02:10 pm
شہیدوں کے نام پر کرپشن

شہیدوں کے نام پر کرپشن

02:10 pm

جب کبھی پی پی پی کے کسی رہنما کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جاتاہے تو ان کے حواری یک زبان ہوکر کہنے لگتے ہیں کہ’’ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے، ہماری شہیدوں کی پارٹی ہے‘‘، اسکی تازہ مثال آغا سراج درانی (اسپیکر سندھ اسمبلی ) کی حالیہ گرفتاری سے دی جاسکتی ہے
جب کبھی پی پی پی کے کسی رہنما کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جاتاہے تو ان کے حواری یک زبان ہوکر کہنے لگتے ہیں کہ’’ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے، ہماری شہیدوں کی پارٹی ہے‘‘، اسکی تازہ مثال آغا سراج درانی (اسپیکر سندھ اسمبلی ) کی حالیہ گرفتاری سے دی جاسکتی ہے۔ ان کے بارے میںسندھ کا ایک عام آدمی اس حقیقت سے واقف اور با خبر ہے کہ آغا سراج درانی نے آصف علی زرداری (ان کے بچپن کے دوست ) کی سرپرستی میں مبینہ طورپر بے پناہ کرپشن کا ارتکاب کیاہے۔ پیسے لے کر تین سو سے زائد افراد کو نوکریاں دی ہیں۔ وہ اپنی مالی حیثیت سے زیادہ کرپٹ انداز میں زندگی بسر کررہے ہیں‘نیب نے انہیں کئی بار طلب کیا لیکن انہوںنے نیب کی طلبی کو خاطر میں نہیں لائے۔ غالباً وہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں کوئی گرفتار نہیں کرسکتاہے، لیکن انہیں اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل سے گرفتار کرکے کراچی لایا گیاہے، جہاں ان کا دس دن کا جسمانی ریمانڈ لیا گیاہے۔ دراصل موجودہ پی پی پی کی قیادت جس میں دونوں باپ بیٹے بھی شامل ہیں ان پر منی لانڈرنگ سے متعلق سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتاہے۔ چنانچہ آصف علی زرداری اپنی گرفتاری سے بچنے کے لئے کبھی سندھ کارڈ استعمال کررہے ہیں تو دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’جیل ان کا دوسرا گھر ہے‘‘ حقیقت یہ ہے کہ آصف علی زرداری اور ان کے کرپٹ دوستوں نے پیپلز پارٹی کا بھٹہ بیٹھا دیاہے۔ اب یہ ایک نظریاتی پارٹی نہیں رہی ہے، جیسا کہ بھٹو مرحوم اور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کی قیادت میں ہوا کرتی تھی۔ پی پی پی میں اول درجے کے اور دوئم درجے کے تمام رہنمائوں نے خوب ناجائز مال بنایا ہے۔ شہیدوں کے نام پر کرپشن کرنے سے گریز نہیں کیا ہے بلکہ وہ کرپشن ہی کو جمہوریت کہتے ہیں۔
 سراج درانی کی گرفتاری کے بعد سندھ اور جو وفاق کے درمیان کشیدہ حالات پیداہوگئے ہیں بلکہ کئے جارہے ہیں۔ آصف علی زرداری سیاست دان نہیں ہیں۔ ان کی وجہ شہرت ایک کرپٹ فرد کی سی ہے۔ اس لئے سندھ کا ایک عام آدمی ان کے لئے کسی قسم کے اچھے جذبات نہیں رکھتاہے۔ محض ان کی پارٹی کے چند خوشامدی عناصر ان کا ساتھ دے رہے ہیں جنہوںنے ان کے سائے میں کرپشن کے ذریعے ناجائز دولت جمع کی ہے۔ مزید براں سندھ میں پیر صاحب پگاراکی پارٹی مسلم لیگ (فنشکنل) بھی اپنا خاصہ اثرورسوخ رکھتی ہے۔ ترقی پسند عناصر اسکے علاوہ ہیں جو زرداری  کی پی پی پی کے نہ صرف خلاف ہیں بلکہ اسکے خلاف الیکشن بھی لڑچکے ہیں، اس لئے آصف زرداری کے لئے یا پھر بلاول زرداری کے لئے سندھ کارڈکامیاب نہیں ہوسکتاہے، نیز اگر ایسی بھونڈی کوشش کی گئی تو اسکے نتائج خود پی پی پی کے لئے مناسب نہیں ہونگے۔
 دراصل آصف علی زرداری اور ان کے حواریوں کی یہ کوشش ہے کہ آغا سراج درانی کی گرفتاری اور اسکے بعد ہونے والی گرفتاریوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جائے تاکہ وفاق کو دبانے کی کوشش کی جائے لیکن ان کی یہ حکمت عملی بھی ناکام ثابت ہوگی کیونکہ مسئلہ ملک کی اقتصادی سا  لمیت کے پس منظر میں کرپشن کو ختم کرنے کا ہے گذشتہ دس سالوں میں پی پی پی نے سندھ میں اپنی حاکمیت کے دوران مبینہ طورپر ایسی سنگین بدعنوانیاں کی ہیں جسکی مثال ماضی میں کہیںنہیں ملتی ہے۔ اگر کسی غیر جانبدار آڈٹ کمپنی سے پی پی پی کے سندھ میں دس سالہ حاکمیت کا آڈٹ کرایا جائے تو ان کے بہت وزراء بھی پس دیوار زنداں نظر آئیں گے نیز زرداری  اور ان کے خوشامدی عناصر لسانیت کو بھی فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ سندھیوں کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں، حالانکہ ان دس سالوں کے دوران ایک غریب سندھی کو پی پی پی کی حکومت نے کچھ بھی نہیں دیا۔ نوکریاںپیسے لے کر دی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں گذشتہ دس سالوں کے دوران عوامی بہبود کاکوئی بڑا پروجیکٹ نہیں لگ سکا ہے۔
کراچی کے حالات سے کون واقف نہیں ہے۔ پی پی پی کی حکومت جان بوجھ کر ایک متعصبانہ حکمت عملی کے ذریعہ شہری سندھ کے باسیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ جب ان پر ان کے اس انداز حکمرانی پر تنقید کی جاتی ہے تو یہ جھوٹ کا سہارا لے کر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے بلا امتیاز سندھ کے عوام کی خدمت کی ہے‘ تاہم اگرایسا ہی ہوتا تو شہری سندھ کے عوام پی پی پی سے اتنا کیوںناراض نظر آتے ہیں۔ دراصل دھواں وہیں سے اٹھتا ہے جہاں آگ لگی ہوتی ہے۔ اب جبکہ نیب ان پر  کرپشن کے الزامات کی روشنی میں گرفت کررہی ہے تو یہ سفید جھوٹ بول کر عوام کی توجہ کرپشن سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ پی پی پی کے بعض خوشامدیوں کا یہ کہنا ہے کہ صرف پی پی پی  کے کچھ ارکان کے خلاف کرپشن کے سلسلے میں کارروائیاں کی جارہی ہیں‘ حالانکہ حقائق اسکے بر عکس ہیں ۔ تحریک انصاف کے نامور افراد اسوقت نیب کے سامنے پیش ہورہے ہیں اور اپنا کیس لڑ رہے ہیں بلکہ بعض تو گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔ ان میں پنجاب کے سینئر وزیرعلیم خان بھی شامل ہیں ۔ اس لئے نیب پر یا پھر وفاقی حکومت پر یہ  الزام عائد کرنا کہ کرپشن کے خلاف کارروائیاں صرف پی پی پی کے رہنمائوںکے خلاف کی جارہی ہیں۔ ایک بے بنیاد لغو اور عصبیت پر مبنی ہے۔ جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ پی پی پی کو زرداری نے مفلوج کردیاہے۔ اب یہ ایک لوٹ مارکرنے کی غیر نظریاتی پارٹی بن چکی ہے  اور صرف سندھ تک محدود ہوکررہے گئی ہے۔
عام انتخابات میں غریب سندھیوں کو دھمکیاں دے کر ووٹ لیا جاتاہے۔ شہیدوں کے نام پر بھی ووٹ لے کر مسند اقتدار بر براجمان ہوجاتے ہیں ۔ اسکے بعد کرپشن کا ’’سنہری دور‘‘ شروع ہوتاہے جو بغیر کسی جانب ے مزاحمت کے بغیر جاری وساری رہتاہے ۔ سندھ کی یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ابھی تک کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں نہیں ہوئی ہیں بلکہ اکثر ان کرپٹ عناصر سے صرف نظر کیا گیا ہے جس کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ سندھ میں اس وقت وڈیروں اور کرپٹ عناصر کا دور دورا ہے۔ اب نیب ان ’’نامور‘‘ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے  تو ان کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ سراج درانی پہلا شخص نہیں ہے جسکے خلاف نیب نے کارروائی کی جارہی ہے۔ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے کئی بڑے ہاتھی جیل جاچکے ہیں باقی جانے کا انتظار کررہے ہیں۔ا ب پی پی پی کے کرپٹ عناصر کی باری ہے۔ اس لئے زرداری گروپ گھبرا کر نیب پرہر قسم کی بے بنیاد الزامات لگا کر عوام کی توجہ کرپشن سے ہٹا کر لسانیت کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جس میں انہیں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔  آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

 

تازہ ترین خبریں

ای پاسپورٹ سے انسانی سمگلنگ روکنے میں بڑی مدد ملے گی،شیخ رشید

ای پاسپورٹ سے انسانی سمگلنگ روکنے میں بڑی مدد ملے گی،شیخ رشید

میرے پاس جنات ہیں ، مروا دوں گا، لاہور میں باپ بیٹی کے درمیان خوف کی فضا میں کیا کام ہو تا رہا ؟ 

میرے پاس جنات ہیں ، مروا دوں گا، لاہور میں باپ بیٹی کے درمیان خوف کی فضا میں کیا کام ہو تا رہا ؟ 

براڈشیٹ پرچینی چوری والا طریقہ واردات استعمال کیا جارہاہے ،اسحاق ڈار

براڈشیٹ پرچینی چوری والا طریقہ واردات استعمال کیا جارہاہے ،اسحاق ڈار

حکومت اسرائیلی اور بھارتی فنڈنگ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کررہی ہے،(ن)لیگ

حکومت اسرائیلی اور بھارتی فنڈنگ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کررہی ہے،(ن)لیگ

الیکشن کمیشن کی فیصل واوڈا کو آخری وارننگ

الیکشن کمیشن کی فیصل واوڈا کو آخری وارننگ

عدالت کا انٹرنیٹ سروس کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کا حکم

عدالت کا انٹرنیٹ سروس کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کا حکم

پہلے میری پیشانی پر بوسہ لیا، پھر کہا کلمہ پڑھو، پھر کہا اپنی زبان نکالو، میں  نے کہا ۔۔۔۔

پہلے میری پیشانی پر بوسہ لیا، پھر کہا کلمہ پڑھو، پھر کہا اپنی زبان نکالو، میں نے کہا ۔۔۔۔

فرخ حبیب نےمریم ،بلاول اورمولانا کو آئینہ دکھا دیا

فرخ حبیب نےمریم ،بلاول اورمولانا کو آئینہ دکھا دیا

’’آئیں ۔۔ بائیں ۔۔۔ شائیں ‘‘اسمبلیاں جعلی ہیں تو مولانا کے فرزند اسمبلی کا حصہ کیوں ؟ 

’’آئیں ۔۔ بائیں ۔۔۔ شائیں ‘‘اسمبلیاں جعلی ہیں تو مولانا کے فرزند اسمبلی کا حصہ کیوں ؟ 

متنازع بنگلہ دیشی رائٹرتسلیمہ نسرین نے پاکستان کے خلاف ایسی بات کہہ دی جس سےپاکستانی غصے سے لال پیلے ہوگئے

متنازع بنگلہ دیشی رائٹرتسلیمہ نسرین نے پاکستان کے خلاف ایسی بات کہہ دی جس سےپاکستانی غصے سے لال پیلے ہوگئے

 پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے،وزیرخارجہ

پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے،وزیرخارجہ

 حکمران الٹے بھی لٹک جائیں مجھ پرکرپشن ثابت نہیں کرسکتے،شہبازشریف

حکمران الٹے بھی لٹک جائیں مجھ پرکرپشن ثابت نہیں کرسکتے،شہبازشریف

مانیٹری پالیسی کا اعلان 22جنوری کو ہوگا

مانیٹری پالیسی کا اعلان 22جنوری کو ہوگا

ملک پر مسلط نااہل ٹولے نے عوام کا جینا حرام کردیا،مریم اورنگزیب

ملک پر مسلط نااہل ٹولے نے عوام کا جینا حرام کردیا،مریم اورنگزیب