03:10 pm
پاک سعودی تعلقات نئی بلندیوں پر

پاک سعودی تعلقات نئی بلندیوں پر

03:10 pm

 اخبارات میں صفحہ اول پر وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بغل گیر ہوتے جو تصویر چھپی ہے وہ پاک سعودی تعلقات کی گرمجوشی بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت کے مابین دوستی کا رشتہ ہمیشہ رہا ہے مگر عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی یہ دوستی کا رشتہ ایک نئے عہد میں داخل ہوگیا ہے۔ بلاشبہ اس بہتری کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی غلط سمت کو درست کیا اور اس راستے کا انتخاب کیا جو پاکستان کے بہترین مفاد میںہے۔ نواز شریف عہد کی خرابیوں میں سے ایک خرابی سعودی عرب کے ساتھ پیدا ہونے والی سرد مہری تھی۔سعودی عرب نے نواز شریف کو بچانے کے لئے نہ صرف انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا بلکہ انہیں عزت و احترام سے ایک شہزادے کی طرح سرور محل میں رکھا۔ نواز شریف کو کاروبار کی اجازت دی گئی اور ایک مناسب وقت پر ان کی پاکستان واپسی کے انتظامات بھی کئے گئے۔ سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے جنرل پرویز مشرف  پر واضح کیا کہ بے نظير بھٹو کی پاکستان واپسی کی صورت میں نواز شریف ہر صورت پاکستان پہنچیں گے۔
نواز شریف کو شاہ عبداللہ نے اپنے خصوصی طیارے میں پاکستان روانہ کیا۔ یہ ان کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کے لئے واضح پیغام تھا کہ نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ان کی خواہش کیا ہے۔ نواز شریف نے  لیکن اس مہربانی کا حق ادا کرنے کی بجائے نادان دوستوں کے کہنے پر سعودی عرب سے تعلقات میں بگاڑ پیدا کیا۔ 
بعض لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ نواز شریف نے یمن میں فوج نہ بھیج کر پاکستان کے مفادات کا تحفظ  کیا۔ پاکستان کے مفادات کا تقاضا یہ نہ تھا جو انہوں نے کیا‘ پاکستان کے مفادات کا تقاضا تھا کہ سعودی عرب جیسا دیرینہ دوست بھی ناراض نہ ہوتا اور پاکستان بھی کسی تنازعے میں نہ الجھتا۔ سفارت کاری ایک نازک کام ہے جیسے پل صراط پر چلنا۔ پارلیمنٹ میں معاملہ لا کر پاکستانی مفادات کا نقصان کیا گیا اور  ہمیشہ مشکل میں مدد کرنے والے دوست ملک کی تذلیل کا سامان کیا گیا۔ بعد میں پیش آنے والے واقعات پر نگاہ دوڑائی جائے تو یوں لگتا ہے کہ ایسا حادثاتی طور پر غلط اقدام نہ تھا بلکہ جان بوجھ کر ایسا کیا گیا تھا۔ بعدازاں سعودی عرب کے قومی دن کے حوالے سے جو تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی اس میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف غیر حاضر تھے۔ ان کی غیر حاضری کو بری طرح محسوس کیا گیا۔ گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے تقریب میں موجود چیئرمین مسلم لیگ (ن) راجہ محمد ظفر الحق کو جب بتایا کہ وہ اس تقریب میں شرکت کے لئے خاص طور پر رک گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ  آپ نے اچھا کیا کیونکہ یہاں وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہبازشریف کی غیر موجودگی کو محسوس کیا جارہا ہے ۔ نواز شریف اگر ڈیمج کنٹرول کرنا چاہتے تو یہ ایک اچھا موقع تھا مگر وہ کسی اور راہ پر چل رہے تھے۔ انکی  بے اعتنائی نے پاکستان کو سعودی عرب سے دور کر دیا۔ یہ خارجہ پالیسی کی صریحاً ناکامی کہی جاسکتی تھی۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی ناراضگی نواز شریف عہد کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت تھی۔ آج بحمداللہ پاکستان اس مرحلے سے نکل آیا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب تعلقات میں بہتری لانے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے  اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنرل راحیل شریف اور سعودی سفیر نواف المالکی کی کوششوں کا بھی اس میں کافی عمل دخل ہے ورنہ ہمارے تعلقات میں گرمجوشی پیدا نہ ہوتی۔ تعلقات میں اس گرمجوشی کا پہلا مثبت اثر فوری طور پر دیکھنے میں آیا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم کی درخواست پر سعودی عرب میں قید اکیس سوسات  قیدیوں کی فوری رہائی کے احکامات جاری کئے ہیں۔ وزیراعظم کے دئیے گئے عشائیے میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان جو ماحول دیکھنے میں آیا۔ اس نے امید پیدا کی ہے کہ سیاسی و معاشی میدانوں میں پاکستان اور سعودی عرب تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے برادر ملک کے طور پر پہلے ہی چھ ارب ڈالر کا امدادی پیکج دیا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کا ادائیگی کا توازن بہتر ہوا اور معیشت کو سنبھلنے کا موقع ملا۔ اب 2.8ٹریلین روپے کی خطیر انوسٹمنٹ کے نتیجے میں  پاکستانی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومے گا۔
عشائیے میں وزیراعظم عمران خان نے ٹورازم کو فروغ دینے کی خواہش کا شدت سے اظہار کیا ہے۔ وہ پہلے وزیراعظم ہیں جن کی ترجیح میں سیاحت کا اہم شعبہ آیا ہے اور وہ اس کا خاص ذکر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ وہ اس ضمن میں خاصے فکر مند ہیں اور سیاحت کی ٹاسک فورس قائم کر چکے ہیں۔ پاکستان کا پوٹینشل دو حوالوں سے بہت زیادہ ہے۔ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے پاکستان راہداریوں کی مد میں اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے جبکہ خوبصورت فلک شگاف پہاڑوں اور لہلہاتے میدانوں کا ملک ہونے کے ناطے یہاں ٹورازم انڈسٹری اربوں ڈآلر پاکستان کو دے سکتی ہے ۔ پاکستان کو سیکورٹی سٹیٹ قیادت کو ہمیشہ یہ بات اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے اور کسی صورت بھی اس پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی بنیاد پر ہر اس ملک کی مجبوری ہے جو اپنی معاشی ترقی کا خواہاں ہے۔ سعودی عرب نے گوادر میں آئل ریفائنری لگانے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کی ایک وجہ عوامی جمہوریہ چین کی  انرجی ڈیمانڈ ہے۔ چین دنیا کا دوسرا بڑا انرجی کنزیومر ہے۔ امریکہ اور جاپان کے بعد چین تیسرا بڑا آئل امپورٹر ہے۔ سعودی عرب اور ایران دونوں چین کی آئل امپورٹ میں حصہ دار ہیں۔ سعودی عرب ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں بھی شامل ہے اور چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور میں بھی اب اس کی شمولیت ہوچکیہے۔ معاشی ضرورتیں اقوام کو ایک دوسرے کے قریب کرتی ہیں۔ سعودی عرب سے ہمارے تعلقات ان ضرورتوں سے اگرچہ ہٹ ہوچکی ہے۔معاشی ضرورتیں اقوام کو ایک دوسرے کے قریب کرتی ہیں۔ سعودی عرب سے ہمارے تعلقات ان ضرورتوں سے اگرچہ ہٹ کر ہیں تاہم ان معاشی رشتوں کی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ سعودی ولی عہد اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے مستقبل میں مزید انوسٹمنٹ کا عندیہ دے  رہے ہیں جوکہ نہایت خوش آئند ہے۔ سعودی عرب پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور حفاظت کو اتنا ہی مقدم سمجھتا  ہے جتنا کہ پاکستان کی سلامتی کا تقاضا ہے۔دونوں ممالک کے مابین محبت  اور دوستی کا جو لازوال رشتہ قائم ہے وہ سعودی ولی عہد کے دورے سے یقینی طور پر اور مضبوط ہوگا۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر بعض علاقائی ممالک نے پاکستان مخالف منفی کردار ادا کیاہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے اور یہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی پر خوش نہیں ہیں۔ پاکستان کو کسی تنازعے میں الجھے بغیر آگے بڑھنا ہے۔ یہی ہماری کامیاب سفارت کاری ہوگی۔ قوم وزیراعظم عمران خان سے اس کامیاب سفارت کاری کی امید لگا سکتی ہے اور وہ یقینا اپنی قوم کو اس حوالے سے مایوس نہیں کرینگے۔

 

تازہ ترین خبریں

پاکستان ڈیموکریٹک اجلاس ۔۔۔۔۔ رہنماوں کے درمیان تلخ کلامی ۔۔۔ اختلافات سامنے آگئے 

پاکستان ڈیموکریٹک اجلاس ۔۔۔۔۔ رہنماوں کے درمیان تلخ کلامی ۔۔۔ اختلافات سامنے آگئے 

26 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا ۔۔ ملک سے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے قوم اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا فضل الرحمان 

26 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا ۔۔ ملک سے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے قوم اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا فضل الرحمان 

معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس

 ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس پہلی بار یوم پاکستان پریڈ میں شرکت کرے گی

ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس پہلی بار یوم پاکستان پریڈ میں شرکت کرے گی

پی ڈی ایم اجلاس۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کون ہونگے؟ اہم خبر سامنے آگئی

پی ڈی ایم اجلاس۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کون ہونگے؟ اہم خبر سامنے آگئی

وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس۔۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی حکمت عملی پر بھی مشاورت

وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس۔۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی حکمت عملی پر بھی مشاورت

 لانگ مارچ سے قبل ہوم ورک ضروری ہے، ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔یوسف رضا گیلانی

لانگ مارچ سے قبل ہوم ورک ضروری ہے، ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔یوسف رضا گیلانی

پاک بحریہ کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران دوطرفہ بحری مشقوں کا انعقاد کیاگیا۔

پاک بحریہ کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران دوطرفہ بحری مشقوں کا انعقاد کیاگیا۔

شہر قائد میں رشوت کے عوض ڈرائیونگ لائنسز بنانے کا انکشاف ۔۔۔ اہلکار معطل

شہر قائد میں رشوت کے عوض ڈرائیونگ لائنسز بنانے کا انکشاف ۔۔۔ اہلکار معطل

بٹگرام میں تین ماہ سے مسلسل گونگی بہری لڑکی سےبد فعلی کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

بٹگرام میں تین ماہ سے مسلسل گونگی بہری لڑکی سےبد فعلی کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے بارے بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کابلاول بھٹو زرداری کو چیلنج

بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے بارے بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کابلاول بھٹو زرداری کو چیلنج

سعودی عرب میں پاک میڈیا جنرنلسٹس فورم کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی ویبنار کا انعقاد

سعودی عرب میں پاک میڈیا جنرنلسٹس فورم کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی ویبنار کا انعقاد