02:28 pm
بھارت کی نئی فتنہ انگیزی!

بھارت کی نئی فتنہ انگیزی!

02:28 pm

٭بھارت فتنہ انگیزی سے باز نہ آیا۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ روز (منگل) بھارت کے کچھ جنگی طیارے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن عبور کرکے مظفر آباد سیکٹر کی فضا میں تین چار میل اندر آگئے ، پاک فضائیہ کے طیاروں نے فوری تعاقب کیا تو بھارتی طیارے اپنا پے لوڈ( فالتو تیل) کھلی جگہ پر پھینک کرواپس بھا گ گئے۔ پریس ریلیز کے مطابق کسی قسم کاکوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ بھارت کے سرکاری ترجمانوں نے حسب معمول اپنے انداز میں مختلف دعوے کیے ہیں۔ پلوامہ کے واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت میں سخت کشیدگی پیداہوچکی ہے۔ سرحدی خلاف ورزی نے اسے مزید ہوادے دی ہے اور صورت حال سنگین ہوگئی ہے۔ دہلی اور اسلام آباد میں اعلیٰ سطح پر اجلاس طلب کرلیے گئے۔ دونوں جگہ ملکوں کے وزرائے اعظم نے اجلاسوں کی صدارت کی۔ بھارت کی حکومت نے ملک بھر میں اہم اقدامات کا اعلان کیاہے،ایئر فورس کے تمام اڈوں اور چھاؤنیوں کو ہائی الرٹ کا حکم دیاگیا ہے۔ چندی گڑھ کے عام مسافروں کے اڈے کو بھی جنگی اڈے میں تبدیل کردیاگیاہے۔ ظاہر ہے اِدھرپاکستان میں بھی تمام متعلقہ حلقے پوری طرح چوکس اور مستعد ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کے کسی بھی پاگل پن سے صورت خطرناک شکل اختیارکر سکتی ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ چین، عرب اور دوسرے ممالک اس صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو مکمل اطمینان ہے کہ اس کی بہادر ، دلیر افواج اس ساری صورت سے پوری طرح باخبر اور مستعد ہیں۔ 
 
٭بھارتی دعوے جو بھی ہوں مگر سرحد کی خلاف ورزی نہائت سنگین بات ہے۔ صرف دو روز پہلے بھارتی وزیراعظم مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کے وزیراعظم کی طرف کے نمائندہ ڈاکٹر رمیش کمار سے پر تپاک ملاقاتیں کیں۔ ڈاکٹر رمیش نے واپس آکر اطمینان کااظہار کیا کہ ان حالیہ ملاقاتوں کے بارہ گھنٹے بعد بھارتی حکمرانوں کا لہجہ اور رویہ مثبت رُخ اختیار کرلیا ہے۔اور ’’مثبت‘‘ رُخ یہ سامنے آیا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملے کااعتراف کررہاہے اور پورے ملک میں جشن منایا جارہاہے۔ بھارت کے بڑے بڑے اپوزیشن لیڈر بھی بھارتی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ادھر پاکستان میں یہی حال ہے،بھارتی جارحیت کے خلاف سب سے پہلی آواز ہی اپوزیشن لیڈروں شیری رحمان اورسندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی طرف سے اٹھی ہے۔ بھارت نے یہ کارروائی ایسے موقع پر کی ہے جب پلوامہ وغیرہ کی صورت حال کے بارے میں ابو ظہبی میں صرف دو روز کے بعد اسلامی وزرائے خارجہ کااجلاس منعقد ہورہاہے۔ اس میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی آرہی ہے۔ اس مجوزہ اجلاس کا تو اصل ایجنڈا ہی تبدیل ہوگیاہے۔ کچھ کہانہیں جا سکتا کہ اچانک کوئی اور نیاواقعہ پیش آجائے اور ایجنڈا بالکل ہی تبدیل ہو جائے!
٭بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ملک میں عام انتخابات میں کامیابی کےلیے اس ساری صور ت حال کو اپنے حق میں استعمال کررہاہے۔ مودی کا پورانام ’نریندرادامودر داس مودی‘ ہے۔ نریندرا ہندو دیوتا کرشن چندر کا ایک نام ہے۔ دامودر بچھو یا سانپ کے کاٹے کا علاج کرنے والے کو کہتے ہیں۔ داس کے معنی بند ہ کے ہیں۔ مودی لوگ ہندوؤں کے ذات پات کے نظام میں تیسرے درجے پر آتے ہیں۔ پہلے درجے پر برہمن اوردوسرے درجے پر کھتری یا کشتری ( راجپوت وغیرہ) جوفوج میں جاتے ہیں، تیسرے درجہ کاروباری اور ملازمت پیشہ لوگوں کا اور چوتھا درجہ اچھوت کا ہے۔ اچھوت کے معنی ہیں ایسا شخص جسے چھُوا نہ جائے۔ مودی تیسرے درجے سے تعلق رکھتا ہے۔ ریلوے سٹیشن پر چائے بیچا کرتا تھا ۔ کرشن کی ماں کا نام یشودھا تھا،مودی کی بیوی کا نام یشودھا ہے۔ وہ ایک چھوٹے سکول میں استانی تھی ، اب بھی گجرات کے ایک گاؤں میں اسی طرح رہ رہی ہے۔ مودی نے اسے خاتون اوّل کا درجہ نہیں دیا۔
٭مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کئی برس تک کشمیریوں کے خلاف نریندر مودی کی حکومت کی کارروائیوں میں شریک رہی۔ معاملات مودی حکومت کے قابو سے باہر ہونے لگے تو وزیراعلیٰ کے عہدے سے الگ ہوکر کشمیری عوام کی ’’دردمند‘‘ ترجمان بن گئی ہے اور بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں پر ہائے وائے کررہی ہے۔ گزشتہ روز پاکستان کے ایک ٹیلی ویژن کو سری نگر سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پلوامہ کے واقعہ کے بعد بھارت کی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے ہزاروں کشمیری طلبا کو نکال دیاگیاہے وہ واپس آگئے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ میں نے کشمیرمیں نریندر مودی کے ساتھ مل کر حکومت بناتے وقت شرط منوائی تھی کہ اس علاقے کے 72 مقامات پر سے بھارتی فوج ہٹالی جائے گی مگر اس پر عمل نہیں ہوا( 10ہزار کا مزید اضافہ کردیاگیا ہے) محبوبہ( نام ہی عجیب ہے) نے زور دیا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بھارت، پاکستان اور کشمیری رہنماؤں میں مذاکرات ہونے چاہئیں۔یہ خاتون چار سال تک نریندر مودی کی ترجمان بنی رہی ، اسے مذاکرات کی بات نہ سمجھائی۔اب تخت سے اتری ہے تو کشمیریوں سے محبت امڈ پڑی ہے۔
٭تھوڑی دیر کے لیے کچھ دوسری باتیں: ایک خبر کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان میں خاموشی کے ساتھ ترقیاتی فنڈز کے نام پر 24 ارب روپے، دہراتا ہوں چوبیس ارب روپے تقسیم کردیئے گئے ہیں۔ اسمبلی میں تحریک انصاف کے 156 ارکان ہیں صرف ان میں 24ارب روپے تقسیم کیے جائیں تو عمران خان سمیت فی ممبر حصے میں15 کروڑ38 لاکھ 61 ہزار روپے آتے ہیں۔ اسمبلی میںحکومتی اتحادیوں کوبھی شامل کرلیا جائے تو کل تعداد 177بنتی ہے۔ ان میں یہ رقم فی کس 13 کروڑ 56 لاکھ بنتی ہے۔ عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران حکومتی ارکان میں اس لوٹ مار کو اندھے کی ریوڑیاںاور واضح لوٹ مار قراردیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی قومی خزانے کی اس بندر بانٹ کو غلط قراردیا ۔ اقتدار اٹھا تے وقت عمران خان نے دہرایا کہ یہ لوٹ مارنہیں ہو گی۔ مگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے اکادُکا ووٹوں کی محتاجی اور ’میں چلی میکے‘‘ کی دھمکیوں نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور پھر مال مفت دل بے، رحم ! اب ٹھیکیداروں کے بنک اکاؤنٹس اور انہیں ٹھیکے دینے والے ارکان کی تجوریاں بھریں گی۔ گلیاں ، نالیاں بنانے ،صفائی وغیرہ کے کام بلدیاتی اداروں کے ہوتے ہیں، اب ارکان اسمبلی کا جھاڑو پھرے گا! حلوائی کی دکان ناناجی کی فاتحہ! خدا کا کوئی خوف! کوئی پوچھنے والا نہیں!
٭ایک خبر: بدین( سندھ) میں مقامی جاگیردار پیپلزپارٹی کے رہنما علی بخش ، پپوشاہ کے بیٹے کے ولیمہ میں کسی بات پر مہمان آپس میں لڑ پڑے۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر قریبی دیہات کے غریب بھوکے قحط زدہ دیہاتی کھانے کی ساری دیگیں اٹھاکر لے گئے!
٭بھارت کے صوبہ مدھیہ پردیش کے ایک گاؤ ں ٹیکم گڑھ میں ایک تحصیل دار نے غریب دیہاتی سے ایک لاکھ روپے رشوت مانگی ۔ اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ اس نے اپنی بھینس لا کر تحصیل دار کی جیپ کے ساتھ باندھ دی۔ شور مچ گیا۔ نتیجہ: تحصیل دار حوالات کے اندر سے حسرت کے ساتھ بھینس کو دیکھتا رہا!

تازہ ترین خبریں

سیکورٹی فورسز کا شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خفیہ آپریشن ، 5 دہشت گرد مارے گئے

سیکورٹی فورسز کا شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خفیہ آپریشن ، 5 دہشت گرد مارے گئے

پنجاب حکومت نے 185ارب روپے مالیت کی زمین قبضے سے چھڑوا لی

پنجاب حکومت نے 185ارب روپے مالیت کی زمین قبضے سے چھڑوا لی

پی ٹی آئی ق لیگ کو ایک سیٹ دینے پر آمادہ

پی ٹی آئی ق لیگ کو ایک سیٹ دینے پر آمادہ

بڑی مچھلیوں کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں شوگر اور گندم اسکینڈل کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچائیں گے ، چیئرمین نیب

بڑی مچھلیوں کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں شوگر اور گندم اسکینڈل کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچائیں گے ، چیئرمین نیب

سیف اللہ کھوکھر کو نوازشریف اور شہبازشریف سے وفاداری کی سزا دی جارہی ہے۔ مریم اورنگزیب

سیف اللہ کھوکھر کو نوازشریف اور شہبازشریف سے وفاداری کی سزا دی جارہی ہے۔ مریم اورنگزیب

پاکستان میں سب سے بڑے شیطان کا نام مولانا فضل الرحمان ہے، اللہ پاکستان کو اس شیطان سے محفوظ رکھیں ۔ غلام سرور خان

پاکستان میں سب سے بڑے شیطان کا نام مولانا فضل الرحمان ہے، اللہ پاکستان کو اس شیطان سے محفوظ رکھیں ۔ غلام سرور خان

ان ہاوس تبدیلی، تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ، پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل طلب

ان ہاوس تبدیلی، تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ، پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل طلب

سیاحتی شعبے کی بہتری کے لیے برینڈ پاکستان لانچ کریں گے۔ زلفی بخاری

سیاحتی شعبے کی بہتری کے لیے برینڈ پاکستان لانچ کریں گے۔ زلفی بخاری

 نالائق وزیر اعظم کی احمق کابینہ ملک کی رسوائی کا باعث ہے ۔ نیئر بخاری

نالائق وزیر اعظم کی احمق کابینہ ملک کی رسوائی کا باعث ہے ۔ نیئر بخاری

 براڈ شیٹ کے لئے تحقیقاتی کمیٹی پر اپوزیشن کا اعتراض بلا جواز ہے۔خود انہوں ننے براڈ شیٹ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اعجاز شاہ

براڈ شیٹ کے لئے تحقیقاتی کمیٹی پر اپوزیشن کا اعتراض بلا جواز ہے۔خود انہوں ننے براڈ شیٹ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اعجاز شاہ

مسلم لیگ ن نےبجلی کی قیمت میں اضافے کو مستردکرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔

مسلم لیگ ن نےبجلی کی قیمت میں اضافے کو مستردکرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔

پی ڈی ایم میں اتحاد و اتفاق برقرار ہے ،حکومت کو گھر بھیجنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری

پی ڈی ایم میں اتحاد و اتفاق برقرار ہے ،حکومت کو گھر بھیجنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری

 ن لیگ قوم کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی، ن لیگ قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرتی تھی۔ فردوس عاشق اعوان

ن لیگ قوم کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی، ن لیگ قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرتی تھی۔ فردوس عاشق اعوان

 ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، اسی سال مہنگائی پر کنٹرول کر لیں گے۔شیخ رشید 

 ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، اسی سال مہنگائی پر کنٹرول کر لیں گے۔شیخ رشید