03:36 pm
 تنازعہ کشمیر

تنازعہ کشمیر

03:36 pm

 کشمیر جس کو سرزمین بہشت یا ایشیاء کا سوئٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے جنوبی ایشیاء کے درمیان واقع ہے ۔پاکستان چین انڈیا اور افغانستان سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں ۔کشمیر کی آبادی تقریباً دوکروڑ نفوس پر مشتمل ہے اور اس کا رقبہ پچاس ہزار مربع میل ہے۔ اس خطے کی اکثریت آریائی نژاد ہے جبکہ بلتستان اور لداخ کے علاقوں میں بسنے والے کچھ لوگ مغل نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں اسی فیصد مسلمان آباد ہیں۔ کشمیر اور پاکستان کی کئی سو میل سرحد مشترکہ ہے اور اس کے تمام دریا پاکستان میں اترتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر مختلف ادوار میں مختلف بادشاہوں کے زیر تسلط خود مختار اور نیم خود مختارحکومتوں میں منقسم رہی ۔کبھی اس ارض جنت پر مغلوں کی فرماں روائی کا پرچم لہراتا رہا تو کبھی افغان بادشاہوں کی سطوت اس پر سایہ فگن رہی ۔1846ء میں انگریز سامراج نے مہا راجہ گلاب سنگھ سے 75لاکھ روپے وصول کر کے کشمیر کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں تھما دی جس نے کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ۔
 
کشمیر کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا ؟پروفیسر لارنس دی رنگ ماہر تاریخ و تحقیق اور پیٹرک فرنچ نے اپنی تحریروں میں صاف الفاظ میں واضع کیا ہے کہ کشمیر کے جھگڑے کی ذمہ داری برطانیہ پر ہے۔ اپنی کتاب ’’ بیسویں صدی میں پاکستان‘‘ میں انہوں نے لکھا کہ تقسیم ہند کے وقت پنجاب اور بنگال کے صوبے تھے لیکن آخری وقت 17اگست1947ء کو گورداسپور اور بٹالہ کے مسلمان اکثریت کے علاقے بھارت میں شامل کر دیے گئے۔ اس کا مقصد سکھوں کو سہارا دینا نہ تھا بلکہ بھارت کا جموں اور کشمیر سے بذریعہ سڑک رابطہ بنانا مقصود تھا حالانکہ انبالہ ،نوک دار ،جالندھر اور تحصیل فیروز والہ میں مسلمانوں کی آبادی اکثریت میں تھی۔ اس کے برعکس ہندو اکثریت والی تحصیل مغربی پنجاب میں شامل نہیں کی گئی یہ سب کچھ لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائس رائے آف انڈیا کی سٹریٹیجک پالیسی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کو کمزور کیا جائے ۔
 جب بھارت کو کشمیر تک جانے کیلئے پٹھان کوٹ تحصیل کا راستہ مل گیا تو مہاراجہ کے ساتھ سازش کے ذریعے لکھوا لیا کہ وہ ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ انڈین فوج 27اکتوبر1947ء کو سرینگر پہنچ گئی کشمیری عوام اس جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کشمیر کے 1/3حصے پر شدید جنگ کے بعد قبضہ کر لیا جس کو آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یکم نومبر1947ء کو ہندوستانی تجویز پر ہی بذریعہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو استصواب کے ذریعے حل کرنے کا سمجھوتہ ہوا۔اس کے تحت دونوں میں لڑائی بند ہوگئی اور اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کے حق خود مختاری اور خود آزادی کو قانونی طور پر تسلیم کرتے ہوئے عام استصواب رائے پر مشتمل قراردادیں13اگست1948ء اور5جون1949ء کو پاس کیں جن کو دو فریقین انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں نے تسلیم کیا ۔حکومت انڈیا کی طاقت کے استعمال پر مبنی استبدادی پالیسی نیز اقوام متحدہ کی بے بسی کی بنا پر ان قراردادوں پر ابھی تک عمل درآمد نہ کرایا جا سکا  ۔1948ء سے1953ء تک ہندوستان استصواب کی بات کو ٹالتا رہا لیکن8اکتوبر 1953ء کو شیخ عبداﷲ کو کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے برخاست کر دیا گیا اور ہندوستان استصواب کے وعدے سے مکمل ظور پر منحرف ہوگیا.۔
  1962ء میں چین کے ساتھ لڑائی پر ہندوستان نے وعدہ کیا کہ اگر پاکستان نے کشمیر پر حملہ نہ کیا تو وہ اس مسئلہ کو حل کر دے گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اپنے وعدے سے مکر گیا مارچ1965ء میں ہندوستان کی اسمبلی نے الحاق کا بل پاس کر دیا جس کے تحت کشمیر ہندوستان کا صوبہ بن گیا نتیجہ یہ ہوا کہ ستمبر1965ء میں ہندوستان سے لڑائی چھڑ گئی 10جنوری1966ء تاشقند کا صلح نامہ ہوا اور اچھے دوستوں کی طرح رہنے کے عہدو پیمان کے ساتھ ہندوستان کے سر سے بلائے ناگہانی ٹل گئی ۔اس صلح نامے سے پاکستان میں بڑی بددلی پھیلی اور مسئلہ کشمیر جوں کا توں رہا۔ 1971ء کو پاکستان دولخت ہوا اور ہندوستان اور پاکستان کے مابین شملہ معاہدہ ہوا کشمیر کے عوام اپنی سرزمین پر ہندو کے قبضے کے بعد سے ہی اپنی خود مختاری کے حوالے سے پر امن جدوجہد کے خواہاں رہے ہیں۔
   1989ء کے موسم گرما کے بعد سے کشمیری جدوجہد کو ایک خاص سمت ملی حکومت ہند نے مذکورہ عوامی تحریک کی شروعات کے بعد سے مختلف غیر انسانی اور دہشت پسندی پر مشتمل اقدامات کا سہارا لیا ہے اور اب تک یونیفارم پوش ہزاروں بے دفاع لوگوں کے قتل ،خواتین کی آبرو ریزی ،کروڑوں روپے کے اموال کی تباہی ،مقدس مقامات کی بے حرمتی اور بے گناہ لوگوں کی گرفتاری سے جیلوں کو بھر رہے ہیں۔
  بھارت گزشتہ 71برس سے دنیا میں ایک غلط تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیری عوام کوئی بے چین نہیں ہیں اور یہ پاکستان ہے جو اپنے تربیت یافتہ لوگوں اور اسلحہ کی ترسیل کے ذریعے متحرک ہے اور در اندازی کا مرتکب ہو رہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ لاکھوں مردوں عورتوں اور بچوں کا ہجوم کشمیر کی سڑکوں پر احتجاج اور مظاہرے کر رہا ہے اور بھارتی فوج کی ان معصوم بے گناہ کشمیریوں پر فائرنگ سے روزانہ کشمیری نوجوان شہید ہو رہے ہیں ۔ہڑتالوں میں تمام بازار ،دفاتر اور بینک بند ہوتے ہیں کیا یہ سب پاکستانی ایسا کرتے ہیں ؟۔
 دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والی حکومت کو اس حقیقت پر غور کرنا چاہیے کہ آخر کیوں اس کے زیر تسلط علاقوں میں پندرہ اگست ان کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اگر وہ کھلے اور زندہ ضمیر کے ساتھ اس شرمناک صورتحال کے بارے میں سوچے تو اسے صحیح نتیجے تک پہنچنے میں زیادہ تگ و دو نہیں کرنے پڑے گی کیونکہ آزادی جہاں اپنے لئے ضروری خیال کی جاتی ہے وہاں دوسروں کی آزادی کا احترام بھی جوش و جذبے کے ساتھ کرنا ہی جمہوریت پسندی اور جمہوری اقدار کا احترام سمجھا جاتا ہے ۔سب باشعور ،ذی فکرو دانش ،جمہوریت نواز اور انصاف طبائع اس حقیقت و صداقت سے منکر نہیں ہو سکتیں کہ دوسروں کی آزادی غصب کرنا اور خود آزادی کے جشن منانا ایک کھوکھلا اور بے معنی فعل ہے ۔امسال بھی اہل کشمیر نے بھارت کے یوم آزادی کی تقریبات میں حصہ نہ لے کر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کیلئے آزادی کا دن وہی ہو گا جس دن وہ اپنے حق خود اختیاری سے بہرہ ور ہو سکیں گے ۔

تازہ ترین خبریں

میرے پاس جنات ہیں ، مروا دوں گا، لاہور میں باپ بیٹی کے درمیان خوف کی فضا میں کیا کام ہو تا رہا ؟ 

میرے پاس جنات ہیں ، مروا دوں گا، لاہور میں باپ بیٹی کے درمیان خوف کی فضا میں کیا کام ہو تا رہا ؟ 

براڈشیٹ پرچینی چوری والا طریقہ واردات استعمال کیا جارہاہے ،اسحاق ڈار

براڈشیٹ پرچینی چوری والا طریقہ واردات استعمال کیا جارہاہے ،اسحاق ڈار

حکومت اسرائیلی اور بھارتی فنڈنگ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کررہی ہے،(ن)لیگ

حکومت اسرائیلی اور بھارتی فنڈنگ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کررہی ہے،(ن)لیگ

الیکشن کمیشن کی فیصل واوڈا کو آخری وارننگ

الیکشن کمیشن کی فیصل واوڈا کو آخری وارننگ

عدالت کا انٹرنیٹ سروس کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کا حکم

عدالت کا انٹرنیٹ سروس کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کا حکم

پہلے میری پیشانی پر بوسہ لیا، پھر کہا کلمہ پڑھو، پھر کہا اپنی زبان نکالو، میں  نے کہا ۔۔۔۔

پہلے میری پیشانی پر بوسہ لیا، پھر کہا کلمہ پڑھو، پھر کہا اپنی زبان نکالو، میں نے کہا ۔۔۔۔

فرخ حبیب نےمریم ،بلاول اورمولانا کو آئینہ دکھا دیا

فرخ حبیب نےمریم ،بلاول اورمولانا کو آئینہ دکھا دیا

’’آئیں ۔۔ بائیں ۔۔۔ شائیں ‘‘اسمبلیاں جعلی ہیں تو مولانا کے فرزند اسمبلی کا حصہ کیوں ؟ 

’’آئیں ۔۔ بائیں ۔۔۔ شائیں ‘‘اسمبلیاں جعلی ہیں تو مولانا کے فرزند اسمبلی کا حصہ کیوں ؟ 

متنازع بنگلہ دیشی رائٹرتسلیمہ نسرین نے پاکستان کے خلاف ایسی بات کہہ دی جس سےپاکستانی غصے سے لال پیلے ہوگئے

متنازع بنگلہ دیشی رائٹرتسلیمہ نسرین نے پاکستان کے خلاف ایسی بات کہہ دی جس سےپاکستانی غصے سے لال پیلے ہوگئے

 پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے،وزیرخارجہ

پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے،وزیرخارجہ

 حکمران الٹے بھی لٹک جائیں مجھ پرکرپشن ثابت نہیں کرسکتے،شہبازشریف

حکمران الٹے بھی لٹک جائیں مجھ پرکرپشن ثابت نہیں کرسکتے،شہبازشریف

مانیٹری پالیسی کا اعلان 22جنوری کو ہوگا

مانیٹری پالیسی کا اعلان 22جنوری کو ہوگا

ملک پر مسلط نااہل ٹولے نے عوام کا جینا حرام کردیا،مریم اورنگزیب

ملک پر مسلط نااہل ٹولے نے عوام کا جینا حرام کردیا،مریم اورنگزیب

وزیراعظم اوربابراعوان کی ملاقات، سینیٹ و قومی اسمبلی کے اجلاس جمعہ کو بلانے پر اتفاق

وزیراعظم اوربابراعوان کی ملاقات، سینیٹ و قومی اسمبلی کے اجلاس جمعہ کو بلانے پر اتفاق