03:37 pm
سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان

سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان

03:37 pm

سعودی عرب کے ولی عہد محترم محمد بن سلمان ایک ایسے وقت میں دوروزہ دورے پر پاکستان تشریف لائے جب خطہ شدید کشیدگی کا سامنا کررہا تھا۔ پاکستان کو اس  وقت داخلی و خارجی مشکلات کا سامنا ہے، معیشت مسائل کا شکار ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے گزشتہ ماہ دو دو ارب ڈالر ملنے کے باوجود پاکستان کا مالیاتی خسارہ برقرار ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر  8.2ارب ڈالر ہیں، جو محض دو ماہ کی درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے کافی ہے، یہ ہیں وہ مشکلات جنھیں بیان کرنے کے لیے زرمبادلہ کی طرح لفظ بھی کم پڑجاتے ہیں۔ تاہم گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے یہ بیان دیا تھا کہ مالیاتی استحکام آچکا اور معاشی بحران ٹل گیا ہے، ان کی بات پر اعتبار کے سوا چارہ نہیں تھا۔ لیکن ہم اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ تین سالہ اقتصادی پروگرام کے معاہدے پر بات کررہے ہیں، وزیر اعظم عمران خان جسے آخری آپشن قرار دیتے رہے ہیں۔ 
 
جون 2017میں محض 31برس کی عمر میں محمد بن سلمان کی ولی عہد کے منصب پر تقرری نے دنیا کو حیران کردیا۔ ان کی متحرک شخصیت اور امور ریاست کو اپنے خاص انداز میں چلانے کی ان کی صلاحیت نے اس حیرانی کو دو چند کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے روایتی  نظام قانون میں اصلاحات کے عزم کا اظہار کیا۔ منصب سنبھالنے کے بعد ملکی مستقبل اور عوام کی طرز زندگی میں بہتری سے متعلق ان کے اقدامات جلد ہی شہ سرخیوں میں آنے لگے۔ ان کی زیر قیادت سعودی عرب تیل پر انحصار کرنے والی معیشت سے آگے بڑھ کر ایک متنوع معاشی پروگرام کی جانب بڑھا۔ سعودی وژن2030دراصل سلطنت کا تیل پر انحصار کم کرنے اور خدمات کے شعبوں؛ تعلیم ، انفرااسٹرکچر، صحت، سیاحت، وغیرہ جیسی معاشی و سرمایہ کارانہ سرگرمیوں کے فروغ اور تیل کے علاوہ دیگر مصنوعات کی برآمدات میں بھی اضافے کا ایک جامع روڈ میپ ہے۔ 
مفاہمت کی یادداشتوں(ایم او یوز) کو عام طور پر غیر یقینی تصور کیا جاتا ہے، اس کے باوجود پاکستان کے ساتھ 20ارب ڈالر کے ہونے والے حالیہ معاہدے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے آئے ہیں۔  پاکستان سعودی عرب کے معاشی اور اسٹریٹجک شراکت داروں میں شامل ہے۔ قلیل المیعاد ، وسط مدتی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے انتہائی اہم معاہدے طے پائے ہیں۔ گوادر میں آرامکو کی دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے آئل ریفائنری کا قیام ، اے سی ڈبلیو اے پاؤر کی ری نیوایبل انرجی کے شعبے میں 4ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، پیٹروکیمیکل، خوراک اور زراعت کے شعبوں میں ہر ایک میں ایک ارب ڈالر اور معدنیات کے شعبے میں 2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی  جائے گی۔ اسی طرح آئندہ پانچ برسوں میں سعودی عرب کی جانب سے 21ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سمیت کئی دیگر منصوبوں پر بات ہوئی۔ 
پاکستان اس وقت اپنی تیل کی ضروریات کا  70فیصد درآمد کرتا ہے۔ حالیہ دورے میں ہونے والے سبھی معاہدے اہم ہیں تاہم آئل ریفائنری کا قیام اہم ترین پیش رفت ہے۔صفائی شدہ تیل کی قیمتیں خام مال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہیں، ریفائنری کے قیام کے بعد پاکستان بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرنے کے قابل ہوجائے گا جس سے قومی سرمایے کی غیر معمولی بچت ممکن ہوگی۔ متبادل توانائی کے پیدواری منصوبوں میں سرمایہ کاری اس شعبے میں پاکستان کے لیے مختلف اور متنوع امکانات کے در وا کرے گی اور اس کے نتیجے میں فوسل فیول پر ہمارا انحصار بھی کم ہوگا، جس کے ماحولیات پر بھی مثبت اثرات مرتبہ ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق برادر ملک کی جانب سے ہماری دفاعی پیداوار میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے، یہ جنگی طیاروں اور ٹینکوں وغیرہ کی پیداوار کے لیے مہمیز ثابت ہوگی اور نہ صرف پیدوار کا معیار بلند ہوگا بلکہ اداروں کا معاشی حجم بھی بڑھے گا۔ 
وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر نہ صرف معزز مہمان نے سعودی عرب کی جیلوں سے 2107پاکستانیوں کی رہائی کے احکامات جاری کیے بلکہ باقی ماندہ قیدیوں سے متعلق بھی ہمدردانہ جائزہ لینے کی یقین دہانی کروائی۔ جب عمران خان نے سعودی عرب میں بیس لاکھ سے زائد پاکستانی مزدوروں کی مشکلات کا تذکرہ کیا تو نہ صرف ولی عہد نے اس پر دردمندی کا اظہار کیا بلکہ جواباً یہ کہہ کر ’’ہم پاکستان کو ناں نہیں کہہ سکتے‘‘ پاکستانیوں کے دل جیت لیے۔ بدن بولی یا باڈی لینگویج بہت کچھ کہہ جاتی ہے، ولی عہد نے بڑی گرم جوشی سے کہا ’’آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔ آج ہم نے جو کچھ کیا ہے یہ محض شروعات ہیں اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ مختلف منصوبوں میں شراکت مزید بڑھے گی۔‘‘
 دل سے نکلنے والا یہ چند سطری بیان دونوں ممالک کے باہمی مضبوط سفارتی اور بردرانہ تعلقات کا ثبوت ہیں۔ یہ اقدامات خطے کی تاریخ میں نئے باب کے آغاز کی ابتدا ہے۔ اپنے نااہل مشیروں کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں عمران خان کی مقبولیت کم ہورہی تھی، اس دورے کے بعد اچانک وہ دوبارہ اپنا مقام مستحکم کرنے میں کام یاب ہوئے ہیں۔  
اس دورے کی کامیابی کا سہرا پاکستان میں سعودی سفیر جناب نواف بن سعید المالکی کے سر جاتا ہے۔ ولی عہد کے وفد میں زعما کی بڑی تعداد اور سلامتی سے متعلق اہم امور کی ایجنڈے میں شمولیت سے متعلق اس باوقار شخصیت نے جی جان سے محنت کی۔ ایک قابل اور با بصیرت سفارت کار کے طور پر انہوں نے دونوں ممالک کے مابین دلی رشتوں کو مضبوط کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ پاکستان اور سعودی کا رشتہ منفرد اور بہت خاص ہے۔ ولی عہد کے دورے نے ان تاریخی تعلقات کو نئی بلندیاں عطا کی ہیں۔ (فاضل کالم نگار سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں

پنجاب حکومت نے 185ارب روپے مالیت کی زمین قبضے سے چھڑوا لی

پنجاب حکومت نے 185ارب روپے مالیت کی زمین قبضے سے چھڑوا لی

پی ٹی آئی ق لیگ کو ایک سیٹ دینے پر آمادہ

پی ٹی آئی ق لیگ کو ایک سیٹ دینے پر آمادہ

بڑی مچھلیوں کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں شوگر اور گندم اسکینڈل کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچائیں گے ، چیئرمین نیب

بڑی مچھلیوں کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں شوگر اور گندم اسکینڈل کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچائیں گے ، چیئرمین نیب

سیف اللہ کھوکھر کو نوازشریف اور شہبازشریف سے وفاداری کی سزا دی جارہی ہے۔ مریم اورنگزیب

سیف اللہ کھوکھر کو نوازشریف اور شہبازشریف سے وفاداری کی سزا دی جارہی ہے۔ مریم اورنگزیب

پاکستان میں سب سے بڑے شیطان کا نام مولانا فضل الرحمان ہے، اللہ پاکستان کو اس شیطان سے محفوظ رکھیں ۔ غلام سرور خان

پاکستان میں سب سے بڑے شیطان کا نام مولانا فضل الرحمان ہے، اللہ پاکستان کو اس شیطان سے محفوظ رکھیں ۔ غلام سرور خان

ان ہاوس تبدیلی، تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ، پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل طلب

ان ہاوس تبدیلی، تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ، پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل طلب

سیاحتی شعبے کی بہتری کے لیے برینڈ پاکستان لانچ کریں گے۔ زلفی بخاری

سیاحتی شعبے کی بہتری کے لیے برینڈ پاکستان لانچ کریں گے۔ زلفی بخاری

 نالائق وزیر اعظم کی احمق کابینہ ملک کی رسوائی کا باعث ہے ۔ نیئر بخاری

نالائق وزیر اعظم کی احمق کابینہ ملک کی رسوائی کا باعث ہے ۔ نیئر بخاری

 براڈ شیٹ کے لئے تحقیقاتی کمیٹی پر اپوزیشن کا اعتراض بلا جواز ہے۔خود انہوں ننے براڈ شیٹ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اعجاز شاہ

براڈ شیٹ کے لئے تحقیقاتی کمیٹی پر اپوزیشن کا اعتراض بلا جواز ہے۔خود انہوں ننے براڈ شیٹ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اعجاز شاہ

مسلم لیگ ن نےبجلی کی قیمت میں اضافے کو مستردکرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔

مسلم لیگ ن نےبجلی کی قیمت میں اضافے کو مستردکرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔

پی ڈی ایم میں اتحاد و اتفاق برقرار ہے ،حکومت کو گھر بھیجنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری

پی ڈی ایم میں اتحاد و اتفاق برقرار ہے ،حکومت کو گھر بھیجنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری

 ن لیگ قوم کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی، ن لیگ قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرتی تھی۔ فردوس عاشق اعوان

ن لیگ قوم کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی، ن لیگ قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرتی تھی۔ فردوس عاشق اعوان

 ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، اسی سال مہنگائی پر کنٹرول کر لیں گے۔شیخ رشید 

 ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، اسی سال مہنگائی پر کنٹرول کر لیں گے۔شیخ رشید 

اسلام آبادپریس کلب کے باہر گاڑی کی ٹکر سے پولیس کانسٹیبل جاںبحق

اسلام آبادپریس کلب کے باہر گاڑی کی ٹکر سے پولیس کانسٹیبل جاںبحق