03:12 pm
شریعت کا نفاذ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں

شریعت کا نفاذ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں

03:12 pm

ہمارے تمام ترین مسائل کا اصل سبب اللہ کے دین سے بیوفائی ہے ۔یہ وہ بات ہے جس کااظہار مسلسل اپنی تحریروں میںکرتا رہتا ہوں۔اس جرم کی پاداش میں ہم اللہ کے عذاب میں گھرچکے ہیں۔یہ عذاب بھوک اور خوف کی صورتوں میں ہم پر مسلط ہے۔اللہ کی رحمت ہم سے روٹھ چکی ہے۔اس لئے کہ ہم زمین پر اللہ کی نمائندہ امت ہیں،ہمیں فریضۂ شہادت علی الناس اداکرنا تھا ، مگر ہم نے یہ فریضہ ادا نہیں کیا۔اندریں حالات ہمارے لئے ذلت و رسوائی اور بھوک اور خوف کے عذابوں سے نجات کی صورت یہ ہے کہ ہم اہل پاکستان سچے دل سے اجتماعی توبہ کریں ۔سچی توبہ کی علامت یہ ہوگی کہ اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور پھر کی اصلاح کریں یعنی شریعت کے منافی اعمال کو ترک کرکے اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں دے دیں۔اس کے لئے پہلا کام ذاتی محاسبہ اور خود احتسابی چاہئے۔ چاہئے کہ ہر شخص یہ جائزہ لے کہ کہاں کہاںوہ شریعت سے روگردانی کررہا ہے اور پھر اس عمل سے تائب ہوجائے۔یہ انفرادی حوالے سے ذمہ داری ہے ۔ اجتماعی حوالے سے ذمہ داری یہ ہے کہ مسلمانان پاکستان دین و شریعت کے غلبے اور احیاء کے لئے پورے شعور و ادراک کے ساتھ کمر بستہ ہوجائیں۔یہی اللہ سے وفاداری کا راستہ ہے جس پر چل کر اللہ کی مدد حاصل ہوسکتی اور اس کی رحمت ہمارے شامل حال ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں واضح الفاظ میں سورہ محمد(ﷺ) آیت 7میں بتادیا ہے کہ اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔غلبۂ اسلام نبوی مشن ہے جس کے لئے آپﷺ کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔اس مشن کو آگے بڑھانا اب اس امت کی ذمہ داری ہے۔
 
اگر ہم اس راہ میں اپنی جان ومال اور اوقات لگائیں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد فرمائے گا۔جدوجہد منظم اور مربوط انداز میں ہونی چاہئے ۔اس مقدس مشن میں نہایت اہم کاموں میں یہ ہے کہ قرآن کے ذریعے جہاد کیا جائے۔افراد کے قلوب و اذہان میں ایمان کی جوت جگائی جائے۔انہیں باطل افکار و نظریات کے اندھیروں سے نکالا جائے۔قرآن حکیم میں اس کو جہاد کبیر قرار دیا گیا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں یہی جہاد کیا۔
سوال یہ ہے کہ غلبۂ دین کی جدوجہد کیسے کی جائے؟اس سلسلے میں آپﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے لوگوں کودعوت دی جائے،پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں انہیں جماعت کی شکل میں منظم کیا جائے ،ان کا تزکیہ و تربیت کی جائے۔انہیں راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات اور صعوبتیں جھیلنے کا خوگر بنایا جائے۔جب ایسے لوگ معتدبہ تعداد میں میسر آجائیں جو اپنی ذات پر اور اپنے گھر میں اسلام نافذ کرچکے ہوں تو پھر یہ وہ وقت ہوگا جب جماعت اقدام اور مسلح تصادم کے مراحل میں داخل ہوجائے گا۔
اسلامی انقلاب کے لئے سیرت سے ماخوذ اس ترتیب کو ملحوظ رکھنا از حد ضروری ہے۔اگر انقلابی جماعت کی تیار ی ، افراد کی سیرت و کردار کی تعمیر اور انہیں ڈسپلن کا خوگر بنائے بغیر اقدام کیا گیا تو یہ انقلاب نبوی کے منہج کے خلاف ہوگا اور اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ہمیں آپﷺ کی حیات طیبہ سے مکی دور پر غور کرنا چاہئے۔خانۂ کعبہ میں 360بت دھرے تھے۔نبی کریم ﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام ؓ  کیا یہ نہیں چاہتے ہوں گے کہ ان کو توڑ کر خانۂ خدا کو شرک کی نجاست سے پاک کردیا جائے؟مگر وقت سے پہلے یہ اقدام نہیں کیا گیا۔پھر یہ کہ مکی دور میں آپﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرامؓ  کو طرح طرح کی ایذائیں دی گئی مگر انہیں برداشت کیا گیا۔کسی نے بھی جوابی اقدام نہیں کیا۔حکم یہ تھا کہ اپنے ہاتھ بندھے رکھو۔اس لئے کہ جماعت ابھی تیاری کے مرحلے میں تھی۔ابھی مطلوبہ طاقت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ابھی جہاد کی تربیت دی جارہی تھی۔ابھی رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام ؓ  کو سمع و طاعت کا خوگر بنارہے تھے۔انہیں حق پر استقامت اور ابتلاء و آزمائش پر صبر کا سبق دے رہے تھے۔
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی   
اپنے سینے میں اسے اور ذار تھام ابھی
جب جماعت تیار ہوگئی تو ہجرت مدینہ کے بعد جاکر اقدام اور مسلح تصادم کا آغاز ہوا اور بدر و احد کے معرکے پیش آئے۔لوگ بالعموم سیرت کا آغاز غزوات سے کرتے ہیں او ر اس سے پہلے مکی دور کی تیاری کو نظر انداز کردیتے ہیں جس کی وجہ سے پوری حقیقت نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے۔اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا ۔   
خدا کے کام دیکھو بعد کیا ہے اور کیا پہلے    
نظر آتا ہے مجھ کو بدر سے غار حرا پہلے
یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ موجودہ دور میں اسلامی انقلاب کی جدوجہد میں منہج نبوی کے دیگر مراحل کی طرح مسلح تصادم کو بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ نے فاسق و فاجر مسلمان حکمراں کے خلاف خروج (بغاوت ) کی اجاز ت دی ہے ۔اگر چہ اس کی کڑی شرائط ہیں۔ گویا مسلح جدوجہد کا راستہ بھی ممنوع قرار نہیں دیا جاسکتا ۔البتہ موجودہ دور میں تمدنی ارتقاء کے نتیجے میں جو تبدیلی آئی ہے اس نے ہمیں مسلح تصادم کا ایک متبادل فراہم کردیا ہے جو کہ منظم عوامی احتجاج ہے۔یہ راستہ قدرے محفوظ بھی ہے اور تمدنی ارتقاء کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے زیادہ موافقات بھی رکھتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ آخری مرحلے کے طور پر اس کو اختیار کریںیعنی جب اسلامی انقلابی جماعت انقلاب کے دیگر مراحل طے کرلے تو مسلح تصادم کے مرحلے میں مسلح تصادم کی بجائے ایک منظم احتجاجی تحریک برپا کرے اور دھرنا دے۔
ہمارے ملک نے آئینی طور پر قرارداد مقاصد کی صورت میں کلمہ پڑھ رکھا ہے۔یہ بات ابتدا ہی سے تسلیم کی گئی ہے کہ حاکمیت اعلیٰ کی سزاوار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور یہ کہ ملک میں قرآن وسنت سے متصادم کسی بھی قسم کی قانون سازی نہیں کی جاسکتی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد ؒ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا آئین منافقت کا پلند ہ ہے۔اس میں شامل بعض شقوں نے اسلامی شقوں کو غیر موثر بنارکھا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے جج صاحبان بھی ان شقوں کو اہمیت دیتے چلے آئے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان شقوں کے خاتمے اور شریعت کے عملی نفاذ کے لئے ایک بھرپور عوامی تحریک چلائی جائے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں ہی نے نہیں دینی جماعتوں نے بھی آج تک بحالی جمہوریت اور دیگر ایشوز پر ہی تحریکیں چلائی ہیں۔نفاذ شریعت کے لئے کبھی تحریک نہیں چلائی گئی۔یہ با ت خوش آئند ہے کہ ملک کے 131 جیدعلماء کرام اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمارے تمام تر بحران کا اصل سبب نفاذ اسلام سے پہلو تہی ہے۔لہٰذا مسلمان اپنا قبلہ درست کریں اور نفاذ اسلام کی جانب پیشقدمی کریں۔لیکن علماء کرام کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ نفاذ اسلام کے طریقۂ کار کے بارے میں بھی قوم کو رہنمائی فراہم کریں۔  کاش دینی جماعتیں اس بات کا ادراک کرلیں کہ انتخابی سیاسست سعی لاحاصل ہے۔ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔وہ الیکشن اورکرسی کی سیاست کو خیرباد کہہ کر منکرات کے خاتمے اور شریعت کی بالادستی کے لئے مسنون انقلابی منہج پر اپنی جدوجہد شروع کریں اور ایک ملک گیر، منظم اورپر امن عوامی احتجاجی تحریک برپا کریں۔


 

تازہ ترین خبریں

پاکستان ڈیموکریٹک اجلاس ۔۔۔۔۔ رہنماوں کے درمیان تلخ کلامی ۔۔۔ اختلافات سامنے آگئے 

پاکستان ڈیموکریٹک اجلاس ۔۔۔۔۔ رہنماوں کے درمیان تلخ کلامی ۔۔۔ اختلافات سامنے آگئے 

26 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا ۔۔ ملک سے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے قوم اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا فضل الرحمان 

26 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا ۔۔ ملک سے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے قوم اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا فضل الرحمان 

معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس

 ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس پہلی بار یوم پاکستان پریڈ میں شرکت کرے گی

ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس پہلی بار یوم پاکستان پریڈ میں شرکت کرے گی

پی ڈی ایم اجلاس۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کون ہونگے؟ اہم خبر سامنے آگئی

پی ڈی ایم اجلاس۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کون ہونگے؟ اہم خبر سامنے آگئی

وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس۔۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی حکمت عملی پر بھی مشاورت

وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس۔۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی حکمت عملی پر بھی مشاورت

 لانگ مارچ سے قبل ہوم ورک ضروری ہے، ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔یوسف رضا گیلانی

لانگ مارچ سے قبل ہوم ورک ضروری ہے، ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔یوسف رضا گیلانی

پاک بحریہ کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران دوطرفہ بحری مشقوں کا انعقاد کیاگیا۔

پاک بحریہ کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران دوطرفہ بحری مشقوں کا انعقاد کیاگیا۔

شہر قائد میں رشوت کے عوض ڈرائیونگ لائنسز بنانے کا انکشاف ۔۔۔ اہلکار معطل

شہر قائد میں رشوت کے عوض ڈرائیونگ لائنسز بنانے کا انکشاف ۔۔۔ اہلکار معطل

بٹگرام میں تین ماہ سے مسلسل گونگی بہری لڑکی سےبد فعلی کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

بٹگرام میں تین ماہ سے مسلسل گونگی بہری لڑکی سےبد فعلی کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے بارے بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کابلاول بھٹو زرداری کو چیلنج

بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے بارے بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کابلاول بھٹو زرداری کو چیلنج

سعودی عرب میں پاک میڈیا جنرنلسٹس فورم کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی ویبنار کا انعقاد

سعودی عرب میں پاک میڈیا جنرنلسٹس فورم کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی ویبنار کا انعقاد