات کریگا، سینیٹر رحمان ملک

لگتا ہے 27 ایکشن پلان پر عمل آمد کے بعد فیٹیف پاکستان سے مزید ناجائز مطالبات کریگا، سینیٹر رحمان ملک

 لگتا ہے 27 ایکشن پلان پر عمل آمد کے بعد فیٹیف پاکستان سے مزید ناجائز مطالبات کریگا، سینیٹر رحمان ملک

لگتا ہے 27 ایکشن پلان پر عمل آمد کے بعد فیٹیف پاکستان سے مزید ناجائز مطالبات کریگا، سینیٹر رحمان ملک

حمزہ شہباز اپنے مفرور تایا جان سے کہیں کہ وطن واپس آجائیں۔شبلی فراز

حمزہ شہباز اپنے مفرور تایا جان سے کہیں کہ وطن واپس آجائیں۔شبلی فراز

سینیٹ انتخابات کا معاملہ ۔۔۔پنجاب کے سینٹ انتخابات میں نون لیگ نے حکومت کے ساتھ مثبت بات چیت کی۔ فواد چوہدری

سینیٹ انتخابات کا معاملہ ۔۔۔پنجاب کے سینٹ انتخابات میں نون لیگ نے حکومت کے ساتھ مثبت بات چیت کی۔ فواد چوہدری

عوامی نیشنل پارٹی کا اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی کی شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلا ن،تحقیقات کا مطالبہ

عوامی نیشنل پارٹی کا اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی کی شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلا ن،تحقیقات کا مطالبہ

پی ایس ایل کا دسواں میچ ۔۔۔ پشاورزلمی کااسلام یونائیٹڈکیخلاف ٹاس جیت کرفیلڈنگ کافیصلہ

پی ایس ایل کا دسواں میچ ۔۔۔ پشاورزلمی کااسلام یونائیٹڈکیخلاف ٹاس جیت کرفیلڈنگ کافیصلہ

دلہن ٹریکٹر سے کود کر تھانے پہنچ گئی ۔۔ بھاراتیوں کا تھانے کے باہر احتجاج

دلہن ٹریکٹر سے کود کر تھانے پہنچ گئی ۔۔ بھاراتیوں کا تھانے کے باہر احتجاج

پاکستان سپر لیگ کے نویں میچ میں کراچی کنگز نے ملتان سلطانزکو7 وکٹوں سے شکست دے دی

پاکستان سپر لیگ کے نویں میچ میں کراچی کنگز نے ملتان سلطانزکو7 وکٹوں سے شکست دے دی

جیلیں مسلم لیگ(ن)کےلیےنئی بات نہیں،نوازشریف نےعمران خان کےانتقام کاسامناکیا۔ حمزہ شہباز

جیلیں مسلم لیگ(ن)کےلیےنئی بات نہیں،نوازشریف نےعمران خان کےانتقام کاسامناکیا۔ حمزہ شہباز

لاہور میں جرائم کے خاتمے کیلئے ایک اور زبردست قدم ۔۔ پیٹرولنگ کے لیے ابابیل فورس تشکیل دے دی۔

لاہور میں جرائم کے خاتمے کیلئے ایک اور زبردست قدم ۔۔ پیٹرولنگ کے لیے ابابیل فورس تشکیل دے دی۔

کورونا  ایس او پیز ۔۔۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بین الاقوامی مسافروں کی پاکستان آمد سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

کورونا ایس او پیز ۔۔۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بین الاقوامی مسافروں کی پاکستان آمد سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

سانپ کو کیسے مارا ؟  DSP آئے تو سانپ زندہ تھا۔۔۔ اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے پورا واقعہ بیان کردیا

سانپ کو کیسے مارا ؟ DSP آئے تو سانپ زندہ تھا۔۔۔ اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے پورا واقعہ بیان کردیا

امجد آفریدی، شمیم آفریدی پیپلز پارٹی میں شامل

امجد آفریدی، شمیم آفریدی پیپلز پارٹی میں شامل