03:33 pm
پاکستان کا مستقبل

پاکستان کا مستقبل

03:33 pm

عالمی شہرت یافتہ امریکی جریدے ’’نیوز ویک‘‘ نے 1997ء میں پاکستان اور بھارت کی آزادی کے پچاس برس مکمل ہونے پر ایک خصوصی رپورٹ شائع کی تھی جس کے بعض اقتباسات ایک موقر اخبار نے بھی 29جولائی ،1997ء کی اشاعت میں شامل کئے تھے۔’’نیوز ویک‘‘ کے نامہ نگار ٹونی کلفٹن نے اپنے اداریئے میں کہا تھا کہ ’’پاکستان کے اخبارات فرقہ وارانہ قتل، تشدد اور دیگر جرائم کی سرخیوں سے بھرے ہوتے ہیں لیکن ملک کے عوام نے اپنے ملک کی تشکیل کے دن کو تاحال فراموش نہیں کیا۔پاکستانی عوام کے پاس نہ تو دولت کے ڈھیر ہیں اور نہ وہ کسی بڑے جشن منانے کے موڈ میں ہیں ،تاہم 14اگست کو پاکستان کے طول و عرض میں دعائیں مانگی جائیں گی کہ آئندہ پچاس برس قتل و غارت گری ، تشدد اور افلاس کے بغیر گزریں۔‘‘پاکستان کی گزشہ پچاس سالہ تاریخ کے حوالے سے ملک کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے نامہ نگار نے لکھا تھا کہ ’’پاکستان اپنے قیام سے اب تک تقریباً نصف سے زاید عرصہ فوجی ڈکٹیٹر کے زیر تسلط رہا، یہاں کی آبادی کی اکثریت تعلیم سے بے بہرہ ہے، پاکستان کو دنیا کے پانچ کرپٹ ترین ممالک میں شمار کیا گیاہے۔نامہ نگار نے قائد اعظم کے سوانح نگار رضوان احمدکا یہ قول نقل کرنے کے بعدکہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ قائد اعظم جو چاہتے تھے  وہ پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتا ‘‘ اپنی رپورٹ کے آخرمیں لکھا تھا کہ ’’ایک بات حتمی ہے کہ اگر پاکستان کے عوام قائد اعظم کے نظریات کی رو ح دوبارہ حاصل نہیں کرتے تو آئند ہ پچاس برس میں بھی ان کی حالت کے سدھرنے کا کوئی امکان نہیں۔‘‘
 
پاکستان کے حالات پر مغربی جرائد کا تبصرہ معمول کی بات ہے بالخصوص پاکستان اپنی تاریخ کے کسی اہم موڑ سے گزرتا یا سنگ میل عبور کرتا تو اس کے حوالے سے خصوصی رپورٹیں شائع کی جاتی ہیں۔پاکستان کی عمر کے چالیس سال مکمل ہونے پر ٹائمز آف لندن نے پاکستان اور بھارت کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی اورتقسیم کے وقت کے حالات کا تقابل کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس وقت پاکستان کا مستقبل روشن اور بھارت کا مستقبل تاریک نظر آتا تھالیکن چالیس سال گزرنے کے بعد آج حالات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں۔اس رپورٹ میں ہماری چشم کشائی اور ہمارے لئے شرم ساری کا بہت کچھ سامان تھا اور نیوز ویک میں شائع ہونے والی مذکورہ بالا رپورٹ میں بھی ہمارے لئے دعوت فکر موجود تھا۔
پاکستان میں گولڈن جوبلی کے حوالے سے اہل قلم اور دانشور حضرات ملک کے پچاس سال کا تجزیہ کرنے کے ساتھ اس کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں کررہے تھے۔اس بارے میں ہمارا ایک مستقل موقف ہے جس کا اظہار گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے ۔بہرحال اس موقع پر تنظیم اسلامی کے موقف اور نقطۂ نظر کا خلاصہ قارئین کے گوش گزار کردیاگیا تھا جو مندرجہ ذیل چھ نکات پر مشتمل تھا۔ضرورت ہے کہ اس کو قارئین کے سامنے دوبارہ پیش کیا جائے تاکہ وہ اس کی روشنی میں تجزیہ کرسکیں کہ آج بیس سال کا مزید عرصہ گزرجانے کے بعد بھی ہماری قومی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی تو اس کی وجوہ کیا ہیں:
(1)تحریک پاکستان کے اصل محرک کی تعیین میں اگرچہ اختلاف ممکن ہے کہ کیا ہندو کا طرز عمل اس کی بنیاد بنا یعنی مسلمان جو اقلیت میں تھے ،انہیں ایک بڑی قوم ہندو سے اندیشہ تھا کہ وہ معاشی میدان میں ان کا زبردست استحصال کرے گا یا ہمیں اپنے اسلامی تشخص کے بارے میںہندو سے خدشات لاحق تھے یا یہ کہ تحریک پاکستان کا اصل محرک ایک خالص دینی جذبہ تھا کہ ہم ایک مثالی اسلامی ریاست بنانے کے خواہاں تھے ؟وغیرہ۔ تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ اولاً پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ، ثانیاً یہ کہ وہ قوم جسے بڑی قوم یعنی ہندو سے خطرات لاحق تھے ، اس کی قومیت کی بنیاد سوائے اسلام کے اور کوئی نہ تھی اور ثالثاًیہ کہ علامہ اقبال کے افکار اور قائد اعظم کے لاتعداد فرمودات کی روشنی میں بلاخوف و تردید یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے نام سے محض ایک علیحدہ خطے کا حصول مسلمانان ہند کی منزل نہیں تھا بلکہ ایک مثالی اسلامی ریاست کا قیام ہمارا ہدف تھا جس میں اسلام کے اصول حریت ، اخوت اور مساوات اپنی اعلیٰ ترین شکل میں دیکھے جاسکیں۔یہ گویا مسلمانان ہند کا اللہ تعالیٰ سے اجتماعی عہد تھا کہ ہمیں اگر ایک علیحدہ خطۂ زمین مل گیا تو ہم وہاں اسلام کے عدل اجتماعی کو قائم کرکے دکھائیں گے۔

تازہ ترین خبریں

 بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاریاں شروع

بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاریاں شروع

برطانیہ نے الطاف حسین جیسے آدمی کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا

برطانیہ نے الطاف حسین جیسے آدمی کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا

وزیرصحت سندھ نے تعلیمی ادارے کھولنےکی مخالفت کردی

وزیرصحت سندھ نے تعلیمی ادارے کھولنےکی مخالفت کردی

پاکستان پہلےسےکہہ رہاتھاپلوامہ حملہ ڈرامہ ہےبھارت نےگزشتہ 20سال سےدہشتگردی کاڈھونگ رچایاتھا،۔ معید یوسف 

پاکستان پہلےسےکہہ رہاتھاپلوامہ حملہ ڈرامہ ہےبھارت نےگزشتہ 20سال سےدہشتگردی کاڈھونگ رچایاتھا،۔ معید یوسف 

 تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے نام کا فیصلہ کر لیا

تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے نام کا فیصلہ کر لیا

افغانستان میں موجود امریکی فوج 20سالوں کی کم ترین سطح پر آگئی

افغانستان میں موجود امریکی فوج 20سالوں کی کم ترین سطح پر آگئی

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں معاملات طے پا گئے

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں معاملات طے پا گئے

سندھ میں چار ہزار افسران اور ملازمین کے خلاف کارروئی شروع

سندھ میں چار ہزار افسران اور ملازمین کے خلاف کارروئی شروع

حکومت نے نعیم بخاری کو چئیرمین پی ٹی وی کےعہدے سے ہٹا دیا

حکومت نے نعیم بخاری کو چئیرمین پی ٹی وی کےعہدے سے ہٹا دیا

کوئٹہ میں دھماکہ، دو افراد نشانہ بن گئے

کوئٹہ میں دھماکہ، دو افراد نشانہ بن گئے

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اس لیے نہیں ہو پا رہا کیونکہ کٹہرے میں کھڑے شخص کا نام نواز شریف نہیں ہے بلکہ عمران خان ہے۔ نواز شریف 

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اس لیے نہیں ہو پا رہا کیونکہ کٹہرے میں کھڑے شخص کا نام نواز شریف نہیں ہے بلکہ عمران خان ہے۔ نواز شریف 

   انقلابی شاعر کا نالائق بیٹا شبلی فراز شاہی گداگر بن چکا ہے،  شازیہ مری  

   انقلابی شاعر کا نالائق بیٹا شبلی فراز شاہی گداگر بن چکا ہے،  شازیہ مری  

دیر سے آنے پر گاہک کا ڈلیوری بوائے سےکھانا لینے پر انکار

دیر سے آنے پر گاہک کا ڈلیوری بوائے سےکھانا لینے پر انکار

ملائیشیا میں پی آئی اے طیارےکی قبضےکامعاملہ ۔۔ لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے

ملائیشیا میں پی آئی اے طیارےکی قبضےکامعاملہ ۔۔ لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے